9/11 کے سانحہ کے بعد عالمی حالات اور واقعات کی نوعیت یکسر تبدیل ہو کر رہ گئی۔ دنیا کی واحد سپر پاور، امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا آغاز کیا اور اس سلسلے میں انتہائی دوٹوک اور واضح پالیسی اختیار کی جس کا کلیدی پہلو یہ رہا کہ اس جنگ میں اگر کوئی ملک اور قوم امریکہ کے ساتھ نہیں ہے تو وہ اس کی مخالف بلکہ دشمن تصور کی جائے گی خواہ اس کی مجبوری کچھ بھی ہو اور وہ غیر جانبدار ہی کیوں نہ ہو۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سلسلے میں امریکی حکومت نے مذکورہ جنگ میں شمولیت کے حوالے سے دنیا کے ہر ملک سے ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں سے کوئی ایک جواب دینے پر اصرار کیا۔ ان دنوں وطن عزیز میں جنرل پرویز مشرف برسراقتدار تھے۔ شنید رہا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس کی طرف سے آنے والی ایک ٹیلی فون کال پر ’’ہاں‘‘ میں جواب دیا اور اس دن سے تادم تحریر پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں سرگرم عمل ہے۔ دہشت گردوں نے وطن عزیز کی سیاست، معاشرے اور مستقبل کو بری طرح متاثر کیا جس کے نتیجے میں 14 جون 2014ء کو پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا تاکہ دہشت گردی کی لعنت سے نجات حاصل کی جاسکے۔ اس آپریشن میں اب تک 3400 دہشت گرد ہلاک کئے جا چکے ہیں اور ان کی 837 کمین گاہوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کل 13200 آپریشنز کئے گئے جس کے دوران 183 خطرناک اور سرگرم دہشت گرد ہلاک کئے گئے جبکہ 21193 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس عرصے میں پاک فوج کے 488 جوان شہید ہوئے جبکہ 1914 زخمی ہوئے۔ دوسری طرف 50 ہزار سے زائد شہریوں نے شہادت کا درجہ حاصل کیا اور تقریباً 28561 افراد زخمی ہوئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 13 برس کے عرصے میں ملک و قوم نے 102.5 بلین ڈالر کا مالی نقصان برداشت کیا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور کمین گاہوں کا خاتمہ ناگزیر ہے اور اس سلسلے میں فضائیہ کا تعاون نہایت ضروری ہے۔ اسی ضرورت اور حکمت عملی کے تحت پاکستان نے امریکہ سے ایف 16 طیارے حاصل کرنے کے لئے سفارتی کوششیں شروع کر رکھی ہیں ۔ 2 آزاد اور خود مختار ممالک کے درمیان یہ تجارتی اور کاروباری معاملہ خوش اسلوبی کے ساتھ ضروری اور مطلوبہ مراحل طے کر رہا تھا کہ اچانک بھارتی حکومت نے اس میں مداخلت کرتے ہوئے یہ پراپیگنڈہ شروع کر دیا گیا کہ مذکورہ طیارے دہشت گردوں کے خلاف نہیں بلکہ بھارت کے خلاف جنگ میں استعمال ہوں گے۔ ابھی یہ خود ساختہ اور من گھڑت پراپیگنڈہ جاری تھا کہ سال رواں کے آغاز میں امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی (جو اب امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کر چکے ہیں) نے بھی نئی دہلی کا ہمنوا ہونے کا حق ادا کرنا شروع کر دیا۔ موصوف نے اپنے اس وہم کو تجزیہ کا نام دے کر پیش کیا کہ امریکی حکومت کی طرف سے جو ایف 16 طیارے پاکستان کو فراہم کئے جا رہے ہیں وہ دہشت گردوں کے خلاف نہیں بلکہ بھارت کے علاوہ بلوچستان میں قوم پرست اور اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال ہوں گے۔عام تاثر ہے کہ حسین حقانی نے بھارتی حکومت کے ایماء اور اشارے پر ایف 16 طیاروں کی فراہمی کے معاملے کو متنازعہ بنانا اور ہوا دینے کی کوشش کی تھی۔
یہ امر واقعہ اب بڑی حد تک ایک ثبوت کی صورت اختیار کر گیا ہے کہ عین اس وقت جب مذکورہ معاملہ امریکی کانگریس اور میڈیا میں مذکورتھا تو 13 فروری کو بھارت نے پاکستان کو ایف 16 طیارے فروخت کرنے کے امریکہ کے فیصلے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ۔ بھارت کی وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں تعینات امریکی سفیر رچرڈ ورما کو طلب کرکے ان سے اس فیصلے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا اور اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ نئی دہلی نے امریکہ کی طرف سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پاکستان کیلئے مختص امداد کی بھی شدید مخالفت کرتے ہوئے الزام عاید کیا کہ پاکستان کو دی جانے و الی امداد بھارت کے خلاف براہ راست استعمال ہو گی۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سروپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم پاکستان کو ایف 16 طیارے فروخت کیے جانے کے سلسلے میں اوباما انتظامیہ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کئے جانے سے مایوس ہوئے ہیں۔ موصوف کا کہنا تھا کہ بھارت امریکہ کے اس خیال سے اتفاق نہیں کرتا کہ ان طیاروں کی فروخت سے انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔
نئی دہلی کی روایتی سفارتی مکاری کا ایک ثبوت یوں بھی سامنے آیا کہ ایک طرف تو اس کے دفتر خارجہ کی طرف سے پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فراہمی کے سلسلے میں غیر ضروری واویلا کیا جا رہا تھا اور دوسری طرف پاکستان میں نئے بھارتی ہائی کمشنر گوتم بامباوالے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے نہایت خوشامدانہ رویہ اختیار کئے ہوئے تھے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ اپنا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار اپنی اہلیہ کے ہمراہ لاہور پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے16 فروری کوانہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بڑھانے کا بڑا کام لاہور سے ہو سکتا ہے۔ میرے نزدیک پاک بھارت رشتے مضبوط ہونے چاہیں پاکستان اور بھارت کے تعلقات بڑھانے کا ایک طریقہ ہے کہ کاروبار کو بڑھایا جائے اور خاص طور پر پاکستان میں پنجاب اور لاہور ان رشتوں کو بڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
عالمی سفارتی حلقوں میں اس بات کو نہایت اہمیت اور دلچسپی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کہ جب بھارتی دفتر خارجہ کی طرف سے پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فراہمی کے بارے میں جو غیر ذمہ دارانہ ردعمل ظاہر کیا گیاتو اس کے جواب میں امریکی حکومت نے غیر معمولی انداز میں حقائق واضح کئے ۔ 17 فروری کو امریکہ نے پاکستان کو ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت پر بھارتی اعتراضات مسترد کر دیئے اور کہا کہ معاہدہ خطے کی صورتحال کے پیش نظر کیاگیا۔ پاکستان سے امریکہ کے تعلقات مختلف نوعیت کے ہیں۔ بھارت اسلحہ درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے لہذا بھارت کو اس سلسلے میں تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ محکمہ دفاع کے پریس سیکرٹری پیٹروکک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فراہمی دہشت گردی سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگی یہ معاہدہ خطے کی سلامتی کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کیا گیا۔ یہ طیارے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کریں گے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔واضح رہے کہ امریکی ڈیفنس سکیورٹی ایجنسی کی طرف سے کانگریس کو جاری نوٹیفکیشن میں بھی کہا گیا تھا کہ اس فروخت سے خطے میں عمومی عسکری توازن خراب نہیں ہوگا۔

540
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...