شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہوگا جب مہذب دنیا کے سامنے بھارتی انتہاپسندی کا کوئی جیتا جاگتا ثبوت نہ آتا ہوگا۔ اس سلسلے میں مقبوضہ وادی جموں و کشمیر کا حوالہ خاص طور پر دیا جا سکتا ہے جہاں پر بھارتی ریاستی ادارے، خاص طور پر فوجی اہلکار درندوں کی طرح بے بس اور مجبور کشمیری عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چند روز قبل ہی 12 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے شمالی قصبے ہندواڑہ میں فوج کی فائرنگ سے 2 طالب علموں کی شہادت کے بعد ہندواڑہ اور دوسرے قصبوں میں کشیدگی کی لہر پھیل گئی ہے۔ پولیس اور عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کے روز ایک مقامی خاتون کے ساتھ بھارتی فوجی کی زیادتی پر سینکڑوں نوجوان سڑکوں پر آگئے اور ہندواڑہ چوک میں قائم فوجی بنکر کی طرف مارچ کرنے لگے۔ فوج نے مشتعل نوجوانوں پر فائرنگ کی جس سے 7 زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر رؤف کے مطابق دو نوجوان محمد نعیم اور اقبال دم توڑ گئے جبکہ دیگر نوجوانوں کی حالت تشویشناک رہی۔ فوج بنکر چھوڑ کر چلی گئی اور مشتعل نوجوانوں نے بنکر پر سے بھارتی پرچم اتار کر بھارت کے خلاف نعرے بازی کی۔ قصبے میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئی اور پولیس و نیم فوجی اہلکاروں کی بھاری تعداد کو صورت حال پر قابو پانے کے لئے تعینات کیا گیا۔ قانون ساز اسمبلی کے رکن انجینئر رشید جب ہندواڑہ پہنچے تو وہاں ہزاروں لوگ دو نوجوانوں کی نعشوں کے ہمراہ مظاہرہ کر رہے تھے۔ انجینئر رشید نے بی بی سی کو بتایاکہ مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم ہو رہا ہے، وہ نازی جرمنی میں یہودیوں پر بھی نہیں ہوا۔ ہم تحقیقات کا اعلان سننا نہیں چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ مجرموں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے ۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز کے مطابق ہندواڑہ چوک میں 26 سال سے قائم بنکر پر مظاہرین نے دھاوا بول دیا تو بھارتی فوج وہاں سے فرار ہوگئی۔ ڈویژنل کمشنر اصغر حسین سامون نے کہا کہ اس واقعہ کی مجسٹریٹ سطح پر تحقیقات ہوں گی لیکن عوامی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سالہا سال سے ایسے واقعات میں درجنوں تحقیقاتی کمیشن قائم کئے گئے لیکن آج تک کسی ایک مجرم کو سزا نہیں ملی۔
دریں اثناء سید علی گیلانی نے اس واقعہ کے خلاف بدھ کو ہڑتال کی اپیل کی تو ان سمیت میر واعظ سمیت متعدد حریت رہنماؤں کو نظر بند کر دیا گیا۔ بھارتی فورسز کی جانب سے انتہائی سخت سکیورٹی کے باوجود مختلف علاقوں میں جلسے جلوس اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ مظاہرین نے بھارتی مظالم کے خلاف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر عالمی برادری سے نہتے کشمیریوں پر کئے جانے والے بھارتی مظالم کا نوٹس لینے اور اس کی روک تھام کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالنے کی اپیل کی گئی تھی۔ بھارتی فورسز نے بڑی تعداد میں مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس ’’ع‘‘ گروپ کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے اپنے بیان میں کہا کہ افسپا جیسے کالے قوانین کے تحت کشمیر میں تعینات فوج خود کو حاصل بے پناہ اختیارات کا بڑی بیدردی سے استعمال کرکے نہتے کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسی روز پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق اندور کی ایک عدالت نے گذشتہ روز گائے ذبح کرنے کے ایک مقدمے میں چار مسلمان شہریوں نیاز الدین، عرفان شیخ، شعیب اور ابراہیم کو قید بامشقت اور جرمانے کی سزائیں سنائی ہیں۔ ان افراد پر ایک مندر کے قریب گائے اور اس کے بچھڑے کو ذبح کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔
ایک طرف تو بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جبرو تشدد کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تو دوسری طرف وہ پاکستان کے ساتھ بھی کشیدگی اور اشتعال انگیزی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے پاکستان کے ساتھ سرحد پر نگرانی سخت کرنے کے لئے پانچ سطحی حفاظتی جامع مینجمنٹ نظام کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت 2900 کلومیٹر طویل سرحدپر نگرانی بڑھانے کے لئے جدید آلات کی مدد لی جائے گی جن میں سی سی ٹی وی کیمرے، نائٹ ویژن اور زیر زمین نگرانی کے آلات لیزر باڑ اور میدان جنگ میں استعمال ہونے والے راڈار شامل ہیں اوربھارتی حکومت نے پنجاب اور جموں میں پانچ پانچ کلومیٹر کے دو ٹکڑوں پر آزمائش کے لئے آلات نصب کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سسٹم کو بارڈر مینجمنٹ سسٹم (سی آئی بی ایم ایس) کا نام دیا گیا ہے جس سے 365235723524 تک کے ٹکڑے میں جاسوسی کے آلات نصب ہوں گے جو جدید ٹیکنالوجی کے حامل ہیں۔ اس سسٹم کا اہم آلہ لیزر بیریئر ہیں جن سے سکیورٹی فورسز کو ایسے علاقوں میں معاونت مل سکے گی جہاں باڑ نہیں لگی ہوئی اور یہ علاقہ تقریباً 130 غیر باڑ شدہ سیکشن پر مشتمل ہے۔
خطے کا تھانیدار بننے کے شوق میں اور عسکری جنون میں مبتلا بھارتی حکومت کو اپنے عوام کی حالت زار کو بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس حقیقت کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ انڈین نیشنل کرائمز بیورو کے مطابق بھارت میں لاپتہ ہو جانے والے بچوں میں چالیس فیصد کی تلاش کا عمل ناکامی سے دوچار ہوتا ہے۔ بھارت میں آج کل ملک گیر سطح پر ایک مہم جاری ہے کہ لاپتہ ہو جانے والوں بچوں کو تلاش کرکے انہیں ان کے خاندان تک پہنچایا جائے۔ سماجی ماہرین کے مطابق اگر وفاقی اور ریاستی حکومتوں کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے تفتیشی عمل آئے بڑھائیں تو لاپتہ ہو جانے والے بچوں کی تلاش میں کامیابی کا تناسب اور زیادہ ہو سکتا ہے۔ بھارت کے نیشنل کرائمز بیورو کے مطابق ہر آٹھویں منٹ پر ایک بچہ لاپتہ ہو جاتا ہے یا پھر اس کو اغوا کر لیا جاتا ہے۔ لاپتہ یا اغواء ہونے والے بچوں کی سب سے بڑی منزل مہارا شٹر ہی ہے اور اسی ریاست میں بچوں کی اسمگلنگ کا دھندہ کرنے والے سرگرم ہیں۔ جرائم کے اعداد و شمار کے بھارتی ادارے کے مطابق لاپتہ ہو جانے والے بچوں میں سے چالیس فیصد کا سراغ نہیں ملتا ہے۔ بھارت میں جہاں بھیڑ میں بچے اپنے والدین سے بچھڑ جاتے ہیں وہیں اغواء کرنے کی وارداتیں کرتے ہیں اور بعد میں یہ بچے بیگار کیمپوں تک پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ بڑی عمر کے بچے گھریلو مسائل سے نجات کی خاطر بھی گھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ان حقائق اور احوال سے خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی انتہاپسندی کے منحوس سایے کس تیزی سے پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔

411
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...