یہ بات اب کوئی راز نہیں رہی کہ بھارت میں موجودہ سیاسی بے چینی اور سماجی بے قراری کے ساتھ ساتھ غیر ہندو باشندوں کے ساتھ شرمناک سلوک کی اصل وجہ بھارتی وزیراعظم مودی کا بھارتی اقلیتوں کے لیے وہ نفرت انگیز رویہ ہے جس نے بھارت میں رہنے والے ہر غیر ہندو کی زندگی عذاب کر دی ہے۔ ایک سازش کے تحت انہیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ یا تو وہ ہندو بن جائیں یا بھارت سے نکل جائیں یہ رویہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ عیسائی، سکھ اور ہریجن اس کا بری طرح شکار ہیں بھارت میں اس جنون کا سہرا اگرچہ آر ایس ایس کے سر ہی جاتا ہے لیکن اس جنون میں پاکستان دشمنی کو شامل کرنے والا اجیت کمار دیول ہے جس کو بھارتی جاسوسی نظام میں اب مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اور جو اسی سبب وزیراعظم نریندرا مودی کی مونچھ کا بال بنا ہوا ہے۔ اس نے فروری 2014ء میں سسترا یونیورسٹی ریاست تامل ناڈو میں ایک لیکچر کے دوران ان عزائم اور طریقہ واردات کا اظہار کیا تھا جو بھارتی حکومت اور خاص طور پر جاسوسی ادارے اختیار کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اجیت کمار دیول بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر یا مشیر برائے قومی سلامتی ہے۔ وطن عزیز میں اہم طور پر ’’را‘‘ کی خفیہ کارروائیوں کی خبروں کو محض گپ بازی یا پروپیگنڈا سمجھا جاتا ہے لیکن اجیت کمار دیول کے خیالات سے بھارتی اسٹیبلشمنٹ یا برہمن حکمران طبقے کے ایک اہم رکن کی باتیں سن کر اہل وطن کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔
اجیت کمار دیول نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر قومی و عالمی امور پر بھارتی وزیراعظم کو مشورے دیتا ہے۔بھارت کی دونوں بڑی خفیہ ایجنسیاں ’’را‘‘ اور آئی بی اس کی ماتحت ہیں۔ یہ عہدہ نومبر 1998ء میں تخلیق ہوا۔ اب تک کئی نامی گرامی بھارتی شخصیات اس پر فائز رہیں لیکن بھارتی مبصرین کا کہنا ہے اجیت کمار دیول جیسا طاقتور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر پہلی بار سامنے آیا ہے۔ آج بھارت میں قومی و بین الاقوامی سکیورٹی معلومات کے بارے میں اجیت کماردیول اتھارٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وہ مودی کابینہ کے اہم وزراء سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ مودی عموماً اس کی بات رد نہیں کرتے۔ یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ پاکستان اور چین سے بھارتی تعلقات کی پالیسی اس وقت اجیت کماردیول ہی بنا رہا ہے۔ حیران کن بات یہ کہ بھارتی وزیراعظم کا اہم ساتھی ہونے کے باوجود اجیت کماردیول میڈیا میں بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ وہ نہایت خاموشی سے پراسرار انداز میں دشمنوں کے خلاف سازشیں تیار کرتا اور پھر اچانک وار کرتا ہے۔ وطن عزیز میں وقفے وقفے سے دہشت گردی کے اچانک رونما ہونے والے واقعات ذرا ذہن میں لائیے جن میں پاکستان دشمن طاقتیں ملوث ہیں۔
اپنے مذکورہ لیکچر میں اجیت کمار دیول نے اس سوال کا جواب فراہم کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ اپنے جواب میں اس نے واضح کیا کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت بن چکا اور چین کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات ہیں۔ لہذا یہ آسان کام نہیں۔ ہم (بھارتی انٹیلی جنس افراد) دشمن کا تین طریقے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ ایک دفاع ہے وہ یہ کہ اپنے گھر بیٹھ کر دشمن کے حملے روکے جائیں۔ دوسرا جارحانہ دفاع ہے۔ اس طریقۂ کار میں ہم اس جگہ حملے کرتے ہیں جہاں سے ہم پر حملہ ہو رہا ہو اور تیسرا کھلی جنگ ہے۔ ایٹم بم کی موجودگی کے باعث ہم پاکستان سے کھلی جنگ نہیں لڑ سکتے لیکن اسے جارحانہ دفاع کا نشانہ ضرور بنا سکتے ہیں۔ اس طریقۂ کار کی مدد سے ہم پاکستان کی معیشت سیاست سکیورٹی غرض اس سے وابستہ ہر شے کو تباہ کرنے کی کوششیں کریں، مثال کے طور پر افغانستان میں پاکستانی پالیسی کو ناکام بنانا۔ جارحانہ دفاع کی جنگ میں ہمیں بہت فائدہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان ہماری نسبت ہر لحاظ سے کمزور ہے چنانچہ جارحانہ دفاع کی یہ جنگ اسے بہت مہنگی پڑے گی۔ اگر اس نے ممبئی پر حملہ کیا تو وہ بلوچستان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیموں سے کیونکر نمٹا جائے؟ یہ کام بھی تین طرح سے انجام پاتا ہے، ان تک اسلحہ نہ پہنچنے دو ،ان کی فنڈنگ روک لو اور تنظیموں کی نفری نہ بڑھنے دو۔ مگر ایک چوتھا طریقہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کو اپنے ساتھ ملا لو اور پھر انہیں دشمن کے خلاف استعمال کرو۔ یہ کام انہیں خرید کر با آسانی انجام دینا ممکن ہے۔ مثال کے طور پر کسی پاکستان دشمن تنظیم کا کل بجٹ بارہ سو کروڑ روپے ہے۔ آپ اسے اٹھارہ سو کروڑ روپے دے کر اپنا طرف دار بنا لو۔ یہ دہشت گرد عموماً کرائے کے فوجی ہوتے ہیں، ان کی برین واشنگ کرو اور پھر جو مرضی کام کرالو۔
اجیت کماردیول کا نظریاتی ہیرو اور عسکری حکمت عملی کے حوالے سے مثالی شخصیت چانکیا ہے جس کی عسکری چالیں دھوکا فریب اور خفیہ پن پر مبنی بیان کی جاتی ہیں۔بھارت کے حکمران طبقے میں شروع سے دو گروہ چلے آ رہے ہیں۔ اول عقاب یا جارح مزاج رہنما اور دوم فاختائیں یا امن پسند راہنما۔ تقسیم ہند کے وقت عقاب گروہ کا سرخیل پہلا نا ئب وزیراعظم، ولبھ بھائی پٹیل تھا جبکہ وزیراعظم پنڈت نہرو فاختاؤں کے گروپ کی نمائندگی کرتے رہے۔ ان دونوں گروہوں کے مابین کئی معاملات پر اختلاف اور ٹکر اور ہاجواب تک جاری ہے۔گو دونوں گروہوں میں شامل بعض راہنماؤں نے متضاد رویہ بھی دکھایا۔ مثال کے طور پر 1992ء میں جب انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد شہید کی تو کانگریسی وزیراعظم نرسیمہا راؤ نے کوئی ایکشن نہ لے کر ان کا ساتھ دیا۔ اسی طرح ہندو انتہا پسندوں (ہندتوا) کی سیاسی صورت بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپائی نے وزیراعظم بن کر عموماً معاملات میں جا رحیت پسندی نہیں دکھائی۔ بھارت کی تاریخ میں نریندرا مودی کھلم کھلا جارحانہ رویہ اختیار کرنے و الے پہلے حکمران ہیں۔ ان کی ذہنیت یہ ہے کہ ہندو ایک برتر قوم ہے چنانچہ اسے دنیا پہ حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔ وہ چھوٹے پڑوسی ممالک کو اپنے ماتحت لانا چاہتے اور خصوصاً پاکستان کو ہندو ماتا (ہندوستان) کا اٹوٹ انگ سمجھتے ہیں۔ ماضی کے ہندوستان کی جغرافیائی تکمیل’’ہندتوا‘‘ کا من پسند نظریہ ہے۔ پاکستان کو کمزور کرنے کی خاطر ہی انہوں نے بھارتی انٹیلی جنس کی نہایت تجربے کار شخصیت اجیت کماردیول کو اپنا مشیر قومی سلامتی بنا لیا۔ اجیت کماردیول کے تقرر سے ’’ہند توا‘‘ کے مخالف بھارتی میڈیا نے لکھاتھا کہ اب پاکستان اور چین کو اپنی خیر منانی چاہئے کیونکہ ان کے خلاف سازشی منصوبوں کا نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ یہ بات حیرت انگیز طور پر درست ثابت ہوئی کیونکہ جون 2014ء کے بعد پاکستانی حکومت پر زوردار حملے ہوئے اور دہشت گردی کے فرقہ وارانہ واقعات میں بھی تیزی آگئی ہے۔

806
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...