گذشتہ دنوں بھارتی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب نئی دہلی میں طلباء نے حکومت کے خلاف ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ ہوا یوں کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں 9 فروری کو کچھ طلبہ نے پارلیمان پر حملے کے الزام میں پھانسی کی سزا پانے والے افضل گرو کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب نہایت پرسکون رہی لیکن نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمان مہیش گری نے پولیس میں شکایت درج کرائی کہ مذکورہ تقریب میں طلبہ نے بھارت کے خلاف اور پاکستان اور کشمیر کے حق میں ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے۔ موصوف نے وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ اور انسانی وسائل کے فروغ کی وزیر اسمرتی ایرانی کو بھی اس حوالے سے خط لکھا۔ 10 فروری کو ایک نیوز چینل نے ویڈیو نشر کیا جس میں بعض طلبہ نعرے بازی کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ کنہیا کمار نے اس الزام کی تردید کی، دہلی کے پولیس کمشنر بھیم سین بسی نے کنہیا کے خلاف ’’خاطر خواہ‘‘ ثبوت موجود ہونے کا دعویٰ کیا اور دہلی پولیس نے کنہیا سمیت آٹھ طلبہ کے خلاف ملک سے بغاوت کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا۔
18فروری کو نئی دہلی میں بھارتی طالب علم رہنما کنہیا کمار کو افضل گرو کے سیل میں نظر بند کر دیا گیا جس کے بعد احتجاج کا سلسلہ کئی شہروں میں پھیل گیا۔ کانگریسی رہنما راہول گاندھی کو احتجاج میں شریک ہونے پر بی جے پی نے غدار قرار دے دیا، نئی دہلی میں طلبہ نے کنہیا کمار کی تصاویر والی شرٹس پہن لیں۔ دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں کشمیر کی آزادی اور بھارت مخالف نعرے سنے گئے جس سے بھارتی سیاست میں بھونچال آ گیا ہے۔ چنائی، حیدرآباد، کولکتہ اور ریاست بہار اور گوہاٹی میں طلبہ کنہیاکمار کی حمایت میں باہر نکل آئے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ بھی مظاہرین کا ساتھ دینے پہنچ گئے اور مودی سرکار سے طلبہ یونین کے صدر کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ نئی دہلی میں طلباء نے مانڈی ہاؤس سے جنتر منتر کی جانب مارچ کیا۔ ادھر بھارتی میڈیا کے مطابق کنہیا کمار کو افضل گرو والی جیل کے سیل نمبر 3 میں ہفتہ تک تنہا رکھا جائے گا جبکہ 50 سے زائد اہلکار چوبیس گھنٹے کنہیا کمار کی حفاظت پر تعینات ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کنہیا کمار اور دلی یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالرحمن گیلانی کے خلاف مقدمات ختم کر کے انہیں جلد رہا کرے۔ حیرت انگیز طور پر 23 فروری کو یہ حقیقت منظر عام پر آئی کہ جواہرلعل نہرو یونیورسٹی میں 9 فروری کے احتجاج میں، ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے نہیں لگائے گئے تھے۔ 12 فروری کو جو رپورٹ درج کرائی گئی اس میں کہا گیا تھا کہ طلباء نے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے۔ واضح رہے کہ 26 فروری کو بھارتی سپریم کورٹ نے ان تین وکلا کو 4 مارچ کے لیے نوٹس جاری کر دیئے ہیں جنہیں ٹیلی وژن کی فوٹیج میں طلبہ یونین لیڈر کنہیا کمار، صحافیوں اور جواہر لال یونیورسٹی کے گرفتار اساتذہ پر تشدد کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ درخواست قانون دان کا منی جیسوال نے دائر کی ہے جس میں 15 اور 17 فروری کو ہونے والے پرتشدد واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
مذکورہ بالا حالات اور واقعات کا ظاہر ہے کہ وطن عزیز کی سیاست کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہ تھا لیکن وہ عناصر جن کو قوم پرستی اور حب الوطنی کے تقاضوں کا کوئی احترام نہیں اور جن کے لئے ذاتی مفادات ہی ان کی اولین ترجیح ہیں، انہوں نے بھارتی واقعات کی آڑ میں وطن عزیز کی طلباء کی سیاست کو زیر بحث لانا شروع کردیا۔ ان کو یکدم اس خیال نے اپنی گرفت میں لے لیا کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونین پر پابندی ہے جس سے نئی نسل کا ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے۔ اسی تناظر میں گذشتہ دنوں وطن عزیز کے ایک انگریزی روزنامہ میں ایک مضمون شائع ہوا جس کے مضمون نگار کے طور پر عاصم سجاد اختر کا نام شائع ہوا اور ان کے بارے میں یہ بھی درج کیا گیا کہ وہ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں استاد کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس امر کی وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ کس مضمون کی تدریس سے وابستہ ہیں لیکن ان کے خیالات اور تجزیات سے یہ ضرور ظاہر ہوا کہ وہ اپنے طلباء کو کس معیار کی اور کس جہت میں تعلیم رہے ہوں گے۔ سب سے پہلے تو مضمون نگار نے افضل گرو کو ایک دہشت گرد قرار دیا اور اس کے ساتھ ہی اس انوکھے خیال کا اظہار کیا کہ بھارت میں جمہوریت کا بول بالا ہے اور وہاں پر طلباء کو سیاست کی پوری آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے بھارتی تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونین کی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس کے ساتھ ہی اس امر پر ’’سیاپا‘‘ کیاکہ پاکستان میں سٹوڈنٹس یونین پر وہ پابندی بدستور عاید ہے جس کا فیصلہ 1984ء میں فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق نے کیا تھا۔ نامعلوم وجوہات کی بناء پر مضمون نگار نے اپنے اس خبث باطن کا اظہار کرنا یوں بھی مناسب سمجھا کہ اس نے پاک فوج کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ پاک فوج کی خدمات اور کردار کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اس مضمون نگار نے یہ ہرزہ سرائی کرنے میں کوئی اجتناب نہ کیا کہ پاک فوج بدستور ایک ’’مقدس گائے‘‘ ہے جو وطن عزیز کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی نگہبان اور محافظ بنی ہوئی ہے۔موصوف نے یہ تجزیہ بھی کیا کہ پاک فوج کے مقابلے میں بھارت کی فوج کو یا کسی دوسرے ادارے کو ایسا مقام حاصل نہیں ہے۔
خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مضمون نگار کا تعلق اس ’’چھوٹے سروں والی مخلوق‘‘ سے ہے جس کو یہ بنیادی اور اساسی بات ہی سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذہبی اور دینی اعتبار سے جو خلیج ہے، اس کو کبھی عبور نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے خود ساختہ دانشوروں کو بھلا کون باور کرائے کہ پاک فوج واقعی وطن عزیز کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے۔ اگر پاک فوج یہ فریضہ سرانجام نہ دے تو مذکورہ ’’چھوٹے سروں والی مخلوق‘‘ جو پہلے ہی فکری اعتبار سے بے جہت اور بے نیاز ہے، مملکت خداداد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ جہاں تک فوج کے ان چند جرنیلوں کا سوال ہے جنہوں نے کسی بھی مرحلے پر کسی جمہوری اور منتخب حکومت کو نقصان پہنچایا تو ایسے عناصر کو خود فوج میں بھی تحسین کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ پاک فوج مہم جو اور طالع آزما چند جرنیلوں کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک عام سپاہی سے لے کر اعلیٰ قیادت تک کے ان پرعزم اور شجاع محب وطن افراد کا نام ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر رن کچھ کے ریگستان سے لے کر سیا چن کے برف پوش پہاڑوں تک دفاع وطن کے لئے مورچہ زن رہتے ہیں۔ یہ انہی غازیوں اور شہیدوں کی قربانی کا ثمر ہے کہ مذکورہ مضمون نگار ایسے لوگ اپنی دانشوری کا رعب جمانے کے لئے اپنے گھروں میں چین کی نیند سوتے ہیں۔

562
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...