ساری مہذب دنیا اس حقیقت کا فراخدلی کے ساتھ اعتراف کرتی ہے کہ دہشت گردی اور خاص طور پر داعش کی دہشت گردی نے عالمی امن کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب امن اور انسانیت کے دشمن مذکورہ عناصر بے گناہ اور بے قصور انسانوں کے خون سے ہولی نہ کھیلتے ہوں۔ بظاہر داعش کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات پر عمل اور خلافت کا نظام حکومت قائم کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے لیکن اس سلسلے میں اس کا طریقۂ کار بلکہ طریقہ واردات کسی اعتبار سے بھی اسلام کی مقدس تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اسلامی دنیا کے جید اور ثقہ مفتیان نے اتفاق رائے سے یہ فتویٰ جاری کر رکھا ہے کہ داعش نے جو راستہ اختیار کر رکھا ہے وہ کسی طور اسلامی نہیں ہے۔ یہ امر بھی کسی تشریح کا محتاج نہیں ہے کہ داعش کی ظالمانہ کارروائیوں سے اسلام کی تعلیمات بارے غلط فہمی میں اضافہ ہوا ہے۔ خود اہل مغرب کو جب حقائق معلوم ہوتے ہیں تو وہ حیران و ششدر رہ جاتے ہیں کہ اسلام کی تعلیمات اور داعش کی کارروائیوں میں سوائے تضاد کے کچھ بھی مشترک نہیں ہے۔ ایک عامی کو بھی خوب معلوم ہے کہ داعش نے یوں تو مشرق وسطیٰ میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے لیکن اس کی کارروائیوں کا ایک بڑا ہدف عراق اور شام کے ممالک ہیں۔ داعش کی طرف سے کئی مرتبہ یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنی کارروائی کا دائرہ دیگر ممالک تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ان حالات میں یہ امر بلاشبہ پراسرار تصور کیا جاتا ہے کہ داعش کی پشت پناہی کون کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ خود امریکہ نے داعش کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا۔ اگر امریکی حکومت بروقت اقدامات کرتی تو داعش کو اس قدر تباہی مچانے اور مضبوط ہونے کا موقع ہی میسر نہ آتا۔ اسی طرح اس بارے بھی بے حد تجسس پایا جاتا ہے کہ داعش کو اسلحہ اور بارود کون فراہم کرتا ہے۔ واضح رہے کہ داعش کی طرف سے اپنی دہشت گردی اور تخریب کاری کی کارروائیوں میں جدید عسکری سازو سامان اور ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو اس حقیقت کا علم ہوگا کہ دنیا میں تنازعات اور ناجائز اسلحہ کی فراہمی اور استعمال کے بارے میں ایک ادارہ ریسرچ کا کام کرتا ہے۔ اس ادارے نے شام اور عراق میں پائے گئے ڈیٹونیٹرز، ڈیٹونیٹنگ کارڈ اور سیفٹی فیوز وغیرہ (جو داعش کے استعمال میں رہے) کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا کہ مذکورہ عسکری سازو سامان میں سے بیشتر بھارتی کمپنیوں کی طرف سے فراہم کیا گیا تھا۔ اس ادارے کے مطابق ایسے شواہد حاصل کئے گئے جن سے ثابت ہوا کہ امریکہ، روس، چین، برازیل، ایران، بیلجیئم، نیدر لینڈ اور جاپان سمیت 20 ممالک کی 50 کمپنیوں نے داعش کو فوجی سازو سامان فراہم کیا۔ یہ حیرت انگیز امر بھی بیان کیا گیا کہ ترکی کی 13 کمپنیاں اور بھارت کی 7 کمپنیاں ایسی متعدد کمپنیوں میں شامل ہیں جنہوں نے داعش کو فوجی سازو سامان فراہم کیا اور اس سامان میں سے 700 سے زائد پرزے  متاثرہ علاقوں سے برآمد ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھارتی کمپنیوں کی طرف سے داعش کو جو سازو سامان فراہم کیا گیا وہ بھارتی حکومت کے جاری کردہ لائسنس کے تحت فراہم کیا گیا لیکن نئی دہلی کی طرف سے اس امر کی تردید کی گئی ہے۔
مذکورہ رپورٹ میں البتہ یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس کی بناء پر یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ مذکورہ کمپنیوں نے داعش کو بیان کردہ سازو سامان برائے راست فروخت کیا۔ اس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ کمپنیوں نے اپنا سازو سامان فروخت کرنے کے لئے کسی دوسرے تجارتی اداروں سے معاملہ کیا جنہوں نے بعدازاں داعش کے ساتھ اس باب میں سودا طے کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عراق اور ترکی میں زراعت اور کان کنی کے شعبے وسیع پیمانے پر موجود ہیں جہاں پر مختلف کیمیکلز کی مدد سے دھماکہ خیز مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ داعش نے یہ صلاحیت حاصل کر رکھی ہے کہ وہ اپنی ضرورت اور مرضی کے مطابق دھماکہ خیز مواد اور ہلاکت خیز سازو سامان تیار کر سکے جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر شہری اور فوجی افراد کو ہلاک کیا جاتا ہے۔ دھماکہ خیز مواد کی تیاری کے سلسلے میں مارکیٹ سے نہایت ارزاں نرخوں پر خام مال، خاص طور پر کھاد اورامونیم نائیٹریٹ حاصل کی جاتی ہے۔
دریں اثناء ایک معروف امریکی اخبار نے د عویٰ کیا ہے کہ بھارت داعش کو اسلحہ فراہم کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ بھارت اس وقت داعش کو بارودی مواد سمیت بھاری اسلحہ دے رہا ہے۔ داعش کے زیر استعمال سیفٹی فیوز ڈیٹونیٹرز اور دیگر تباہ کن اسلحہ بھارتی کمپنیوں کا بنا ہوا ہے۔ اس وقت بھارت کی 7 بڑی اسلحہ ساز فیکٹریاں دوسرے ممالک کو جو اسلحہ بھیج رہی ہیں وہ داعش کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ اسلحہ ترکی، شام اور دوسرے ممالک سے ہو کر داعش کے جنگجوؤں کے پاس جاتا ہے۔ دوسری طرف روس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سرگرم دہشت گرد گروپ داعش اور دوسری انتہاپسند تنظیمیں اپنے مقاصد کے لیے کیمیائی ہتھیار استعمال کر سکتی ہیں۔ جنیوا میں کیمیائی اور جوہری ہتھیاروں کی کمی سے متعلق منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے داعش کو دور حاضر کا بدترین خطرہ قرار دیتے ہوئے اس سے نمٹنے کے لیے نئے عالمی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں سامنے آنے والی تحقیقات سے یہ پتہ چلا ہے کہ داعش اور دوسرے دہشت گرد گروپ نہ صرف زہریلا اسلحہ تیار کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے شام اور عراق میں ان ہتھیاروں کو استعمال بھی کیا ہے۔ شام میں موجود دہشت گرد ترکی کے راستے اسلحہ حاصل کرتے ہیں۔
جب سے بھارت اور داعش کا عسکری ’’رومانس‘‘ بے نقاب ہوا ہے، بین الاقوامی سفارتی اور سیاسی حلقوں میں اس بارے بحث شروع ہو گئی ہے کہ بھارت ایک طرف تو دنیا کو دہشت گردی کے جہنم میں دھکیلنے کے لئے داعش کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے اور دوسری طرف وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست حاصل کرنے کا خواہاں بھی ہے۔ بھارت اپنی اس خواہش اور کوشش میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ تو وقت آنے پر ہی ہوگا لیکن اس وقت اس حقیقت سے ساری دنیا باخبر ہو چکی ہے کہ بھارت نے اپنے اسلام دشمن اور انسان دشمن چہرے پر سیکولرازم اور جمہوریت کا نقاب اوڑھ رکھا ہے لیکن یہ نقاب اب نہایت تیزی کے ساتھ اترتا چلا جا رہا ہے۔

552
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...