ایک ایسے وقت میں جب امریکہ میں ایٹمی مسئلے کے حوالے سے ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس پر ماہرین اور مبصرین کی نگاہیں مرکوز ہیں، ساری مہذب دنیا کی طرف سے پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام کی سلامتی بارے اظہار اطمینان کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکومت جو کچھ عرصہ قبل پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتی رہی اب اس کا رویہ اور انداز یکسر مختلف ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ ہم پاکستان کے 21 مارچ کو کئے گئے اعلان کو خوش آئند سمجھتے ہیں جس میں 2005ء میں ہونے والے کنشون میں جوہری مواد کی طبعی حفاظت کے فیصلے کی توثیق کی گئی ہے۔ اگر پاکستان ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی تنظیم کے ساتھ کاغذی کارروائی مکمل کرلے تو صرف آٹھ مزید ممالک سے اس کی توثیق کرانا ہوگی جس سے یہ قرارداد عملی طور پر اپنا کام شروع کر دے گی۔ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ادارے میں پاکستان کی مستقل سفیر عائشہ ریاض نے ادارے کے ڈائریکٹر کو توثیقی کاغذات جمع کراتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کی توثیق اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے جس نے بین الاقوامی معیار کے مطابق اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے۔ اس قرارداد کے بنیادی اصولوں کا نفاذ 1987ء سے کیا گیا تھا، تب سے یہ جوہری مواد کی حفاظت کے حوالے سے بین الاقوامی طور پر قانونی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی بدولت جوہری توانائی کی دیکھ بھال، حفاظت اور سزاؤں کے اقدامات بھی کئے جاتے ہیں۔ اب اس میں ترمیم کی جا رہی ہے جس کا مقصد جوہری مواد کا پرامن استعمال، ذخیرہ اندوزی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس کی محفوظ آمدورفت کو ممکن بنانا ہے۔ گذشتہ ہفتہ بھارت کے آبدوز کے ذریعے بیلسٹک میزائل داغنے کے تجربے کے حوالے سے کئے گئے سوال کے جواب میں مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ہر ایسے جوہری تجربے یا میزائل پروگرام سے تشویش ہے جس سے جوہری مواد کے استعمال یا اس کی حفاظت کو خطرہ ہو۔
28؍ مارچ کو یعنی نیوکلیئر سکیورٹی سمٹ سے دو دن قبل ہی امریکہ نے گرم جوشی کے ساتھ اعادہ کیا کہ پاکستان نے اپنے جوہری ذخائر کی حفاظت کے بہترین اقدامات کئے ہیں اور پاکستان جوہری مواد کی حفاظت کے حوالے سے ترمیمی کنونشن کے حق میں ہے جس سے اس کا عملی اطلاق ممکن ہوگا۔ پاکستان اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے انجام دے رہا ہے۔اس بارے انٹرنیشنل سکیورٹی اور نان پرولیفریشن کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ تھامس کنٹری مین نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ پاکستان، جوہری مواد اور جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو بہت اہم سمجھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے پاکستان اور امریکہ کی مسلسل بات چیت ہوتی رہی ہے اور پاکستان نے حفاظتی اعتبار سے اہم اقدامات کئے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران تھامس کنٹری مین کے ساتھ سفیر یونی جینکنز بھی شریک تھیں جنہوں نے جوہری خدشات کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کو سراہا۔ جینکنز نے مزید کہا کہ پاکستان شروع سے ہی نیوکلیئر سمٹ کارکن رہا ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان اس عمل کا حصہ ہے جس میں جوہری مواد کی حفاظت کے حوالے سے گفتگو ہو رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں جینکنز نے کہا کہ ان کا پاکستان کا دورہ کامیاب رہا ہے جس کے دوران ہم نے پاکستان کی نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی سے بھی ملاقاتیں کیں جنہوں نے ہمیں جوہری تنصیبات کی حفاظت کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے محسوس کیا ہے کہ پاکستان، جوہری مواد کی حفاظت کے حوالے سے ترمیمی کنونشن کے حق میں ہے جس سے اس کا اطلاق عملی طور پر ممکن ہو سکے گا۔
31 مارچ کو پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے نیوکلیئر سمٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے حوالے سے ہمارے خدشات جائز ہیں، ہمارا ایٹمی پروگرام معمولی نوعیت کا ہے مگر ہم خطے میں اسلحے کی دوڑ نہیں چاہتے بہرحال ہماری مزاحمت کم مگر مستحکم ہے۔ اس کی وضاحت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کرتی ہے، جو پہلے خطرات کا جائزہ لیتی ہے پھر اس کے مطابق اپنے دفاع کو مضبوط بناتی ہے۔ اب یہ بھارت کی طرف سے درپیش خطرات پر منحصر ہے کہ ہمیں اپنے دفاع کی تیاری کس حد تک کرنی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ بھارت کی طرف سے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اس لئے ہمیں بھی حق حاصل ہے کہ ہم اپنا دفاع مضبوط کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نیوکلیئر سکیورٹی ایک قومی فریضہ ہے اور ہر ملک اپنے نیوکلیئر پروگرام کی سکیورٹی یقینی بناتا ہے۔ پاکستان کی نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو نیوکلیئر سکیورٹی کے حوالے سے مکمل اختیارات حاصل ہیں۔ دنیا اس بات کو مانتی ہے کہ ہمارا جوہری پروگرام مضبوط اور محفوظ ہے۔ ہم تو اسے میدان جنگ کا اسلحہ سمجھتے ہی نہیں بلکہ اس کا مقصد صرف خطے میں اسٹریٹجک استحکام کی بحالی ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے، اس لئے کسی قسم کے خدشات نہیں ہونے چاہئے۔ سیکرٹری خارجہ نے یاد دلایا کہ چوری ہونے والے جوہری مواد کی تعداد 2734 ریکارڈ پر ہے جس میں سے ایک بھی پاکستان سے چوری نہیں ہوا۔
یکم اپریل کو اوباما انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ جوہری سلامتی کانفرنس پاکستان اور بھارت کو مل بیٹھ کر اعتماد سازی کے اقدامات کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے تاکہ دونوں کے درمیان کسی تنازع کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔ بیورو آف انٹرنیشنل سکیورٹی اینڈ نان پرولیفریشن (بین الاقوامی سلامتی اور جوہری عدم پھیلاؤ) کے اسسٹنٹ سیکرٹری تھامس کنٹری مین نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے ہمیشہ دونوں ملکوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ جارحیت اور تنازعات کی طرف بڑھنے کے خطرے کو کم کریں اور اس کے علاوہ ہم ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ تنازع پیدا ہونے کے خطرات کو روکنے کیلئے مذاکرات کے ذریعے اعتماد سازی کے اقدامات بھی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کا سلسلہ شروع ہونے سے لے کر اب تک پاکستان اور بھارت نے جوہری مواد اور جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کیلئے جو اقدامات کئے ہیں ان سے امریکہ متاثر ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ حکومت پاکستان اس معاملے کو سنجیدہ سمجھتی ہے اور ہم دونوں ملکوں کے درمیان تعمیری مذاکرات ہوتے ہیں۔ اجلاس کے اغراض و مقاصد پر تبصرہ کرتے ہوئے تھامس کنٹری مین کہنا تھا کہ ہر ملک جوہری مواد کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کرتا ہے اور ہم نے پاکستان اور بھارت کے ساتھ اسی معاملے پر بات کی ہے اور دنیا بھر اپنے دیگر پارٹنر ممالک کے ساتھ بھی کی ہے۔ پاکستان نے دلیل دی ہے کہ اس کے تدبیری (ٹیکٹیکل) ہتھیار قابل بھروسہ ہیں اور بھارت سے لاحق کسی بھی خطرے کے خلاف کم سے کم مزاحمت ہیں، ان کی ٹیکنالوجی اور سکیورٹی اہم سمجھی جاتی ہے۔کنٹری مین نے اصرار کیا کہ ہم پاکستان اور بھارت کے ساتھ اسی معاملے پر بات چیت چاہتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے ساتھ جو معاملہ ہے وہ دنیا میں منفرد نہیں ہے۔ خطے میں دہشت گرد گروپس اور ساتھ میں جوہری مواد حتیٰ کہ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی ہے لیکن بیک وقت دونوں ممالک کی جانب سے کیے گئے اقدامات بھی متاثر کن ہیں۔ امریکہ اس بات کو جج نہیں کہ پاکستان اور بھارت تعاون کر رہے ہیں یا نہیں البتہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دونوں ملکوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہے۔

503
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...