گذشتہ دنوں بھارت کی پٹھان کوٹ ایئربیس پر دہشت گردوں کا حملہ ہوا تو بھارتی حکومت اور میڈیا نے حقائق اور حالات کی پرواہ کئے بغیر حسب روایت پاکستان اور خاص طور پر اس کے حساس ادارے، آئی ایس آئی پر الزام تراشی شروع کر دی۔ اس واقعہ کو کم و بیش 10 دن گزر چکے ہیں اور اس دوران کئی ایسے حقائق منظر عام پر آئے ہیں جو بھارت کے ذہنی خلفشار اور تعصب پر مبنی جنون کو اجاگر کرتے ہیں۔ واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے چند روز قبل واشنگٹن میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ امریکہ اس ضمن میں نظام الاوقات کا تعین نہیں کر سکتا، اس کا انحصار حکومت پاکستان پر ہے، ہم کسی اور کی جانب سے کی جانی والی تحقیق کا ٹائم ٹیبل نہیں دے سکتے، بھارت کی طرف سے پٹھان کوٹ حملے کے شواہد پاکستان کو دینے کے بارے میں علم نہیں تاہم اطلاعات کی فراہمی کے بعد پٹھان کوٹ واقعہ کی تحقیقات کے وقت کا تعین پاکستان خود کرے اور یہ اس کے دائرہ اختیار میں ہے۔ پاکستان نے خود دہشت گردی کی اس کارروائی کی مذمت کی اور یہ بات واضح طور پر کہی ہے کہ وہ اس ضمن میں کی جانے والی تحقیقات میں پرعزم ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اس پر اعتماد کیا جانا چاہئے۔
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے خود دہشت گردی کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے اور یہ بات واضح طور پر کہی ہے کہ وہ اس ضمن میں تحقیقات میں پرعزم ہے، ہماری خواہش ہوگی کہ اس معاملے کی جامع اور مکمل تحقیقات کی جائیں۔ پاکستان ایسا ملک ہے جو دہشت گردی کے خطرے سے بخوبی آگاہ ہے۔ ہمیں اس کا بخوبی اندازہ ہے کہ پاکستان کے فوجی اور نہتے شہری دہشت گردی کے حملوں میں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں اور اب بھی اس طرح کی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ د ہشت گردی ایک ’’علاقائی چیلنج‘‘ ہے اور اس کا علاقائی حل ہونا چاہئے۔ ہماری خواہش ہے کہ پاکستان اس مسئلے کے حل کا حصہ ہو۔ جب ان سے تحقیقات کے لئے پاکستان سے رابطے سے متعلق سوال کیا گیا تو ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ تحقیقات کے لئے مدت اور نظام الاوقات کا تعین پاکستان کی حکومت پر منحصر ہے، ہمارے لئے جامع اور مکمل تحقیقات سب سے اہم ہیں۔جہاں تک پاکستان سے رابطے کا سوال ہے تو امریکہ اور پاکستان کے مختلف سطح پر ہمیشہ سے روابط استوار رہے ہیں۔ امریکہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے خطے میں دو طرفہ اور کثیر الجہتی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ جہاں تک ممبئی حملوں کا معاملہ ہے امریکہ اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا متمنی ہے تاہم اس میں زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اسامہ بن لادن کو انصاف کو کٹہرے میں لانے میں بہت عرصہ لگ گیا تھا لیکن ہم نے ایسا کرکے دکھایا۔بھارت کی طرف سے پاکستان کو فراہم کردہ معلومات کے بارے میں ان کے پاس کوئی اطلاعات نہیں ہیں تاہم اگر دونوں ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ ہوا ہے تو اس سے بہتر نتائج برآمد ہونگے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں دہشت گرد گروپوں کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا، پاکستان اس حوالے سے بہت واضح ہے اس لئے ہمیں تحقیقات کے نتائج کا انتظار ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پٹھان کوٹ حملے کے بعد، بھارتی میڈیا اور بعض سرکاری حکام اس واقعہ کو پاکستان کا کام قرار دے رہے ہیں حالانکہ وکی لیکس نے بتایا تھا کہ امریکی اور برطانوی حکام بھارت کے پاکستان مخالف نام نہاد ثبوتوں کو مسترد کر چکے ہیں۔ واشنگٹن اور لندن عوامی سطح پر بھارت کو شرمندہ کرنے سے ہچکچا رہے ہیں اور پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ وکی لیکس کے انکشاف سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں نے حملے میں آئی ایس آئی یا پھر پاکستان کی کالعدم تنظیموں کے ملوث ہونے کے بھارتی الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وکی لیکس نے پاکستان میں متعین سابق امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کے حوالے سے بتایا تھا کہ بھارت نے کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے خلاف ناکافی ثبوت پیش کئے ہیں۔ این ڈبلیو پیٹرسن نے واشنگٹن روانہ کئے گئے مراسلہ میں کہا تھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور دیگر تفتیش کاروں کے پاس لشکر طیبہ کے ذکی الرحمن لکھوی، ضرار شاہ اور مظہر اقبال اقامہ کے خلاف ناکافی ثبوت ہیں۔ بھارت میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے بھی کچھ اسی طرح کی معلومات خطوط کے ذریعے امریکہ بھجوائی تھیں۔ ان خطوط میں لکھا تھا کہ بھارتی حکام اس بات پر آمادہ نظر آتے ہیں کہ 11جولائی کے ممبئی حملوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ تھا اور انہیں یہ پریشانی ہے کہ امریکہ پاکستانی انٹیلی جنس کے ملوث ہونے کے حوالے سے ’’ٹھوس شواہد‘‘ کے معیارات سخت مقرر کئے ہیں۔
وکی لیکس میں افشاء ہونے والے اس خط میں قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن کے حوالے سے یہ اعتراف بھی کیا گیا تھا کہ اس مسئلہ کے کچھ حصے اب بھی گمشدہ ہیں۔ انہوں (نارائنن) نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ شواہد ’’ٹھوس‘‘ ہیں لیکن یہ اچھے ہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے نئی دہلی سے لکھے گئے اس خط میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ بھارتی سیاستدان امریکی حکام کو یاددہانی کراتے رہے کہ ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کے باوجود بھارت نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ کا ساتھ دیا تھا۔ خط میں لکھا ہے کہ سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے انٹیلی جنس کار مین میڈنا کے ساتھ 23 اکتوبر کو عشائیہ کے موقع پر سابق قومی سلامتی کے مشیر برجیش مشرا نے ممبئی حملوں پر امریکہ کے ردعمل کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ جب آپ نے 9/11کے بعد افغانستان میں کارروائی کا فیصلہ کیا تو ہم نے آپ کی حمایت کی ۔ برجیش مشرا نے امریکہ کے دوغلے پن پر تنقید کرتے ہوئے دلیل دی کہ ہم حزب اللہ کو الگ نظر سے دیکھتے ہیں اور پاکستان میں قائم متحدہ جہاد کونسل کو مختلف نظر سے۔ برجیش مشرا نے کہا کہ اس پوری بات کا لب لباب یہ ہے کہ وسیع پیمانے پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارت کی کوئی مدد نہیں کر رہا۔ نئی دہلی میں قائم امریکی سفارت خانے کی جانب سے واشنگٹن کو بھیجے گئے ایک اور خط میں پاکستان کے خلاف بھارت کے شواہد پر برطانیہ کے شکوک و شبہات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ افشاء ہونے والے خط میں بتایا گیا ہے کہ جس وقت بھارتی اخبارات الزامات کا ملبہ پاکستان پر گرانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اسی وقت دہلی کے مبصرین اور سفارت کار ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا ممبئی حملوں کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے؟ برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے اشارہ ملے کہ آئی ایس آئی نے حملوں کی ہدایت دی یا حملوں میں معاونت کی۔ پٹھان کوٹ ایئربیس پر دہشت گردی کا واقعہ ہر اعتبار سے افسوسناک ہے لیکن اس سے زیادہ افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ ایسے میں بھارتی حکومت اور میڈیا نے پاکستان کو اپنے الزامات کا ہدف بنا کر عالمی برادری میں اپنی جگ ہنسائی کا سامان اور ثبوت خود فراہم کر دیا ہے۔

706
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...