طالبان، القائدہ، آئی ایس آئی ایس نجانے کون کونسے نام ہیں لیکن مقصد صرف ایک ہے فساد پھیلانا اور فساد کے نام پر اسلام کو بدنام کرنا ۔ ورنہ اسلام کیسے اجازت دے سکتا ہے کہ کسی انسان کا خون بہاؤ وہ بھی کسی غریب راہ چلتے مسلمان کو مار کر، کسی خاندان کو اجاڑ کر کسی کو یتیم اور کسی کو بے اولاد کر کے پھر بھی کوئی جنت کی توقع کرے۔ کیا خلافت کا دعویٰ کرنے والوں نے اسلام ،پیغمبرﷺ اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگیوں کے وہ صفحات نہیں پڑھے جس میں انہوں نے خون خرابہ، فساد فی ا لارض، جنگ میں جو نہ لڑے ان کے قتل کی ممانعت کی ، عورت ،بچے بوڑھے پر جنگ میں بھی ہاتھ اٹھانے کو ممنوع قرار دینے کے احکامات دیے یا یہ اسلام کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور رسولﷺ کے احکامات کو نعوذباللہ نا مکمل سمجھ کر مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیا یہ اسلام کو اُن سے زیادہ سمجھنے کا دعویٰ کرتے ہیں یا خود کو اُن سے زیادہ نیک ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ خود محفوظ پناہ گاہوں میں بیٹھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو جنت کی گارنٹی دے کر انہیں خود کشی جیسے حرام فعل پر آمادہ اور مجبور کر دیتے ہیں ایک ایسے حرام فعل پر جس کی کوئی معافی نہیں تو کیا یہ تمام غیر اسلامی اور حرام افعال وہ لوگ کر سکتے ہیں جو خود کو مسلمان بلکہ بہت اچھا مسلمان کہتے ہیں اور دوسروں کے بارے میں کفرکے فتوے جاری کرتے ہیں ۔بات دراصل یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسلام دشمن قوتوں کی ایما پر ہو رہا ہے ۔ اِن گروپوں کو اسلحہ اور تکنیکی امداد فراہم کی جارہی ہے ان امداد فراہم کرنے والے ملکوں میں بھارت کا کردار بہت اہم ہے اس وقت بھارت کی کم از کم سات کمپنیاں تو ثابت شدہ طور پر آئی ایس آئی ایس یا داعش کو اسلحہ فراہم کر رہی ہیں اور یہ رپورٹ کوئی اور نہیں خود انڈین ایکسپریس شائع کر رہا ہے اور یہ تمام کمپنیاں با قاعدہ حکومت سے حاصل کر دہ لائسنس کے تحت یہ اسلحہ یا اسلحے کے پرزہ جات بر آمد کر رہی ہیں۔ اخبار کے مطابق جب اِن برآمد کنندگان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو اُن کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔ یہ سروے سی اے آر یعنی کنفلیکٹ آرمامنٹ ریسرچ کی طرف سے کیا گیا ہے یہ تنظیم مسلح تنازعات اور ان کے پس منظر پر کام کرتی ہے اور رپورٹس مرتب کرتی ہے۔ اس کی اطلاعات کے مطابق جس پر دوسرے کئی ذرائع نے بھی تحقیق کی اور سات ایسی کمپنیوں کی تفصیلات فراہم کیں ان کمپنیوں میں سولر اندسٹریز،آئیدیل اندسٹریز، گلف آئل کارپوریشن،پریمیئر ایکسپلوسیوز،چامنڈی ایکسپلوسیوز اوراکنامک ایکسپلوسیوز شامل ہیں لیکن ظاہر ہے یہ تو صرف وہ نام ہیں جن کے بارے میں معلوم ہو سکا ایسی بہت سی دوسری کمپنیاں بھی یقیناًہوں گی جن کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا لیکن وہ یہ کام کر رہی ہیں بہر حال ان کے بارے ثبوت ملے ہیں اور خود بھارتی اخبار کے بقول ان سب کو حکومتی اجازت نامے یعنی لائسنس حاصل ہیں یہ بھارت کے چہرے پر پڑا ایک اور نقاب اٹھا ہے اور اس کے اصل چہرے کے کچھ خدوخال واضح ہوئے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوا ہے کہ ان تنظیموں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کام کروایا جا رہا ہے اور عالم اسلام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔دا عش یا آئی ایس آئی ایس خود کو خلافت کی وارث سمجھ رہی ہے اور خلافت خالصتاََ اسلامی نکتہء نظر اور طرز حکومت ہے تو پھر وہ غیر مسلم بھارت سے اسلحہ کیسے لے رہی ہے اور کیسے اُسے مسلمان حکومتوں اور عوام کے خلاف استعمال کر رہی ہے کافر کا اسلحہ مسلمان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ اُسے اسلام اور اسلامی شعائر سے کیا دلچسپی ہے کہ اُسے رائج کرنے کے لیے آئی ایس آئی آیس کی مدد کر رہا ہے اور کیا خود آئی ایس آئی ایس یہ بات نہیں سمجھ رہی کہ اگر کوئی حکومت برائے نام بھی مسلمان ہو تو کم از کم اللہ تعالیٰ کا نام تو لیتی ہے لہٰذا وہ غیر مسلم اور کافر حکومت سے بدر جہا بہتر ہو گی۔دراصل یہ سب اسلام کو بد نام کرنے کی عالمی سازش ہے اور ایسی تمام سازشوں میں بھارت اپنے تمام ساتھیوں سے آگے ہوتا ہے اور ادھر بھی وہ ایسا ہی کر رہا ہے۔اسلحے کی یہ فراہمی صرف طبعی طاقت کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ یقیناًانہیں اخلاقی اور تکنیکی مدد بھی دی جارہی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو بھارت حکومت یہ الزامات سامنے آنے کے بعد ان کمپنیوں کے لائسنس ہی کینسل کر چکی ہوتی لیکن ابھی تک ایسی کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے لہٰذا کیوں نہ سمجھا جائے کہ یہ کمپنیاں بھارت سرکار کی ایما پر یہ سب کچھ کر رہی ہیں۔ شاید بین السطور اسی حقیقت سے متحدہ عرب امارات کے خارجہ امور کے وزیر مملکت نے بھارت کو متنبہ کیا کہ وہ خود کو آئی ایس آئی ایس کے حملوں سے محفوظ نہ سمجھے یہ بھی یاد رہے کہ امارات نے بھارت کے تقریباََ ایک درجن سے زیادہ شہریوں کو آئی ایس آئی ایس سے تعلقات کے بنا پر ملک بدر کیا۔ اس تمام صورت حال میں دنیا کو بھارت کی سر گرمیوں پر نہ صرف نظر رکھنے کی ضرورت ہے بلکہ اس کو ہر صورت اِن سے باز رکھنے کے لیے اس پر زور بھی دینا پڑے گا ورنہ نہ تو دنیا سے بدامنی ختم ہو سکے گی اور نہ ہی دہشت گردی ۔بھارت کو یہ بھی سمجھانا ضروری ہے کہ دوسروں پر الزامات لگانے کی بجائے اگر وہ اپنی حکومت ،اداروں اور عوام کو قابو کر لے تو دنیا میں امن کی کوششوں میں کافی حد تک کامیابی ہو سکتی ہے۔

427
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...