بین الاقوامی سفارتی اور سیاسی حلقوں میں پاکستان اور بھارت کے ایٹمی پروگرام کا عام طور پر تذکرہ رہتا ہے۔ گاہے یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں موجود پاکستان، بھارت اور چین تو پہلے ہی ایٹمی طاقتیں ہیں لیکن ایران کا ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں ہونے والی پیشرفت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔یہ امر انتہائی قابل غور ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہر اعتبار سے محفوظ اور پرامن ہے۔ آج تک کوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا جس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے انسانی زندگی کو خطرات لاحق ہوئے۔ بین الاقوامی ادارے اس حقیقت کی عام طور پر تصدیق کرتے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کی آرمز کنٹرول اور انٹرنیشنل سکیورٹی کی نائب سیکرٹری روزگاٹ مائلر نے سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا کہ جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کیلئے پاکستان کا سینٹر فار ایکسی لینس نہ صرف بہترین انداز میں کام کر رہا ہے بلکہ جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کے لیے علاقائی سطح پر عالمی ایجنسی کے تعاون سے تربیت بھی فراہم کر رہا ہے جبکہ بھارت کی جانب سے سینٹر فار ایکسی لینس کا قیام ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
یہ بات اب کوئی راز نہیں رہی کہ بھارتی ایٹمی تنصیبات صرف اپنی غیر معیاری تعمیر اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہی کے سبب خطہ کی سکیورٹی کے لئے خطرہ نہیں بلکہ ان کی سکیورٹی اسٹاف کی ریکروٹمنٹ اور سائنسدانوں کے تحفظ کے حوالہ سے بھی خطرناک ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے کہ بھارت میں صرف 2001ء سے 2011ء کے دوران انتہائی خطرناک افزودہ مواد کی چوری اور گمشدگی کے 16 بڑے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ برطانوی جریدہ ڈیلی میل کے مطابق ان میں سے 11 کا کوئی کھوج نہیں ملا اور ایک ایسا خوفناک واقعہ بھی پیش آیا جب انتہائی خطرناک ریڈیو ایکٹو مواد پر مشتمل سلینر دہلی کے ایک کباڑیہ کی دوکان پر آگیا جس سے متعدد افراد متاثر ہوئے۔عالمی برادری کو اس پر بھی تشویش ہے کہ بھارت میں ایٹمی سائنسدانوں کی سکیورٹی کے حوالہ سے بھی کوئی زیادہ اچھا ماحول نہیں ہے۔ صرف 2008ء سے اب تک 11 سائنسدان غیر طبعی بلکہ پراسرار موت کا شکار ہوئے ہیں اور یہ تمام ایسے علاقوں میں ہوئے جہاں تامل علیحدگی پسندوں کا کنٹرول ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارت حکومت نے ان افراد کے حوالے سے کوئی فکر، مندی ظاہر نہیں کی اور نہ ہی پولیس نے تفتیش کا عمل آگے بڑھایا۔ ایٹمی تنصیبات کی سکیورٹی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگست 2006ء میں بھارت کے نارورہ پلانٹ پر کام اس لئے روکنا پڑا کہ وہاں تین ایسے افراد پکڑے گئے تھے جن کے کوائف غلط ثابت ہوئے اور وہ رشوت دیکر جعلی دستاویز پر اس حساس ترین مقام پر بھرتی ہوئے اور ایک حادثہ کے نتیجہ میں پکڑے گئے۔ دوسری جانب سائنسدانوں کے لئے بھارتی ایٹمی پروگرام موت کا پھندا ثابت ہو رہا ہے اور ملکی سلامتی کے اتنے اہم معاملہ پر کام کرنے والوں کی موت پر رسمی انکوائری بھی نہیں ہو پارہی۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ بھارتی ایٹمی پروگرام کا بانی ڈاکٹر بھابھا بھی ایک پراسرار فضائی حادثہ کا شکار ہوا تھا ۔ 1966ء کے اس واقعہ کو بھارتی حکام CIA کی سازش قرار دیتے ہیں مگر حالیہ ہلاکتوں پر خاموشی بتاتی ہے کہ د ال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ ڈیپارٹمنٹ آف اٹامک انرجی انڈیا کے ریکارڈ کے مطابق 13 جون 2009ء کو بھارتی میڈیا نے ایک خبر چلائی جس سے معلوم ہوا کہ kaiga ایٹمی پلانٹ کرناٹک پر کام کرنے والا ایک سائنسدان مردہ حالت میں پایا گیا اس کے ساتھ ہی بھارتی میڈیا خاموش ہوگیا۔ ریکارڈ کے مطابق loka nathan malalinagan نامی یہ سائنسدان بھارتی نیول بیس کے قریب واقعہ پلانٹ پر تعینات تھا اور اس کے ذمے نئے بھرتی ہونے والوں کی تربیت کا کام تھا ۔ یہ 8 جون کو گھر سے صبح کی سیر کے لئے نکلا اور واپس نہیں آیا، 13 جون کو دریاء کالی کی خشک گزرگاہ سے اس کی مسخ شدہ لاش ملی۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اسے اغواء کرکے ہلاک کیا گیا ہے، مگر پھر آج تک یہ خبر نہیں آئی کہ پولیس نے کیا کیا۔ بھارت کا یہ ایٹمی پلانٹ کئی ایک حادثات کی تاریخ رکھتا ہے اور بھارت نے اسے عالمی ادارہ کے معائنہ سے دور رکھا ہوا ہے جس کے سبب اس کی سکیورٹی بھی قابل بھروسہ قرار نہیں دی جا سکتی۔
اسی طرح کا ایک واقعہ اپریل 2011ء میں پیش آیا جب 63 سالہ خاتون سائنسدان روما راؤ کی لاش اس کے گھر گووندی میں اس حالت میں ملی کہ اس نے پھندا لے رکھا تھا۔ اس کے رشتہ داروں نے اس واقعہ کو قتل قرار دیا مگر پولیس کا اصرار تھا کہ خاتون نے ذہنی پریشانی کے سبب خودکشی کی ہے، روما بھارت کے سب سے پرانے پلانٹ بھابھا سے ریٹائر ہوئی تھی۔روی مل کا حادثہ بھی اسی سال پیش آیا جو بھارتی میڈیا کی دو سطری خبر بننے سے بھی محروم رہا۔ یہ بھی بھابھا انسٹیٹیوٹ کا ملازم تھا جو غائب ہوا اور مردہ قرار دے دیا گیا۔ لیئر کی موت بھی ایک ایسا ہی واقعہ تھا جو 23 فروری 2010ء میں پیش آیا۔وہ اپنی رہائش گاہ پر مردہ پائے گئے، مگر وہاں کوئی فنگر پرنٹ یا کوئی دوسرا ثبوت نہیں پایا گیا البتہ اندرونی چوٹیں دیکھی گئیں تھی کہ کھوپڑی میں بھی غیر معمولی قسم کی چوٹیں تھیں اس کے باوجود مقدمہ داخل دفتر کر دیا گیا۔ کے کے جوشی اور بھشن شیوام کا انجام بھی کچھ مختلف نہیں حالانکہ وہ سول نہیں عسکری پراجیکٹ پر کام کر رہے تھے اور بھارتی بحریہ کی پہلی ایٹمی آبدوز کے پراجیکٹ سے متعلق تھے۔ ان کی لاشیں ریلوے ٹریک پر ملیں، گھر والوں کی کوششوں کے باوجود کافی شنوائی نہیں ہوئی۔
ایک انتہائی خوفناک واقعہ امید سنگھ اور پرتھاپریتم بھاگ کے ساتھ پیش آیا دونوں بھابھا سنٹر پر کام کر رہے تھے کہ 30دسمبر 2012ء کو بھابھا کی تیسری منزل پر ایک دھماکہ ہوا اور جب لوگ وہاں پہنچے تو ان دونوں کی جلی ہوئی لاشیں پڑی تھیں۔قابل ذکر بات یہ تھی کہ بھابھا انتظامیہ کے مطابق اس لیب میں کوئی آتش گیر مادہ ہی نہیں تھا۔ اگرچہ کیس د اخل دفتر ہوگیا مگر میڈیا کے مطابق وہاں یہ لوگ کیمیائی ہتھیاروں پر کام کر رہے تھے اور آکسیجن ختم کر دینے والے ایک ہتھیار کے حوالہ سے کام ہو رہا تھا جس میں کسی غلطی کے سبب یہ حادثہ ہوگیا اور بھارتی حکومت نے ناکامی کا راز فاش ہونے کے خوف سے انکوائری نہیں ہونے دی۔واحد مسلمان سائنسدان محمد مصطفی بھی خطرناک انجام سے نہ بچ سکا۔ اندرا گاندھی اٹامک انرجی سنٹر میں ملازم تھا رہائش گاہ پر مردہ پایا گیا۔ شش پال بھی ایک ایسا ہی کردار ہے جس نے بھابھا ایٹمی پلانٹ پر خودکشی کر لی۔ اسی طرح چندرا، اکشے کمار اور جسونت راؤ کے کیسز ہیں جو 2010ء اور 2011ء میں پیش آئے۔ عالمی اداروں نے ان واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا مگر بھارت نے کسی کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس حوالہ سے بھارتی صحافی اجے ہتا کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام اموات دو طرح کے حالات میں ہوئی ہیں، اول تو یہ کہ نکسل دہشت گرد ایٹمی مواد چرانا چاہتے تھے اور انہوں نے سائنسدان کو اغوا کیا اور اسے مار ڈالا۔ بھارتی حکومت اپنی سکیورٹی کی کمزوری ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی تھی لہذا اس نے کیس دبا دیا۔ دیگر معاملات میں مصطفی غلط ملک میں غلط پیشہ کا انتخاب کرنے پر ماراگیا، اس پر بھارتی ایجنسیوں کو شک تھا اور اس کا مسلمان ہی ہونا اس کی موت کا سبب بنا۔
دیگر تمام لوگ بھی ایک ہی انجام کا شکار ہوئے کہ ا ن میں سے بھابھا کے ملازمین زیادہ ہیں وہ سب مارے گئے کہ جو غیر انسانی منصوبوں پر کام کر رہے تھے، ان کے مکمل ہونے یا ناکام ہو جانے پر راز داری کے لئے انہیں مار ڈالا گیا۔ بھابھا سے باہر جتنی بھی اموات ہوئیں وہ نکسل علاقہ میں ہوئیں ان میں سے بعض دہشت گردوں کی ڈیمانڈ پوری نہ کرنے پر مارے گئے اور بعض دہشت گردوں سے رابطوں کے الزام میں بھارتی سکیورٹی کے ہاتھوں مارے گئے۔ مہتا کے بقول یہ تعداد اتنی کم نہیں ہے، حقیقت میں بہت زیادہ ہے۔ اس تعداد میں وہ لوگ شامل نہیں جو انتہا پسندوں کے ہاتھوں اس لئے مارے گئے کہ انہوں نے تابکاری مواد کی اسمگلنگ میں ان کا ساتھ نہیں دیا اس طرح کے واقعات گجرات اور اس طرف کے علاقوں میں ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر عالمی ادارہ کی 2015ء کی اس رپورٹ میں بھی بھارت کو سکیورٹی کے حوالہ سے غیر ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جس کے ریکارڈ پر 16 ایسے حادثات ہیں جن پر عالمی سطح پر تشویش کا ا ظہار کیا گیا۔ جبکہ عالمی ادارہ کے سیکرٹری جنرل YUKIYA AMANO نے گذشتہ برس اپنی اسی رپورٹ میں جس میں بھارت کی ایٹمی سکیورٹی تشویش کا اظہار کیا اورپاکستان کی ایٹمی سکیورٹی کو مثالی قرار دیا گیا ہے۔پاکستان کے سیکرٹری خارجہ عزیز احمد سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ریکارڈ گذشتہ 40 برس سے قابل تعریف ہے۔ سیکرٹری جنرل کی یہ رائے اپنی جگہ لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت جو دنیا کے لئے خطرہ بنتا جا رہا ہے اسے کون روکے گا۔

612
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...