بھارت پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور ایسا ہمسایہ ملک ہے جو کھبی بھی پاکستانی کی ترقی و خوشحالی پر خوش نہیں ہوتا اسے ہر وقت یہ ڈر لگا رہتاہے کہ پاکستان اس کی سالمیت کے خلاف ہے یہ وہم اسے قیام پاکستان سے ہے اسی وجہ سے وہ پاکستان کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے اور جب بھی اسے موقع ملے پاکستان کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتابھارت میں ہونے والے ہر برئے واقعے کاکھرا وہ پاکستان میں ہی ڈھونڈتا ہے اور پاکستان کی ترقی یا کامیابی پر تو بھارت کا رویہ قابل رحم ہوتا ہے یوں تو بھارت کے جتنے بھی ہمسایہ ملک ہیں وہ سب اس سے خائف ہی رہتے ہیں اس کی بڑی وجہ ان ہمسائیوں کے معاملات میں بے جا مداخلت ہے جو بھارت کرنے سے باز نہیں آتا خطے میں بھارت کا مقابلہ ہمیشہ سے ہی پاکستان کرتا آیا ہے اور پاکستان وہ واحد ملک ہے جو بھارت کے ہم پلہ ہے چاہے وہ فوج میں یا سول میں ہمسایہ ہونے کی وجہ سے کئی ایک تنازعات ایسے ہیں جن کا سد باب ہونا ضروری ہے کیونکہ ان تنازعات کی وجہ سے پاکستان اور بھارت میں کئی خونیں جنگیں ہو چکی ہیں اور ان تمام مسائل کی جڑ مسئلہ کشمیر ہے جو بھارتی جارحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے بھارت دنیا میں جمہوری ملک ہونے کا بڑا دعویدار ہے مگر عملی طور پر وہ ایک غاصب اور جابر ملک ہے اس کی اس غاصبانہ روش کی وجہ سے پاکستان کو کم سے کم دفاعی صلاحیت قائم کرنی ہوتی ہے تاکہ وہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکے اس کے لئے دنیا کے کئی ممالک سے پاکستان کو اسلحہ خریدنا پڑتا ہے اسی تناظر میں جب امریکہ نے پاکستان کو ایف سولہ طیارے فراہم کرنے کی منظوری دی تو بھارت کے پیٹ میں خواہ مخوہ درد ہونا شروع ہو گیا
پاکستان نے ہمیشہ اپنے دفاعی مقاصد کیلئے ہتھیار حاصل کئے ہیں اور کبھی کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں کی اس کا تو یہ اصولی موقف ہے کہ تمام تنازعہ امور مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہئیں آپس میں اچھے ہمسائیوں کی طرح رہنا چاہیے اور اپنے مالی وسائل کو عوام کی غربت کے خاتمے اور ان کی ترقی و خوشحالی کیلئے استعمال کرنا چاہیے۔
امریکہ کی طرف سے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی پر بھارت سرکار میں بلا جواز رد عمل کا اظہار کیا جارہا ہے بھارت جو جدید اسلحہ کے بھاری ذخائر حاصل کررہا ہے اس کی طرف سے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی پر منفی رد عمل زیب نہیں دیتا اور بھارت کے پاس تو فوج اور ہتھیاروں کے ذخائر پاکستان سے کہیں زیادہ ہیں اور وہ دنیا میں دفاعی سامان کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے بھارت کے نزدیک معاہدوں اور وعدوں کی کوئی اہمیت نہیں اس لئے وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایف سولہ کے معاملے میں امریکہ اور پاکستان کے مابین ماضی کا ایک معاہدہ موجود ہے وہ پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی پر احتجاج کررہا ہے جبکہ امریکہ اور پاکستان کا یہ موقف ہے کہ ان طیاروں کی فراہمی سے انسداد دہشتگردی کے مقاصد میں مزید کامیابیاں حاصل ہوں گی ایف سولہ طیاروں کی خریداری انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے سے ہے پاکستان اور امریکہ انسداد دہشتگردی کیلئے ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کررہے ہیں امریکہ پہلے ہی یہ واضح کر چکا ہے کہ ان طیاروں کی فروخت صحیح طور پر نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافے کیلئے ہے ان طیاروں میں ریڈار سمیت دوسرے ساز و سامان بھی شامل ہیں ان ایف سولہ طیارے سے پاکستانی فضائیہ کو ہر طرح کے موسم ماحول اور رات میں بھی پرواز کرنے کی سہولت میسر ہوگی جبکہ اس سے پاکستان کی اپنی دفاعی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا پاکستا نے ڈیوڈ ہیڈی کے حالیہ بیانات کو بھی مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے انسداد دہشتگردی کیلئے اس کی کوششوں کو پوری دنیا سراہتی ہے دہشتگردی صرف پاکستان کا نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہے ادھر مریکہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت پرانے معاہدوں کے مطابق کی گئی ہے یہ معاہدہ کئی سال پہلے ہوا تھا جو کانگرس کی منظوری کیلئے رکا ہوا تھا اب کانگرس کی منظوری کے بعد پاکستان کو یہ طیارے دیئے جارہے ہیں یقیناً یہ طیارے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کیلئے بھی تقویت کا باعث ہوں گے لیکن بھارت کیلئے اس پر کسی قسم کی تشویش کا کوئی جواز نہیں ہے وہ پہلے ہی روس امریکہ اور فرانس سے بھاری اسلحہ حاصل کررہا ہے اس پر کھبی بھی پاکستان نے کوئی بات نہیں کی ۔دوسری طرف امریکہ نے بھارتی احتجاج کو مسترد کرکے اس حقیقت کو آشکار کیا ہے جسے بھارت دانستہ طور پر نظر انداز کررہا تھا اور خود کو خطے کا چوہدری سمجھ رہا تھا ۔ پاکستان کو ایف سولہ فراہمی کی وجہ سے پاکستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں پاکستان کی کارکردگی مزید بہتر ہو گی اور یقیناًان طیاروں کی فراہمی کی وجہ سے بھارت کا وہ خواب چکنا چور ہو جائے گا جس میں وہ خطے کا تھانیدار بنا ہوا تھا اور پاکستان کو اپنے دفاعی مقاصد پورے کرنے میں یہ طیارے معاون ثابت ہوں گے ۔

331
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...