تاریخ کی گواہی یہی ہے کہ ہر قوم کی زندگی میں ایک دن ایسا ضرور آتا ہے جب وہ اپنے تشخص اور شناخت کو ساری دنیا کے سامنے اجاگر کرتی ہے اور جس پر گردش ماہ و سال اثرانداز نہیں ہو سکتی۔ اہل وطن نے اس حوالے سے اگرچہ کئی سنگ میل عبور کئے لیکن ان میں 28 مئی 1998ء کا دن ایک الگ پس منظر رکھتا ہے۔ اس روز پاکستان نے اپنے روایتی حریف بھارت کی طرف سے چند روز پہلے کئے گئے 5 ایٹمی دھماکوں کے جواب میں یکے بعد دیگرے 7 ایٹمی دھماکے کئے اور یوں دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز بھی کچھ ایسے ہی حالات میں اس وقت ہوا تھا جب بھارتی حکومت نے پوکھران میں ایٹمی تجربہ کیا اور اس کو پرامن ایٹمی تجربے سے تعبیر کیا۔ اس وقت کے وطن عزیز کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاسی دور اندیشی اور بصیرت کی بناء پر اس حقیقت کا ادراک کر لیا تھا کہ بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کا سلسلہ جس کو سقوط مشرقی پاکستان سے مہمیز میسر آئی ہے، یہاں پر رکنے والا نہیں چنانچہ بھٹو صاحب نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد اب ہمارے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا کہ ہم بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کریں۔ انہوں نے اسی پس منظر میں یہ بھی کہا کہ صرف اسلامی دنیا ہی ایٹمی صلاحیت سے محروم ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم یہ صلاحیت حاصل کریں خواہ اس کے لئے ہمیں گھاس پھونس ہی کیوں نہ کھانی پڑے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھٹو صاحب نے ہی حقیقی معنوں میں ایٹمی پروگرام کی خشت اول رکھی۔ ان کے ایماء پر ہی ہالینڈ سے ایک انتہائی باصلاحیت میٹرالوجسٹ، ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے پاکستان واپس آکر اپنی خدمات اور صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لئے بروئے کار لانے پر آمادگی ظاہر کی۔ مشکل یہ آن پڑی تھی کہ ایک طرف تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو برق رفتاری کے ساتھ اور کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتے تھے لیکن دوسری طرف چند ننگ وطن، ننگ آدم اور ننگ دیں عناصر ان کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہے تھے۔ بھٹو صاحب کو ان احوال کا علم ہوا تو انہوں نے ایٹمی پروگرام کو ان عناصر سے آزاد کرکے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سپرد کر دیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اپنے تجربے، معلومات، صلاحیتوں اور رابطہ کاری پر اتنا اعتماد تھا کہ انہوں نے ایک طرف تو کہوٹہ میں یورینیم کی افزودگی کے پلانٹ کے قیام کا آغاز کیا اور دوسری طرف سہالہ سمیت مختلف مقامات پر اس کے پائلٹ پراجیکٹ پر کام شروع کر دیاحالانکہ طریقہ کار یہی ہے کہ پہلے پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا جاتا ہے اور اس کے بعد وسیع اور جامع پیمانے پر اصل پراجیکٹ کو شروع کرنے کا مرحلہ آتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دنیا بھر سے باصلاحیت پاکستانیوں کو کہوٹہ میں لا کر جمع کیا اور دوسری طرف مطلوبہ ساز و سامان کے حصول کے لئے مروجہ قوانین کی حدود کے اندر رہتے ہوئے شاپنگ کے مراحل طے کیے۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ کہوٹہ پراجیکٹ 1976ء میں شروع کیا گیا اور صرف 10 برس کے قلیل عرصے میں اس نے نہ صرف یورینیم کی افزودگی بلکہ ایٹم بم کی تیاری کے لئے مطلوبہ مراحل طے کر لئے۔ جب اس وقت کے صدر مملکت، ضیاء الحق کو کہوٹہ کے دورے اور معائنے کے موقع پر اس تاریخی حقیقت سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے اس ادارے کا نام کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز سے تبدیل کرکے ڈاکٹر عبدالقدیر خان ریسرچ لیبارٹریز رکھنے کا اعلان کر دیا۔ یہ دنیا بھر میں ایک واحد اور منفرد مثال رہی کہ کسی سائنسدان کی زندگی میں اس ادارے کا نام اس کے نام سے منسوب اور موسوم کر دیا جائے جس میں وہ خود ہنوز خدمات انجام دے رہا ہو۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ہوشربا داستان کسی طرح دیومالائی کہانی سے کم نہیں۔ ایک طرف محب وطن عناصر تھے جو ایٹمی پروگرام کی کامیابی کے لئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر مصروف جدوجہد تھے۔ ان میں صرف کہوٹہ کے ہنر مند، ماہرین، ٹیکنیشنز اور سائنسدان ہی شامل نہیں تھے بلکہ بیوروکریسی، سفارتی اہلکار، سرکاری افسران، عساکروطن اور دیگر بے شمار گم نام افراد شامل تھے جن کو ہر اعتبار سے ہیرو کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں غیر ملکی طاقتیں، خاص طور پر امریکہ، اسرائیل اور بھارت اس پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے لئے اپنے تمام حربے استعمال کر رہی تھی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب بھارت نے اسرائیلی فضائیہ کی مدد سے کہوٹہ پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی اور وہ وقت تو بلاشبہ ناقابل فراموش ہے جب امریکی حکومت نے کہوٹہ کی مانیٹرنگ کے لئے کیمرے لگانے کا مطالبہ کر دیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ ڈاکٹر ہنری کسنجر نے بھٹو صاحب کو دوٹوک الفاظ میں دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان کا ایٹمی پروگرام ختم نہ کیا گیا تو آپ (بھٹو صاحب) کو عبرت کی مثال بنا دیا جائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا یعنی بھٹو صاحب نے 1976ء میں ایٹمی پروگرام شروع اور ایک برس کے بعد ان کی حکومت ختم کر دی گئی اور اس سے دو برس بعد یعنی 1979ء میں وہ راولپنڈی کی سنٹرل جیل میں دار و رسن کی آزمائش میں سرخرو ہوئے۔
بعدازاں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ بھی انتہائی ناروا سلوک کیا گیا۔ ان کو زبردستی یہ اقرار اور اعلان کرنے پر مجبور کیا گیا کہ انہوں نے پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی بعض غیر ممالک کو فروخت اور فراہم کی۔ کسی بھی ذی شعور اور باشعور شخص نے اس واقعہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ایک عام سا سوال یہ رہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے تن تنہا ایٹمی ٹیکنالوجی یا سازو سامان کسی غیر ملک کو کیسے فراہم کر دیا۔ اہل وطن کے لئے یہ انکشاف بھی دکھ اور ملال کا باعث ہوا کہ ایک مرحلے پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکہ کے حوالے کرنے کے انتظامات مکمل کر لئے گئے تھے لیکن اس وقت کے وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی ایسے غیور اور محب وطن بلوچ کی جرات انکار رنگ لائی اور مذکورہ سازش ناکام ہوگئی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ 28 مئی 1998ء کو بلوچستان کے پہاڑی علاقے چاغی میں 7 ایٹمی دھماکوں کی گونج نے تاریخ میں پاکستان کے عوام کی شناخت اور تشخص کو اجاگر کیا۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ 28 مئی کو منایا جانے والا یوم تکبیر محض ایک دن نہیں بلکہ یہ ہمارے قومی تشخص اور غیرت کی لافانی علامت ہے۔

418
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...