گذشتہ دنوں وطن عزیز کے ذمہ دار ریاستی اداروں کی اجتماعی کوششوں سے بھارت کا ایک انتہائی سرگرم اور متحرک جاسوس کل بھوشن یادیو گرفتار کیا گیا جس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے سلسلے میں اپنے جملہ جرائم اور سرگرمیوں کا اعتراف بھی کر لیا ۔ اس حوالے سے اب یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں بھارتی خفیہ ادارے’’را‘‘ اور اس کے آلہ کار عناصر کے لئے برا وقت شروع ہوگیاہے۔کل بھوشن یادیو کے بعد ’’را‘‘ کا ایک اور ایجنٹ صنوبر بلوچستان کے علاقے حب سے گرفتار ہوگیا جبکہ 2 ایران میں پھنس گئے۔ صنوبر کئی برس سے اس علاقے میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کر رہا تھا اور پاکستان کے علاوہ بھارت میں اپنے کئی ساتھیوں سے رابطے میں تھا۔ کل بھوشن یادیو کی گرفتاری ظاہر کئے جانے کے بعد بھارتی خفیہ ایجنسی اس کے دیگر ساتھیوں کو ایران سے باہر نکالنے کے لیے سرگرم ہوگئی ہے۔ نجی میڈیا کے مطابق را نے کل بھوش یادیو کی جانب سے کئے گئے اعتراف کے بعد چاہ بہار میں موجود بھارتی ایجنسی را کے ایجنٹ راکیش عرف رضوان کو ایران سے نکالنے کے لیے سازشیں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں را کے افسر ششمیت سمیت 2 ایجنٹوں نے تہران میں بھارتی سفارت خانے میں ڈیرے ڈال لئے ہیں۔ بھارتی حکام نے ایران میں سفارتی عملے کو اپنے جاسوس راکیش عرف رضوان کو کسی تیسرے ملک بھجوانے کا ٹاسک دیا ہے۔ دریں اثناء پاکستان نے بلوچستان سے گرفتار ہونے والے را ایجنٹ کل بھوشن کا معاملہ عالمی برادری کے سامنے پیش کر دیا ہے اور اس ضمن میں مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفیروں نے اپنی رپورٹس دفتر خارجہ کو بھیج دی ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین میں پاکستانی سفیروں نے ان ممالک کے متعلقہ حکام کو بلوچستان سے گرفتار ہونے والے را ایجنٹ سے متعلق معلومات فراہم کیں اور اس حوالے پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا۔پاکستانی سفیروں نے ’’را‘‘ ایجنٹ کی گرفتاری کی تفصیلات بھی عالمی برادری تک پہنچا دی ہیں اور اس حوالے سے اپنی رپورٹ دفتر خارجہ کو بھجوا دی ہیں۔ دفتر خارجہ نے مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفرا کو یہ معاملہ ان ممالک کے متعلقہ حکام کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی تھی ۔
دریں اثناء بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کی حقیقت بارے خود بھارتی اخبار ’’انڈین ایکسپریس‘‘ کی تحقیقاتی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔بھارتی اخبار نے کل بھوشن یادیو کے حوالے سے راز فاش کرتے ہوئے بتایا کہ کل بھوشن یادیو نے پونا سے حسین مبارک پٹیل کے مسلمان نام سے پاسپورٹ حاصل کیا اور اس کیلئے اپنا نامکمل پتہ درج کرایا، کل بھوشن نے اپنے ایک دوست کو بتایا تھا کہ وہ کسی حکومتی کام کیلئے نیوی چھوڑ رہا ہے۔کل بھوشن یادیو کے کاروبار کا بتانے سے اس کے خاندان والے بھی گریز کر رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق ایران کی چاہ بہار بندرگاہ جاسوسی سرگرمیوں کا گڑھ ہے اور ایسے انکشافات سامنے آ رہے ہیں جن سے پاکستان کے ایران سے تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال بڑا اہم ہے کہ پاکستان کے خلاف ہمہ وقت ہرزہ سرائی اور الزام تراشی کرنے والا بھارتی الیکٹرانک میڈیا کل بھوشن یادیو کے خاندان کو سامنے کیوں نہیں لا رہا ہے۔ کل بھوشن یادیو اگر قانونی طریقے سے کارگو کا بزنس کر رہا تھا تو اس کی بینک ٹرانزیکشن سمیت دیگر تفصیلات بھارتی میڈیا کیوں نہیں بتا رہا ۔’’را‘‘ کے دو افسران 27 مارچ سے ایران میں اپنے سفارتخانے میں موجود ہیں اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ چاہ بہار میں موجود اپنے جاسوسوں کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی ذمہ داری ’’را‘‘ کے افسر شمشبید کو سونپی گئی ہے۔ ان حالات میں بجا طور پر یہ سوال اہم ہے کہ کیا ایران نے اب تک حسین مبارک پٹیل کو جاری پاسپورٹ اور ویزے کے جعلی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ بھارت دعویٰ کرتا ہے کہ کل بھوشن یادیو کو ایران سے اغواء کیا گیا ہے لیکن اس نے ابھی تک سفارتی سطح پر ایران کے ساتھ یہ معاملہ نہیں اٹھایا ہے۔
ایک طرف تو ساری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان میں مداخلت کی جاتی ہے حتیٰ کہ حال ہی میں سانحہ لاہور کے حوالے سے امریکی صدر باراک اوباما نے وزیراعظم نواز شریف کو فون کیا تو انہوں نے اظہار افسوس کرتے ہوئے یہ عندیہ بھی دیا کہ امریکی حکومت پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ کے ملوث ہونے اور مداخلت کرنے کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی سے بات کرے گی لیکن دوسری طرف بھارتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور کرن رججو نے یہ بے پر کی اڑانے کی کوشش کی کہ پاکستان کی طرف سے جاری کی گئی کل بھوش یادو کی ویڈیو جعلی ہے اور اس کا بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کرن رججو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ وہ نئی کہانیاں بنا رہا ہے اور بھارت کو بدنام کرنے کیلئے جعلی ویڈیوز بناتا ہے۔ وزارت خارجہ اس حوالے سے پہلے ہی بیان جاری کر چکی ہے کہ یہ جعلی ویڈیو ہے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی بنائی ہوئی کہانی ہے۔ موصوف نے کہا کہ ہمیں اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ، ان کی حکومت، وزیراعظم اور ان کی ایجنسیوں کے اندر کی ایک گیم ہے۔
قارئین کی دلچسپی کے لئے درج کیا جاتا ہے کہ حال ہی میں بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کی گرفتاری کا واقعہ اپنی سنگینی اور نوعیت کے اعتبار سے پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گذشتہ برس یعنی 2014-15ء کے عرصے میں وطن عزیز کے ذمہ دار اداروں نے 396 ایسے منصوبے ناکام بنائے جن کے تحت ملک میں تخریب کاری، دہشت گردی اور قانون شکن سرگرمیوں کا راستہ ہموار کیا جا رہا تھا۔ ان میں سے اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت میں 22، پنجاب میں 45، کے پی کے اور فاٹا میں 85، سندھ میں 56 اور بلوچستان میں 188 دہشت گردی کے منصوبے شامل تھے۔ سازش کے اس دائرے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ اہم شخصیات اور عمارات سمیت مختلف تنصیبات کو ہدف بنایا جائے۔ اسی طرح ایسے منصوبے بھی ناکام بنائے گئے جن میں بھارتی خفیہ ادارہ ’’را‘‘، تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی اور القاعدہ ایسی انتہاپسند تنظیمیں ملوث تھیں۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارتی حکومت کے مکروہ عزائم بے نقاب ہو رہے ہیں۔

510
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...