بھارت نیوی کا حاضر سروس افسر کل بھوشن یادیو پاکستان میں جاسوسی کرتا ہوا پکڑا گیا اور اتنے ٹھوس ثبوتوں اور شواہد کے ساتھ پکڑا گیا کہ بھارت ’’را ‘‘کے لیے کام کرنے والے اس افسر کی شناخت سے انکار نہیں کر سکا لیکن اُس نے اپنا کام اور پروپیگنڈا مزید تیز کر دیا ۔ اتفاق سے انہی دنوں ایک بھارتی قیدی کرپال سنگھ کوٹ لکھپت جیل میں مر گیا اور بھارت نے پھر اپنے پُرانے حربے آزمانے شروع کر دیئے ۔ کرپال سنگھ کی لاش وصول کرنے کے بعد بھارت نے الزام لگایا کہ کرپال سنگھ کو تشدد کرکے ہلاک کیا گیا ہے اور اس کے کچھ اعضاء کو کاٹا گیا ہے۔ کر پال سنگھ 1992 میں پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں پکڑا گیا تھا اور تب سے اب تک وہ کوٹ لکھپت جیل میں قید تھا، اسے سزائے موت سنائی گئی تھی جسے بعد میں بیس سال کی قید میں بدل دیا گیا اور اس سال گیا رہ اپریل کو جیل میں ہی اُس کی ہلاکت ہو گئی۔ اُس کی لاش لینے کے لیے اٹاری واہگہ پر اُس کے رشتہ دار پھولوں کے ساتھ موجود تھے جو اس پر نچھاور کیے گئے۔ پاکستانی حکام کے مطابق اُس کی موت دل کے دورے سے ہوئی لیکن اُس کے رشتہ داروں نے الزام لگایا کہ یا تو اُس کے ساتھی قیدیوں نے یا جیل حکام نے اُسے قتل کیا اور اسی الزام کو بھارت میں اُچھالا گیا اور حسب معمول پاکستان کو اس کی موت کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ حالانکہ پاکستان اُسے قتل کرواتا تو بہت پہلے یہ کام کیا جا سکتا تھا جب اُسے گرفتار کیا گیا تھا اس کے لیے اُسے عرصہ دراز تک جیل میں رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ رشتہ داروں کے مطابق اس کے کچھ اعضاء بھی کاٹے گئے جبکہ خود بھارتی ڈاکٹروں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ابھی تک موت کی وجہ کا کوئی تعین نہیں کیا جا سکا ۔ اعضاء موجود نہ ہونے کے بارے میں میڈیکل بورڈ کے سربراہ اشوک شرما کا کہنا تھا کہ چونکہ پاکستان میں پوسٹ مارٹم ہو چکا تھا اور پوسٹ مارٹم کے لیے کچھ اعضاء لینے پڑتے ہیں جو کہ یہی غیر موجود اعضا ء ہو سکتے ہیں کیونکہ لاش پر ٹانکے موجود تھے ڈاکٹر اشوک کے مطابق باقی کے اعضاء سے انہیں آٹوپسی کے لیے نمونے لینے پڑے۔ کرپال سنگھ کی موت تو ایک واقعہ ہے جسے بھارت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہا ہے اور اسے اپنا جاسوس ماننے سے بھی انکاری ہے ورنہ اُس کا عام رویہ بھی یہی ہے کہ اپنے کارندوں سے اسی طرح کام لیتا ہے اکثر اُن میں گرفتار بھی ہوتے ہیں پاکستانی جیلوں میں سالہا سال پڑے رہتے ہیں اور جب یہی پر اُن کی موت واقع ہوتی ہے تو پھر پاکستان کے خلاف واویلا شروع کر دیتا ہے یعنی مرنے کے بعد اُنہیں اپنے لیے کام کرتے اور جیل کاٹتے یہ کارندے یاد آجاتے ہیں۔ کرپال سنگھ کی موت کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا کہ وہ سر بجیت سنگھ کی موت کا گواہ تھا جو 2013 میں پاکستانی جیل میں مر گیا تھا اس لیے اُسے مارا گیا۔ اگر ایسا ہوتا تو اُسے سربجیت سنگھ کے ساتھ ہی یا اُس کی موت کے فوراََ بعد بھی مارا جا سکتا تھا اور اس کے لیے کئی طریقے موجود تھے جو استعمال کیے جا سکتے تھے۔ بھارت اپنے ان اہلکاروں کی موت پر تو ان کی مدد کو آجاتا ہے بلکہ ان کی مدد سے زیادہ پاکستان کو موردِ الزام ٹھرانا اُس کا مقصد ہوتا ہے لیکن وہ اپنے اس مشن سے دستبردار ہونے کو ہر گز تیار نہیں کہ پاکستان کے خلاف اپنی کاروائیاں روک دے اور خطے میں ایک پائیدار امن اور خوشگوار فضاء قائم کرنے کی کوشش کرے تاکہ ایسے واقعات پیش آنے اور الزامات لگانے کی نوبت ہی نہ آئے۔ اس کا جارحانہ طرز عمل ہی ہے جس نے خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع کر رکھی ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام ہر وقت خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں، اکثر اوقات ان کی فوجیں سرحدوں پر تیار حالت میں موجود رہتی ہیں ، کسی بھی وقت جنگ چھڑجانے کے خطرات کا اظہار کیا جا رہا ہوتا ہے اور مزید اسلحہ جمع کرنے کے معاہدے ہو رہے ہوتے ہیں۔ بھارت اس وقت بھی اسلحے کے سب سے بڑے خریداروں میں سے ایک ہے جو دنیا کے ہر اسلحہ ساز ملک کا خریدارہے۔ اس کی خفیہ ایجنسی’’ را ‘‘پاس پڑوس کے ملکوں میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص اپنی تخریبی کا روائیوں میں مصروف رہتی ہے۔ پاکستان میں موجود ہ دہشت گردی میں’’ را ‘‘کا ہاتھ مسلمہ ہے اور اس کے کئی شواہد اور ثبوت نہ صرف مل چکے ہیں بلکہ دنیا کو پیش بھی کیے گئے ہیں جن میں سے حالیہ اور بہت بڑی مثال کل بھوشن یادیو کی ہے جس نے بلوچستان میں اپنی کاروائیوں کا اعتراف کیا یہی حال فاٹا اور کراچی کا ہے جہاں بھارتی ایجنسیاں تباہی اور دہشت گردی کی ذمہ دار ہیں اور بے دریغ پاکستانیوں کا خون بہاتی ہیں۔ ملک کے دوسرے علاقے بھی اُس کی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں اور ایسا ہی ایک کردار کرپال سنگھ تھا جس کی ہلاکت کو اب وہ پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے لیے وہ اس کے رشتہ داروں کو استعمال کر رہا ہے۔ بھارت کو اپنے رویے پر نہ صرف نظر ثانی کرنا ہوگی بلکہ دنیا کو بھی اس کے کارناموں سے آگاہ کرنا ہوگا اور حکومت پاکستان کو بھی اپنی صلاحیتوں کو مزید بڑھانا ہوگا تاکہ دشمن کو ملک کے اندر آکر امن و امان خراب کرنے کا موقع نہ ملے اور بھارت کے سامنے ٹھوس ثبوت رکھ کر اُس سے ٹھوس انداز میں بات بھی کرنا ہوگی ۔ہمیں اپنے ملک کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کو زیادہ اہمیت دینا ہوگی نہ کہ دنیا اور پڑوسی کے خوش کرنے کو۔

861
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...