پاکستان سے بھارت کا جاسوس پکڑے جا ناکوئی انہونی بات نہیں لیکن اس بار جو ہوا وہ ضرور انہونی ہے کہ ایک حاضر سروس نیول سینئر افسر کل بھوشن یادیو بلوچستان سے گرفتار ہوا۔بھوشن یادیو انڈین نیوی میں کمانڈر ہے اور اس وقت بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ میں فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ اس بار کی گرفتاری اتنی واضح اور پختہ ثبوتوں کے ساتھ ہے کہ بھارت اس سے کلی انکار نہیں کر سکااگرچہ اُس نے پہلے ایسا ہی کیا لیکن بعد کی تفصیلات دیکھ کر اُسے ماننا پڑ ہی گیا کہ بھوشن یادیو انڈین نیوی افسر ہے لیکن ریٹائرہو چکا ہے اور اپنے طور پر پاکستان آکر پاکستان کے خلاف کام کرتا رہا ہے تو کیا وہ حاصل کردہ معلومات کسی اور ملک کو دے رہا تھا کہ بھارت سرکار کو معلوم نہ ہو سکا کہ اُن کا ایک افسر کیا کر رہا ہے ۔انڈین نیول کمانڈر یادیو ممبئی کا رہنے والا ہے 1991 میں کمیشن حاصل کیا اور اس کا انڈین نیوی نمبر Z41558 ہے اُس کے گھر کا نمبر، گلی ہر چیز منظر عام پر لایا گیااس سے زیادہ مکمل ثبوت شاید ہی کسی جاسوس کے اس صحت کے ساتھ بتائے گئے ہوں۔اُس کا مشن پاک چائنا اقتصادی راہداری کے خلاف کام کرنا اور کراچی میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرنا تھا اُس کی ذمہ د اریوں میں بلوچ علحدگی پسندوں ے رابطے اور ان کو مدد فراہم کرنا بھی تھا۔
بھارت پاکستان کی مداخلت اور دہشت گردی کی شکایات پر ہمیشہ ثبوتوں کا مطالبہ کرتا ہے یہ اور بات ہے کہ فراہم کردہ ثبوتوں کو ما نتا نہیں ہے لیکن اس بار کے ثبوتوں سے اُس کے لیے انکار ممکن ہی نہیں کیونکہ اس سے زیادہ معلومات مانگنے اور فراہم کرنے کی کوئی گنجائش بچتی ہی نہیں ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیا اقدامات کرتا ہے اور حکومتِ پاکستان عالمی رائے عامہ کو کیسے اپنے حق میں ہموار کرتی ہے۔پٹھانکوٹ کے معاملے پر پاکستان نے جس طرح بھارت سے تعاون کیا وہ بھی پاکستان کا علاقے میں امن کی خواہش کا ثبوت ہے اگرچہ ابھی تک بھارت نے پاکستان کی طلب کردہ معلومات فراہم نہیں کی ہیں اور وہ یہ بھی ثابت نہیں کر سکا ہے کہ حملہ آوروں کو حکومت پاکستان یا آئی ایس آئی کی کوئی مدد حاصل تھی۔بھارت کے الزامات ایسے ہی بغیر کسی صحت کے ہوتے ہیں اس کی حکومت اورحکومت سے بڑھ کر میڈیا شور مچاتا ہے اور انتہائی غیر سنجیدہ رویہ دکھا کر پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگاتا ہے اور پھر دنیا کے سامنے پاکستان کا امیج خراب کرتا ہے خود اس کی کہانی یہ ہے کہ اُس کے عام اہلکار ہی نہیں بلکہ اب تو اُس کے افسران بھی دہشت گرد کاروائیوں کے لیے پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں ۔دہشت گردی میں اس کے افسروں میں بھی یہ پہلی مثال نہیں کرنل سری کانت اور سمجھوتہ ٹرین کی کہانی بھی سبھی کو معلوم ہے جب اُس نے زندہ انسانوں کو صرف اس لیے جلایا کہ وہ پاکستانی تھے اور ہندو ذہنیت ہندو کے علاوہ کسی انسان کو جینے کا حق نہیں دیتی خاص کر بھارت کی سر زمین پر۔لیکن بھوشن یادیو کی دیدہ دلیری تو اُس سے بھی بڑھ کر تھی کہ وہ پاکستان کے اندر یہ کاروائیاں کر رہا تھا۔جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا کہ ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کا پاکستان میں گرفتار ہونا کوئی انہونی بات نہیں سرجیت سنگھ اور سر بجیت سنگھ کی کہانی ابھی بہت سارے ذہنوں میں تازہ ہے روندراکاوشک بھی کچھ لوگوں کو یاد ہوگا جسے ایک ڈرامے میں اپنا کردار خوبصورتی سے ادا کرتے ہوئے’’را‘‘ کے افسروں نے دیکھا تو اُس تھیٹر ادا کار کو لکھنو سے ’’را‘‘ میں بھرتی کرکے پاکستان بھیج دیا گیا جہاں اُس نے فوج میں سول کلرک کی نوکری حاصل کی اور نبی احمد شاکر کے نام سے یہ نوکری کرتا رہا ،اُسی یونٹ کے درزی کی بیٹی سے شادی کی اور بھارت اور ’’را‘‘ کو قیمتی معلومات فراہم کرتا رہا اورجب وہ پکڑا گیا اور اُس نے تمام جرائم کا اقرار کر بھی لیا تو بھارت نے اُس سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا لیکن جب اُس نے اپنے گھر والوں کو اپنے جیل میں مصائب کے بارے دو خطوط لکھے اور کسی نہ کسی طرح انہیں بھیجنے میں کامیاب بھی ہوگیا تو تب یہ ثبوت بھی فراہم ہوگیا کہ وہ کون تھا لیکن پھر بھی اُسے مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا وہ جیل میں مرا اور ادھر ہی دفن ہو گیا اب معلوم نہیں بھارت بھوشن یادیو کو بھی اسی سلوک کا اہل سمجھتا ہے یا نہیں لیکن یہ بات حتمی ہے کہ پاکستان کے نکتہء نظر سے وہ ایک دہشت گرد ہے جس نے کئی پاکستانیوں کا خون بہایا اور پاکستان کو ایسی صورتحال سے دو چار کیا کہ اس کے شہری اپنے جان ومال کو کہیں بھی محفوظ نہیں سمجھ رہے ۔بھارت کی بلوچستان میں مداخلت کے بارے پاکستان بارہا اور بار بار دنیا کو بتاتا رہا کراچی میں بھی اُس کی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی پہلے بھی نہیں تھی اور اب تو ’’را‘‘ کے ایم کیو ایم کے ساتھ رابطوں کی خبریں مزید ثابت ہو چکی ہیں،فاٹا میں بھی اُس کی مدد سے دہشت گرد تنظیمیں اپنی کاروائیاں ترتیب دیتی ہیں ،افغانستان میں تعمیر نو،تعلیم اور فوج سمیت مختلف پیشوں میں تربیت کے بہانے وہ اندر تک دخیل ہے اور ان کاموں سے زیادہ وہ پاکستان میں امن وامان کے مسائل کھڑے کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔تخریب کاری اور دہشت گردی اُن کی اولین ترجیح ہے بلکہ بھارت سرکار اپنے ملک کی تعمیر و ترقی سے زیادہ پاکستان میں منفی پروپیگنڈا کرنے پرزور دیتا ہے۔ اس نے ممبئی حملوں کی ذمہ داری بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر ڈالی اور سالوں سے اُسے پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اسی طرح اپنی پارلیمنٹ پر دہشت گرد حملے کا بھی پاکستان کو ذمہ دار قرار دیا اور بغیر کسی ثبوت کے افضل گرو کو پھانسی پر چڑھا دیا۔ ایسی بے شمار دوسری مثالیں بھی موجود ہیں لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ بھوشن یادیو کے معاملے سے کس طرح نمٹتا ہے اور اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ پاکستان اپنی ایجنسیوں کی اس کامیابی کو کیسے اپنا کیس مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور دنیا کو بھارت کو اصلی چہرہ کیسے دکھاتا ہے اور کیسے اُسے باور کراتا ہے کہ بھارت پاکستان کے بارے میں جو پروپیگنڈا کرتا ہے وہ ہمیشہ بغیر کسی ثبوت کے ہوتا ہے اور پاکستان سے ثبوت کے لیے اصرار کرتا ہے اور پھر اُسے ماننے سے انکار بھی کر دیتا ہے لیکن اب اگر اُس کے ایک حاضر سروس سینئر افسر کے نمبر تک کے ساتھ اُسے ثبوت فراہم کیے جا چکے ہیں تو اُس کا رویہ اور ردعمل کیا ہو گا یہ قابل غور بات ہے اور دنیا جس طرح پاکستان کو دہشت گردوں کا گڑھ سمجھتی ہے اُسے بھی معلوم ہو جا نا چاہیے کہ پاکستان میں کون دہشت گردوں کی تربیت اور مدد کر رہا ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے امن کو تباہ کر رہے ہیں اور کیا اس بات سے کوئی بعید ہے کہ بھارت باقی دنیا کے دہشت گردوں کی بھی مدد نہ کر رہا ہو اور دنیا اُس کا الزام بھی پاکستان کے سر دھر رہی ہے کیونکہ آج کل پاکستان سافٹ ٹارگٹ ہے۔پاکستان کو اپنا کیس دنیا کے سامنے ان نئی معلومات کے ساتھ رکھنا چاہیے اور بھارت کے اصل چہرے سے جو نقاب اُٹھا ہے اِس پر اُس کے بارے دنیا کے خیالات کی تصحیح کی کوشش شروع کر دینی چاہیے بھارت کی طرح الزام برائے الزام کے لیے نہیں بلکہ اپنی بقاء اور سلامتی کے لیے۔

702
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...