وطن عزیز کے سیاسی حلقوں میں اس حقیقت کا بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ جنوری 2016ء کے آخری ہفتے میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی صدارت میں ہونے والے بھارتی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جموں و کشمیر اور دیگر بائیں بازو کی انتہاپسند جماعتوں سے متاثرہ ریاستوں میں 17 انڈیا ریزرو بٹالین(IRB) میں اضافہ کیا جائے جس کے تحت مقامی نوجوانوں کی بھرتی کا راستہ ہموار ہو سکے گا۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں ایسی پانچ بٹالین جبکہ چھتیس گڑھ میں 4، جرکند میں 3، اڑیسہ میں 3 اور مہاراشٹرا میں 2 بٹالین موجود ہیں۔ اصل مقصد اور توجہ بہرحال 17 بٹالین پر ہی مرکوز ہوگی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھرتی کے سلسلے میں حسب ضرورت تعلیم اور عمر کے معیارات میں نرمی بھی دی جا سکے گی۔ جموں و کشمیر میں جو پانچ بٹالین تیار کی جائیں گی ان میں جموں وکشمیر کے سرحدی اضلاع سے 60 فیصد آسامیاں پر کی جائیں گی جن میں کانسٹیبل سے لے کر کلاس IV کی آسامیاں شامل ہیں۔ دیگر ریاستوں میں کانسٹیبل کی 75 فیصد آسامیاں سکیورٹی سے متعلق اخراجات سکیم (SRE) کے تحت 27 حساس اضلاع سے پر کی جائیں گی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارتی حکومت نے انڈین ریزرو بٹالین کی مذکورہ سکیم 1971ء میں متعارف کرائی تھی۔ حکومت نے اب تک مختلف ریاستوں میں 153(IRB) کی منظوری دی ہے۔ ان میں سے اب تک 144 تیار کی جا چکی ہیں اور جرقند میں قائم ایک بٹالین کو سپیشل انڈین ریزرو بٹالین (SIRB) میں تبدیل کیا گیا ہے جس میں 2 انجیئنرنگ اور 5 سکیورٹی کمپنیاں شامل ہیں۔
اس تناظر میں یہ امر بلاشبہ قابل ذکر ہے کہ 10 مارچ کو اسلام آبادمیں ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران واضح کر دیا کہ بھارت کے ساتھ جب بھی مذاکرات بحال ہوئے تو مسئلہ کشمیر کو ضرور زیر بحث لایا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے ایجنڈا پر سب سے پرانا تنازعہ مسئلہ کشمیر کا ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر اصولی موقف میں تبدیلی کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ بے گناہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی ہتھکنڈوں کی مذمت کی ہے اور اس مسئلے کو بین الاقوامی فورموں پر اٹھایا ہے۔ اب بھی پاکستان کشمیری عوام کے خلاف بھارتی فورسز کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ واضح رہے کہ برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے مسئلہ کشمیر پر بات کی شرط عائد نہ کی جائے اور موصوف کے اس بیان پر مقبوضہ اور آزاد جموں کشمیر کے قائدین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ ہم پاک امریکہ سٹریٹجک ڈائیلاگ کے اس اعلامیہ کا خیرمقدم کرتے ہیں جس میں مسئلہ کشمیر کو ایک تنازعہ کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس مسئلہ کے حل کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اسی روز سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات دور کرانے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے لیکن خود کو کسی پر مسلط نہیں کرے گا۔ بھارتی اخبار کو انٹرویو میں سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کا تاریخی اتحادی ہے اور رہے گا۔ پاکستان سے سعودی عرب کے تعلقات بھارت کے ساتھ تعلقات کی قیمت پر نہیں ہیں۔ بھارت سے تمام شعبوں میں سعودی عرب کے سٹریٹجک تعلقات ہیں۔ اگر دونوں ملکوں کے ساتھ یہ قریبی تعلقات ان کے ا ختلافات دور کرنے میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں تو سعودی عرب اس کے لیے تیار ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے سیاسی اور سماجی حالات بدستور تشویشناک ہیں اور ایسے میں ضروری ہے کہ وطن عزیز کے ذمہ داران اپنا کردار ادا کرنے میں کسی غفلت یا تساہل سے کام نہ لیں۔ حال ہی میں جماعۃ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید نے کہا کہ افغانستان میں قائم بھارتی قونصل خانے دہشت گردوں کو اسلحہ اور دیگر وسائل فراہم کر رہے ہیں اور مودی سرکار بلوچستان، سندھ و دوسرے علاقوں میں تخریب کاری پروان چڑھانے کیلئے بے پناہ سرمایہ خرچ کر رہی ہے جبکہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت پاکستان، بھارت کی دہشت گردی کو عالمی سطح پر بے نقاب کرے اور مظلوم کشمیری مسلمانوں کی کھل کر مدد حمایت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت و امریکہ کے مفادات بہت گہرے ہیں۔ بھارت جو کہتا ہے ، امریکہ نہ صرف اس کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اس پر عملدرآمد کیلئے بھی پاکستان پر دباؤ ڈالتا ہے۔ یہ دونوں پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط نہیں دیکھنا چاہتے۔ اسی لئے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور بھارت کی طرح مغربی میڈیا بھی اس میں پیش پیش ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں حصہ لینے والوں کو ’’حریت پسند‘‘ اور ’’مجاہد‘‘ کہا جاتا تھا لیکن نائن الیون کے بعد بیرونی دباؤ پر پالیسی تبدیل کی گئی اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت سے کنارہ کشی کی جانے لگی۔ کشمیر مسلمان اس وقت سے قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ بھارتی فوج نے جموں کے علاقہ میں کشمیریوں سے ان کی زمینیں چھیننا شروع کر رکھی ہیں جس کے نتیجے میں نقل مکانی کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا اور کشمیری مسلمان وہاں سے نکل رہے ہیں۔ جب سے نریندر مودی نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا ہے تب سے بھارتی انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس کشمیریوں کو قتل کر رہی ہے اور ان کا جینا دو بھر کر دیا گیا ہے۔ اب مقبوضہ کشمیر میں فوجی کالونیاں بنائی جا رہی ہیں اور کشمیر میں تعینات بھارتی فوجیوں کو مفت مکانات بنا کر ان کو رہائش دی جا رہی ہیں۔ درحقیقت یہ فوجی کالونیاں نہیں بلکہ فوجی چھاؤنیاں ہیں جو بھارتی فوج کے قبضے کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔
یہ امر بڑی حد تک تسلی بخش محسوس ہوتا ہے کہ مہذب دنیا کو مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال کا بڑی حد تک علم اور احساس ہے۔ اگر ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور خاص طور پر مقبوضہ وادی کے مسلمانوں کے لئے زندگی عذاب بنائی جا رہی ہے تو دوسری طرف ساری دنیا کی طرف سے نئی دہلی کے ظالمانہ کردار کی مذمت بھی کی جا رہی ہے۔ عالمی سفارتی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ بھارت کا ظلم اور جبر و ستم کسی طور بھی مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند عوام کی آزادی کا راستہ نہیں روک سکتا۔ یوں بھی بندوق کی نوک پر کسی قوم کو زیادہ دیر تک غلام اور محکوم بنا کر نہیں رکھا جا سکتا۔

414
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...