بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں نائیلہ قادری بلوچ نامی ایک خاتون کی شناخت صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ ایک غیر معروف تنظیم ’’ورلڈ بلوچ وویمن فورم‘‘ کی خود ساختہ صدر بنی ہوئی ہے۔ وہ گذشتہ کچھ عرصے سے بھارت میں مقیم ہے اور وہاں پر پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے بھارتی میڈیا کو استعمال کر رہی ہے۔ اس ضمن میں وہ خاص طور پر ان بلوچ تنظیموں کے حق میں آواز بلند کرتی ہے جن کو علیحدگی پسندی اور نفرت انگیز پراپیگنڈہ کرنے کے سبب وطن عزیز میں پابندی کا سامنا ہے۔ حال ہی میں اس خاتون کا ایک مضمون بھارتی اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ میں شائع ہوا ہے جس میں موصوفہ نے نواز شریف حکومت پر یہ الزام عاید کیا ہے کہ وہ بلوچ عوام کی نسل کشی کے جرم کی مرتکب ہوئی ہے چنانچہ بھارتی حکومت کو بلوچستان میں مداخلت کرنی چاہئے۔ اس خاتون نے اسی اخبار کے لئے آرتی تیکو سنگھ کے ساتھ انٹرویو میں تاریخی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بلوچستان پر ’’قبضہ‘‘ کیا تھا اور اب تک بے شمار بلوچ عوام کو قتل کیا جا چکا ہے جبکہ 25 ہزار سے زائد افراد جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ہنوز لاپتہ ہیں۔ نائیلہ قادری بلوچ کی ان چند باتوں سے ہی خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ دراصل بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ کی زبان میں بات کر رہی ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ گذشتہ دنوں وطن عزیز میں ’’را‘‘ کے ایک دہشت گرد جاسوس کل بھوش یادیو کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا۔ بھارتی دہشت گردی جاسوس کی گرفتاری کے وقت نائیلہ قادری بلوچ ایران کی بندرگاہ چاہ بہار میں موجود تھی اور کہا جاتا ہے کہ وہاں پر اس کے ایران اور افغانستان میں موجود بھارتی سفارتی دفاتر سے قریبی رابطے تھے جن کے ذریعے وہ بھارتی حکام سے ہدایات وصول کرتی رہی۔
ان دنوں نائیلہ قادری بلوچ بھارت میں مقیم ہے اور اس کی موجودگی سے یہ اہم بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ اس خاتون کے بھارت میں قیام کے کیا مقاصد ہیں۔ یہ بات تو اب کوئی راز نہیں رہی کہ موصوفہ ایک طرف تو پاکستان میں پابندی کا شکار علیحدگی پسند بلوچ تنظیموں کے معاملے کو ہوا دینے میں مصروف ہیں اور دوسری طرف وہ ’’را‘‘ اور شورش پسند بلوچ عناصر کے درمیان رابطے کا کام بھی کر رہی ہے۔ شنید ہے کہ ایسی خدمات سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ وہ بعض جلاوطن بلوچ عناصر اوربلوچستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کو مالی امداد فراہم کرنے کا وسیلہ بھی بنی ہوئی ہے۔ جب نائیلہ قادری سے بھارتی دہشت گرد جاسوس کل بھوش یادیو کی گرفتاری کے حوالے سے سوال کیا گیا توموصوفہ نے یہ حیرت انگیز جواب دیا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ کل بھوش یادیو کو کہاں سے گرفتار کیا گیا، یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کو پاکستان سے گرفتار کیا گیا لیکن میرے خیال میں یہ سب جھوٹ ہے۔ اپنے انٹرویو کے دوران نائیلہ قادری نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت اور خدمات پر بھی رقیق حملے کیے۔ اس نے دوٹوک الفاظ میں کہا ’’ہم (بلوچ) پر پاکستان نے 27 مارچ 1948ء کو قبضہ کر لیا تھا اور ہم آج تک پاکستان سے آزادی حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بلوچستان ہمیشہ سے آزاد رہا ہے اور یہ کبھی بھی ہندوستان، ایران یا افغانستان کا حصہ نہیں رہا ۔جس وقت بلوچستان پر قبضہ کیا گیا تو اس وقت بھی یہ ایک آزاد ملک تھا‘‘۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ قبل بلوچ علیحدگی پسندوں کے ایک حامی مسمی وسیم الطاف نے ’’بندوق کی نوک پر تخت نشینی‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا تھا۔ جیسا کہ عنوان سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ مضمون نگار کے مطابق پاکستان نے طاقت کے بل بوتے پر بلوچستان پر قبضہ کیا تھا۔ موصوف کے مطابق ’’برطانوی راج کے دوران بلوچستان کی حیثیت ایک صوبے کی نہیں تھی بلکہ یہ 4 ریاستوں (مکران، خاران، لسبیلہ اور قلات) پر مشتمل تھا‘‘۔ وسیم الطاف کا یہ دعویٰ نائیلہ قادری بلوچ کے موقف کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے شمالی علاقہ جات جن میں درہ بولان، کوئٹہ، نوشکی اور نصیرآباد شامل رہے برطانیہ کو پٹے پر دیئے گئے تھے جس کے بعد اس کا نام برٹش بلوچستان رکھا گیا۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ خان آف قلات دراصل بروہی نام کے ایک چھوٹے سے قبیلے کے سردار تھے جس نے اس امر کو یقینی بنایا کہ برطانوی حکام کے لئے علاقے میں کوئی شخص یا گروہ کسی قسم کی مشکل یا مسئلہ پیدا نہ کرے۔ اسی خدمت کے سبب خان آف قلات کو برطانوی حکام نے غیر معمولی اہمیت دی جس سے ان کے سیاسی قد و قامت میں اضافہ ہوا۔
نائیلہ قادری بلوچ نے لاپتہ افراد کے حوالے سے مبالغہ آرائی کرتے ہوئے ان کی تعداد 25 ہزار بیان کی ہے جو اس باب میں بڑی حد تک متحرک اور فعال شخصیت ماما قدیر کی بیان کردہ تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ قارئین کو ضرور معلوم ہوگا کہ حکومت پاکستان نے لاپتہ افراد کے مسئلے کے سلسلے میں جسٹس(ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا تھا جس نے اپنی 204 صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کی تھی۔ کمیشن کے مطابق کل 621 افراد لاپتہ ہوئے اور 359 افراد کو برآمد کیا گیا۔ ان افراد نے اپنے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا کیونکہ ان میں سے بیشتر کا تعلق انتہاپسند گروپوں سے تھا جس کے سبب ان کو اپنی جان کے خطرات لاحق رہے۔ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ بیشتر افراد افغانستان اور دیگر غیرممالک جا پہنچے جہاں انہوں نے مستقل سکونت اختیار کرلی۔ ان میں سے کئی ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے عزیز و اقارب اور خاندانوں سے کوئی رابطہ رکھنا مناسب نہیں سمجھا اور اس بنیاد پر ان کے احباب نے انہیں لاپتہ شمار کیا۔
قومی امور پر گہری نگاہ رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ بلوچستان کے معاملے کوحالیہ دنوں میں ایک مرتبہ پھر ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تو اس کا ایک نمایاں سبب یہ بھی ہے کہ پاکستان نے گوادر کی بندرگاہ کا انتظام اپنے نہایت قابل اعتماد دوست ملک چین کے سپرد کر دیا ہے۔ پوری طرح متحرک ہونے کے بعد گوادر کی بندرگاہ اقتصادی اور تجارتی اعتبار سے اس خطے میں نمایاں مقام حاصل کرے گی۔ ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں بلوچستان اور خاص طور پر اس کے ساحلی علاقوں میں تعمیر و ترقی کے حوالے سے ایک انقلاب آ جائے گا جو صرف بھارت ہی نہیں بلکہ پڑوس کے کئی ممالک کے لئے ناقابل قبول ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر کی تکمیل سے بھی مذکورہ بندرگاہیں اور بعض ممالک کی تجارت و معیشت متاثر ہوگی۔ اس پس منظر میں خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نائیلہ قادری بلوچ ایسی نام نہاد دانشور اور بلوچ قوم کی خود ساختہ ترجمان خاتون کے پیچھے کس کس کا ہاتھ ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندی کے رحجان کی حوصلہ افزائی کے لئے بھارت نے وہی طریقہ کار اختیار کر رکھا ہے جو اس نے 70 کے عشرے میں مشرقی پاکستان میں اختیار کیا اور اس کو بنگلہ دیش میں تبدیل کر دیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محب وطن عناصر اور حکومت کے ذمہ دار ادارے بھارت کے مذموم عزائم اور سازشوں کے لئے راستہ ہموار کرنے والے عناصر یعنی ’’نائیلہ قادری بلوچ اینڈ کمپنی‘‘ کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھیں۔

476
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...