مہذب دنیا میں اب اس حقیقت کا اعتراف کسی تکلف اور ترد کے بغیر کیا جاتا ہے کہ مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں وہاں کے عوام کی جاری جدوجہد ہر اعتبار سے سیاسی، پرامن اور قانونی جدوجہد ہے۔ بھارت نے طاقت کے بل بوتے پر اور علاقے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی ہوس کے تحت کشمیری عوام پر ظلم و ستم اور جبر و تشدد کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا خوب جانتا ہے کہ نئی دہلی نے مقبوضہ وادی کو عملی طور پر ایک چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود کشمیری عوام کے جذبہ حریت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ وہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ پرجوش اور متحرک ہیں۔ اس کا اندازہ گذشتہ چند دنوں کے واقعات سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ 17 مارچ کو مقبوضہ کشمیر کے پامپور قصبہ میں کرفیو کی شدید پابندیوں کے باوجود مظاہرین اور فورسز کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپوں کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں 15 مظاہرین زخمی ہوگئے۔ ایک طرف ای ڈی آئی میں فورسز اور جنگجوؤں کے مابین تصادم آرائی اور دوسری جانب پامپور قصبے اور اس کے گردونواح میں شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی اور دیگر حریت رہنماؤں میر واعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ اور محمد یاسین ملک نے بھارتی ریاستوں راجستھان اور مغربی بنگال میں کشمیر ی طلباء پر پولیس اور ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کی شدید مذمت کی ۔ انہوں نے ایک بیان میں بھارت کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم کشمیر طلباء کو ہراساں کئے جانے کی شدید مذمت کی اور کولکتہ میں پولیس کی طرف سے کالجوں کو کشمیر طلباء کے کوائف فراہم کرنے کی ہدایت جاری کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا کوئی علاقہ کشمیریوں کے لئے محفوظ نہیں بلکہ انہیں ہر جگہ ہراساں اور پریشان کیا جا رہا ہے۔ بیان میں مغربی بنگال کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ اگر کشمیری طلباء کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند نہ کیا گیا تو مقبوضہ کشمیر میں اس کا سخت ردعمل ہوگا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق نے کہا کہ کشمیر ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے جس سے پورے خطے کا امن خطرات سے دوچار ہے، مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ہی پاکستان بھارت قیادتوں کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا، پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادت کی جانب سے کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل کے ضمن میں مذاکراتی عمل کی بحالی ان کی سیاسی دور اندیشی ہے۔ حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین نے کہا کہ قربانیاں دینا آسان کام نہیں لیکن انہی کی بدولت آزادی کی منزل کا تعین ہوتا ہے۔ ہم شہداء کے مشن کو ادھورا نہیں چھوڑیں گے۔
18 مارچ کو بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کے دوران ضلع کپواڑہ میں 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ قابض فوجیوں نے ہندواڑہ کے علاقے بٹ محلہ میں تلاشی اور محاصرے کی ایک کارروائی کے دوران دونوں نوجوانوں کو شہید کیا۔ ایک بھارتی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ علاقے میں تلاشی اور محاصرے کی بڑی کارروائی کے دوران 2 نوجوانوں کو شہید کیا گیا ہے۔ دوسری طرف حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے بھارت میں کشمیری طالب علموں اور تاجروں کو ہراساں کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کے پیچھے ہندو انتہا پسند فسطائی جماعتوں کا ہاتھ ہے۔ حریت رہنماؤں آغا سید حسن الموسوی، بلال صدیقی، فردوس احمد شاہ، غلام محمد خان دپوری اور مسلم دینی محاذ نے اپنے بیانات میں کہا کہ حملہ آوروں کے بجائے کشمیری طلباء کی گرفتاری اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی حکومت کشمیری طلباء کے خلاف انتقامی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ کشمیری بھارت کے کسی کونے میں محفوظ نہیں اور بھارت کشمیری طالب علموں کے مستقبل کو تاریک بنانا چاہتا ہے۔
ادھر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی بھارت میں کشمیر طلباء کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے نئی دہلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ ا سلامیہ میں کشمیری طلباء کو ہراساں کیا گیا اور ان کے خلاف بھارت مخالف نعرے بلند کرنے پر جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے۔ اس کے بعد کولکتہ پولیس نے کشمیری طلباء کے کوائف جمع کرنے کا عمل شروع کیا۔ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے ترجمان ایڈووکیٹ زاہد علی نے کہا کہ بھارت میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کو منظم طریقے سے ہراساں کئے جانے کی مہم شروع کی گئی ہے اور سکیورٹی کے نام پر طلباء کو ہراساں کرنا قابل مذمت کارروائی ہے۔ مسلم دینی محاذ اور نام نہاد اسمبلی کے رکن انجینئر رشید نے اپنے بیانات میں بھارتی ریاستوں میں کشمیر طالب علموں کو ہراساں کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ طالب علموں کو اپنی تعلیم ترک کرنے پر مجبور کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔ انجینئر عبدالرشید نے مزید کہا کہ بھارت کے قانون نافذ کرنے والے ادارے دوہرا معیار ترک کرکے ہندو انتہا پسند تنظیموں کے آلہ کار نہ بنیں۔ اگر اتراگھنڈ بی جے پی کے ایم ا یل اے گنیش جوشی کے خلاف تشدد کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے تو کشمیریوں کے قتل عام میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔ ادھر کشمیری کارکنوں نے جنیوا میں پیلس دی نیشنز میں او آئی سی کے انسانی حقوق کے بارے میں آزاد مستقل مشن کے رکن ڈاکٹر سعید محمد الغفلی سے ملاقات کی اور انہیں مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال بارے بریفنگ دی۔ دریں اثناء بھارت کے معروف مؤرخ اور منصف رام چندر اگہانے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی کی حوصلہ افزائی نہ کرے بلکہ اس سے ہوشیاراور خبردار رہے۔
19مارچ کو بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع لتی ہاڑ میں انتہاپسند ہندوؤں نے گائے کے 2مسلمان بیوپاریوں کو بیدردی سے قتل کرکے نعشیں سرعام درخت سے لٹکا دیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس اور غم و عصے کی لہر دوڑ گئی۔ سینکڑوں افراد نے اس بربریت کے خلاف پر تشدد احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں بلا کر دیں۔ درجنوں گاڑیوں اور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس سے 10 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ بتایا گیا ہے کہ 35سالہ مظلوم انصاری اور 15سالہ امتیاز خان گائے بھینسوں کی خرید و فروخت کرتے تھے اور انہیں کافی عرصے سے یہ کاروبار ترک کرنے کیلئے انتہا پسند ہندو گروپوں کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں، دو روز قبل مظلوم انصاری اور محمد امتیاز قریبی منڈی سے جانور خریدنے گئے تو واپس نہ آئے البتہ دوسری صبح ان کی نعشیں لتی ہاڑ کے بلومتھ جنگل میں راستے پر درخت سے لٹکتی پائی گئیں۔ مقامی افراد کے مطابق حملہ آور ہندو انتہا پسند تھے جنہوں نے مظلوم انصاری اور محمد امتیاز کے ٹرک سے گائے بھینسوں کو اتار کر آزاد کر دیا اور دونوں مسلمانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا تاہم پولیس واقعہ پر پردہ ڈالنے کیلئے ہندو انتہا پسندوں کے اس میں ملوث ہونے سے انکار کر رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں نوجوانوں کو تشدد کے بعد قتل کیا گیا۔ مقامی ایم ایل اے اور جھاڑ کھنڈ وکاس مورچہ کے رہنما پرکاش رام نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں مسلمان بیوپاریوں کو انتہا پسند ہندو تنظیم کے کارکنوں نے وحشیانہ تشدد کرکے ہلاک کیا۔کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ظلم کو آخر کار ختم ہونا ہے اور مقبوضہ وادی میں آزادی کے سورج کو بہرحال طلوع ہونا ہے۔

526
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...