گلگت بلتستان کے عوا م نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ وابستگی کو نظریاتی اور سیاسی سطح پر اپنی اولین ترجیح بنائے رکھا ہے کیونکہ 1948ء میں ان کے بزرگوں نے اس علاقے کو بھارتی تسلط سے آزاد کرایا تھا۔ مقامی عوام میں ان عناصر کو کوئی پذیرائی یا حوصلہ افزائی میسر نہیں جن کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ ان کی دلچسپی اور حمایت کا مرکز پاکستان نہیں بلکہ پاکستان کے دشمن ہیں۔ عوامی حلقوں میں ان خبروں کو سراسر افواہ اور دشمن کا گمراہ کن پراپیگنڈہ تصور کیا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان کے علاقے میں پاک فوج کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ ایسی خبریں بھارتی میڈیا اور ان کے آلہ کار اس بے بنیاد اور منفی پراپیگنڈے کے تحت پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا مقصد مقامی عوام کو غلط فہمی کا شکار کرکے پاکستان کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنا ہے۔ عوام کو خوب معلوم ہے کہ کہ مذکورہ پراپیگنڈہ کرنے والی بھارتی حکومت نے خود نواح میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی جنت نظیر وادی کو عملی اور حقیقی طور پر ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر رکھا ہے ۔ بہرحال بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے رحجانات کو ہوا دینے کے لئے اپنا مذموم کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
حقائق سے یہی ظاہر اور ثابت ہوتا ہے کہ بلوچستان، سرحدی علاقہ جات اور کراچی میں دہشت گردی کے رحجان کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرنے کے بعد اب بھارت کی حریصانہ نگاہیں گلگت بلتستان پر مرکوز ہیں۔ دراصل بھارت گلگت بلتستان میں وہی بساط بچھا رہا ہے جو اس نے مشرقی پاکستان میں بچھائی تھی۔ نئی دہلی یہ کوشش بھی کر ر ہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کیا جائے تاکہ وہ آپس میں دست و گریباں ہو جائیں۔اس پس منظر میں یہ صورتحال انتہائی قابل توجہ قرار دی جا سکتی ہے کہ گلگت بلتستان میں ’’اینٹی ٹیکس موومنٹ‘‘ کے نام سے ایک نام نہاد تحریک شروع کی گئی ہے جس کا آغاز ’’عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ نامی تنظیم نے کیا ہے۔ یہ تنظیم 34 ممبران پر مشتمل ہے جس کے سربراہ مولانا سلطان رئیس ہیں جو حیرت انگیز طور پر 22 مختلف سیاسی مذہبی اور سماجی گروپوں کی نمائندگی کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ ان کا یہ مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان کے باشندوں کو پاک چین اقتصادی راہداری سے ویسے مفادات حاصل ہونے چاہئیں جیسے ملک کے دیگر صوبوں کو حاصل ہوں گے۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیاہے کہ شاہراہ گلگت سکردو تعمیر کیا جائے اور غیر قانونی محصولات و ٹیکس جات ختم کئے جائیں۔ حیرت انگیز طور پر ان کا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت کو اس خطے کے عوام کے حقوق بحال کرنے چاہئیں۔
بھارت کی حمایت اور شہہ پر اس خطے میں پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں مصروف دو ا فراد، امتیاز حسین اور سینگی ایچ سیرنگ کے نام تواتر سے سننے میں آتے ہیں۔ ان میں ایک امتیاز حسین تو خود کو گلگت بلتستان کانگریس نامی ایک تنظیم صدر قرار دیتا ہے جبکہ دوسرا سینگی واشنگٹن میں قائم ایک ادارے، انسٹیٹیوٹ آف گلگت بلتستان سٹڈیز کا صدر بتایا جاتا ہے۔ یہ دونوں مبینہ طور پر جہاں مقامی باشندوں کو بے بنیاد اور غلط معلومات فراہم کرکے گمراہ کرنے کے لئے کوشاں ہیں وہاں ان کا یہ بھی اصرار ہے کہ لائن آف کنٹرول کو یکسر نظرانداز کرکے گلگت بلتستان سے لداخ تک آمدورفت کا سلسلہ بحال کیا جائے۔ سادہ لوح مقامی عوام کی حمایت اور ہمدردی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے یہ پرکشش مطالبات بھی کر رکھے ہیں کہ حکومت پاکستان اس خطے میں گیس پائپ لائن اور ریل کی پٹڑی بچھانے کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر ڈیم اور ایکسپریس ہائی وے بھی تعمیر کرے۔ سیرنگ کا بھارت میں آنا جانا لگا رہتا ہے اور اس نے بھارتی حکومت کے تعاون اور پشت پناہی سے اقوام متحدہ کے ادارہ مہاجرین (UNHCR) تک رسائی حاصل کر رکھی ہے جہاں وہ یہ ہرزہ سرائی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا کہ گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ بظاہر تو انسٹیٹیوٹ برائے گلگت بلتستان سٹڈیز کا مقصد ثقافتی، معاشی اور ماحولیاتی امور کو اجاگر کرنا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس کی آڑ میں پاکستان کے خلاف گمراہ کن اور زہریلا پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ نومبر 2012ء میں مذکورہ انسٹیٹیوٹ برائے گلگت بلتستان سٹڈیز نے امریکی کانگریس کے ٹام لینٹوس انسانی حقوق کمیشن کے روبرو اپنی ایک گواہی میں مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کے علاقے کو فوج سے پاک کیا جائے۔ یہ اصرار بھی کیا گیا کہ اس کے نتیجے میں حقیقی خود مختاری اور جمہوریت کو فروغ میسر آئے گا اور یوں ناصرف اس علاقے کے عوام کے درمیان بلکہ مقامی اور لداخ کے عوام کے درمیان افہام و تفہیم پیدا ہوگی۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیاتھا کہ امریکہ پاکستان اور بھارت دونوں پر زور دے کہ وہ لداخ اور گلگت بلتستان کے عوام کے درمیان اقتصادی اور ثقافتی سرگرمیوں کا راستہ کھول دیں اور گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے اقوام متحدہ کے کردار میں اضافہ کیا جائے۔
2012ء کے اسی عرصہ میں برطانیہ میں قائم ایک تھینک ٹینک ’’دی ہنری جیکسن سوسائٹی‘‘ نے مذکورہ انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے ایک تقریب کا اہتمام ہاؤس آف لارڈ میں کیا جس کا عنوان ’’گلگت بلتستان:جنوبی اور وسطی ایشیاء کی سماجی و اقتصادی وحدت اور علاقائی سیاست‘‘ تھا۔اس امر پر بجا طور پر حیرت کا اظہار کیا جا سکتا ہے کہ ایک ایسے تھینک ٹینک کو جو پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث رہا، اس تقریب کا انعقاد کرنے کی اجازت کیسے دے دی گئی۔ شنید رہا کہ لارڈ سرکلائیو سولی نے اس تقریب اور مذاکرے کے لئے سہولیات فراہم کیں اور اس کے پینل میں ممتاز خان، سینگی ایچ سیرنگ وغیرہ بھی شامل تھے۔ اس موقع پر یہ حیرت انگیز تصور بھی پیش کیا گیا کہ اگر گلگت بلتستان اور لداخ کے درمیان لائن آف کنٹرول کو نظرانداز کرتے ہوئے دونوں اطراف کے عوام کو آمدورفت اور میل جول کی سہولت میسر آئے جائے تو اس سے ان 10 ہزار خاندانوں کو ایک دوسرے سے دوبارہ ملاقات کا موقع میسر آئے گا جو گذشتہ 6 عشروں سے ایک دوسرے سے نہیں مل سکے۔
اس موقع پر سینگی ایچ سیرنگ نے یہ من گھڑت خدشہ بھی ظاہر کیا کہ افغانستان سے نیٹو افواج کی واپسی کے بعد جنوبی ایشیاء میں چین کے کردار میں اضافہ ہو جائے گا اور یوں گلگت بلتستان کے معاشرے اور وسائل پر اضافی بوجھ آن پڑے گا۔ موصوف نے اپنے خدشات پر مبنی ذاتی فلسفہ بھگارتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان، دونوں کو اس علاقے یعنی گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کا احترام کرنا چاہئے۔ ان حقائق سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارت کس مکاری اور چالبازی کے ساتھ گلگت بلتستان کے عوام کو سبز باغ دکھا کر اپنا حامی بناتے ہوئے انہیں پاکستان اور چین کے خلاف مشتعل کر رہا ہے۔اس سلسلے میں اختیار کی گئی پالیسی بلکہ سازش کے تحت پاک چین اقتصادی راہداری کی مخالفت کے لئے یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ یہ راہداری جس علاقے سے گزر رہی ہے اس پر بھارت دعویٰ رکھتا ہے اور یہ متنازعہ علاقہ ہے۔ واضح رہے کہ نئی دہلی نے پہلے ہی اس نیلم جہلم ہائیڈروالیکٹرک پراجیکٹ پر اعتراضات اٹھا رکھے ہیں جو چین کے تعاون سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں بھارت کا سب سے پہلا اور احمقانہ اعتراض یہ ہے کہ مذکورہ پراجیکٹ ایسے علاقے میں تعمیر کیا جا رہا ہے جس پر بھارت بھی ملکیت کا دعویٰ رکھتا ہے اور یوں یہ علاقہ متنازعہ شمار ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ہی نئی دہلی نے ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے بھی رجوع کرکے یہ اصرار کیا تھا کہ مذکورہ پراجیکٹ کے لئے پاکستان کو مالی امداد فراہم نہ کی جائے۔
ان حقائق کے تناظر میں وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اب وہ وقت آن پہنچا ہے جب گلگت بلتستان کی پرامن اور خوبصورت وادی کوبھارت کی حریصانہ نظروں سے محفوظ بنایا جائے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کا ایک ناگزیر اور نتیجہ خیز طریقہ یہ بھی ہے کہ بھارتی عناصر اور نئی دہلی کے آلہ کارافراد کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے۔

387
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...