گوادر پورٹ پاکستان کی مضبوط معیشت کی ضمانت سمجھا جا تا ہے اور اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں ہیں کہ گوادر پورٹ پاکستان کی مضبوط معیشت کی ضمانت ہے اسی گوادر سے جڑے ہوئے منصوبے اقتصادی رہداری کی بدولت آنے والے چند ہی سالوں میں پاکستان صیحح معانوں میں ایشاء کا ٹائیگر بننے جا رہا ہے پاک چائینہ اقتصادی رہداری کی بدولت پاکستان میں ترقی و کامرانی کا ایک نیا دور شروع ہوگا چائینہ نے پاکستان میں تاریخ کی بڑی سرمایہ کاری اس لئے کی ہے کہ پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے اس کے لئے بنایا جانے والا روٹ پاکستان کے تمام علاقوں کے لئے ترقی کے یکساں مواقع پیدا کرنے کی امید ہے ہاں البتہ بعض علاقوں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے کچھ تحفظات ہیں جنھیں بہت جلد دور کر لیا جائے تو بہت بہتر ہو گا اگر یہ روٹ کامیابی سے مکمل ہو جاتاہے تو پاکستان خطے کی ایک عظیم تجارتی منڈی بن کر ابھرئے گا یہی وہ نقطہ ہے جہاں پاکستان دشمن قوتوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں چاہے وہ دشمن قوتیں ہماری ہمسایہ ہوں یا دیگر مغربی اقوام سے لیکن سب سے زیادہ تکلیف بھارت کو ہے کیونکہ بعض غیر ملکی طاقتیں خطے میں بھارت تسلط کی پس پردہ حمایت کرتی ہیں اور اس کو آگے لانے کے لئے ہر وہ اقدام کرتی ہیں جس سے پاکستان کی تجارت یا پاکستان کی معیشت کو خطرہ ہوخود بھارت بھی اس مخمصے میں مبتلا ہے کہ شاید وہ علاقے کا ٹھیکیدار ہے ۔ چین پاکستان کا لازوال دوست ہے چین نے پاکستان کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا اوراسی نے اس منصوبے پر عملی کام کا آغازکیا اور ایک دیرینہ دوست کی حیثیت سے ساتھ دینے پر پورٹ بہت جلد اپنی تکمیل کو پہنچی یہ سب پاکستان چائینہ سچی دوستی کا واضح ثبوت تھا گوادر بلوچستان کا ایک غیر ترقی یافتہ خطہ ہے جس کی ساحلی پٹی کافی وسیع و عریض ہے اور اپنی خاص اہمیت کی حامل ہے یہاں کے باشندے مچھلی کے شکار سے اپنا گزر بسر کرتے تھے لیکن جب سے گوادر پورٹ مکمل ہوئی ہے تب سے ان کی زندگی میں ایک نئی روشنی آئی اور انھوں نے ترقی کی طرف اپنا سفر شروع کر دیا ہے بعض غیر ملکی طاقتوں کا اس خطے کو ایک بڑی پورٹ مل جانے پر بڑا دکھ ہوا کیونکہ اس طرح پاکستان میں ایک فعال اورمذیدبین الاقوامی پورٹ کے بن جانے سے انھیں اپنے مفادات پر کاری ضرب لگتی محسو س ہو رہی تھی اور وہ نہیں چاہتے تھے پاکستان اس پورٹ کی تعمیر کر کے وسط ایشیائی ریاستوں تاجکستان ، ازبکستان ، ترکمانستان اورپڑوسی ملک افغانستان کو تجارت کے لئے ایک نسبتا ایک کم فاصلے کا روٹ مہیا کرئے اور وہاں کی ایک بہت بڑی منڈی کا ٹھیکیدار بن جائے کیونکہ ایسا کرنے سے پاکستان کے ساتھ ان وسطء ایشیائی ریاستوں کی تجارت کا فروغ پانا ان ممالک کے لئے ناقابل برداشت ہے دوسری اہم وجہ گوادر پورٹ کو ملک کے دوسر ے علاقوں سے منسلک کرنے کے لئے مضبوط اور محفوظ انفراسٹکچر کا نہ ہونا بھی شامل تھا گہرائی سے اگر دیکھا جائے تو وسط ایشیائی ریاستوں تاجکستان ، ازبکستان ، ترکمانستان اورپڑوسی ملک افغانستان کی منڈی سے پاکستان اتنا زیادہ فائدہ حاصل کر سکتا ہے جو کہ پاکستان کی یورپی اور مغربی ممالک سے ہونے والی تجارت سے کئی گنا زیادہ ہو گی کیونکہ وسط ایشیائی ریاستوں تاجکستان ، ازبکستان ، ترکمانستان اورپڑوسی ملک افغانستان وغیرہ قدرتی نعمتوں سے مالا مال ہیں اور یہ علاقے سمندر سے دور ہونے کی وجہ سے اپنے سامان کی تجارت کے لئے گوادر کو استعمال کرنا چاہتے ہیں جس کا بڑا فائدہ پاکستان کو ہوناہے جس کی وجہ سے پاکستان میں معاشی سرگرمیاں اور زیادہ تیز ہوں گی اسی تناظر میں پاکستان اور چائینہ کے درمیان ہونے والے عظیم رہداری منصوبے سے اگر پھر پور طریقے سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے تو پاکستان کی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اور ایک بہت بڑی منڈی پاکستان کے ہاتھ لگ جائے گی اور اس منصوبے کے تحت بننے والے اقتصادی زونز پاکستان کو ترقی کی ان عظیم، منزلوں تک پہنچانے میں مدد گار ہوں گے جن کے خواب ہمارے بڑوں نے دیکھے تھے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس منصوبے میں بننے والی رکاوٹوں کے مذاکرات کے ذریعے دور کرئے اور روٹ کو ایسے طریقے سے مکمل کرئے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا کوئی اندیشہ باقی نہ رہے اس طرح ان علاقوں کو بھی اولین ترجیح دی جائے جو کم ترقی یافتہ ہیں اور اس روٹ میں مجوزہ ہونے والی تبدیلوں کو تمام جماعتوں کی باہمی مشاورت سے مکمل کیا جائے اور کسی بھی صور ت ایسی صورت حال نہ بننے دی جائے کہ یہ منصوبہ بھی کالا باغ ڈیم طرح متنازعہ ہو جائے بلا شبہ گوادر پورٹ اور اقتصادی رہداری جیسے منصوبوں سے پاکستان کی آنے والی نسلوں کا روشن مستقبل جڑا ہے ۔اور اقتصادی رہداری اور گوادر پورٹ روشن پاکستان کی ضمانت ہیں ۔

536
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...