گذشتہ دنوں پٹھان کوٹ کی ایئربیس پر ہونے والے حملے کے بعض پہلوبے حد حیرت انگیز ہیں۔ ایئربیس کے نزدیک رہائشیوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ایئربیس کے داخلی دروازے کے سامنے موجود بیریز (رکاوٹیں) گذشتہ روز ہی ہٹا دی گئیں تھی اور اردگرد کے دکانداروں کو شام 5 بجے ہی اپنی دکانیں بند کرنے کے لئے کہہ دیا گیا تھا۔ یہ تاکید غیر معمولی تھی کیونکہ عام طور پر دکانداروں کو ایسا کرنے کے لئے نہیں کہا جاتا۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات ہمیشہ سرحد کے قریبی علاقے میں ہی کیوں رونما ہوتے ہیں، ہلاک شدگان کی تعداد اتنی کم کیوں ہوتی ہے، پاکستان کو کی جانے والی فون کال اتنی جلدی اور کسی تاخیر کے بغیر کیسے نہایت آسانی کے ساتھ ٹریس کر لی جاتی ہیں، شناخت ہمیشہ مشکوک ہی کیوں ہوتی ہے اور ایسا اس وقت ہی کیوں رونما ہوتا ہے جب کوئی خاص پیشرفت ہو رہی ہوتی ہے۔
یہ تاثر تیزی سے پختہ اور نمایاں ہورہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی نواسی مہر النساء کی شادی کے موقع پر اچانک لاہور آمد اور پٹھان کوٹ حملوں کی منصوبہ بندی میں بالواسطہ تعلق ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر اندرونی طور پر انتہا پسند وزیراعظم ہونے کے الزامات میں اضافہ ہو رہا تھا اور اس کے باعث نریندر مودی کچھ پریشان ہوگئے تھے۔ بھارت کو اس مشکل سے نلکانے کے لئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے وزیراعظم کو پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملے کا ڈرامہ رچانے کا منصوبہ پیش کیا۔ عسکری امور کے ماہرین کے مطابق ’’را‘‘ نے پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملے کی منصوبہ بندی تیار کی اور اسی منصوبہ بندی سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اچانک لاہور کا دورہ کرکے نواز شریف کو ناصرف نیک تمناؤں کا اظہار کیا بلکہ ان کی نواسی کی شادی کے لئے گلابی رنگ کی پگڑیاں دیں۔ ان پگڑیوں کو پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے اہم افراد نے بھارتی حکمرانوں سے اچھے تعلقات دکھانے کے لئے مہرالنساء کی شادی پر استعمال کیا۔ اس طرح بھارتی وزیراعظم نے امریکہ اور اہم عالمی طاقتوں کو یہ باور کرایا کہ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔
عسکری امور کے بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل 90ء کی دہائی میں بھی بھارتی وزیراعظم واجپائی نے لاہور کا دورہ کیا تھا تو بھارتی سکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں نے فوری طور پر پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دی جس کے بعد کارگل کا واقعہ رونما ہوگیا اور دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے۔ عسکری امور کے ماہر بریگیڈیئر (ر) یوسف کے مطابق بھارتی حکمران اور سکیورٹی فورسز ملک میں مظلوم اقلیتوں کو دبانے کے لئے بھی دہشت گردی کروانے کے منصوبے بناتی رہی ہیں۔ بھارت میں مسیحی، سکھ اور مسلمان اقلیتوں کو ڈرانے کے لئے بھی کئی ایسے ڈرامے کئے گئے۔ پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملے کے دوران بھارتی فورسز نے جب دیکھا کہ ان کے منصوبے کے جعلی ہونے کی قلعی کھل رہی ہے تو انہوں نے فوری طور پر دہشت گردوں کو مزید افراد کی کمک خود ہی بھجوائی۔ اس ضمن میں بھارتی میڈیا نے ہی رپورٹس دی ہیں کہ دہشت گردوں کو ایئربیس پر سکیورٹی اہل کاروں نے خود ہی داخل کروایا۔ بھارتی فورسز نے ایک دن کے وقفے کے بعد دوبارہ ایئربیس پر فائرنگ کرنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کا ڈرامہ کھیلا۔ اس ضمن میں عسکری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی اس طرح کے دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں تو سکیورٹی فورسز تمام ایئربیس کو کلیئر کرنے تک آپریشن ختم نہیں کرتی۔ پٹھان کوٹ حملے کی منصوبہ بندی ممبئی حملوں کی طرز پر کی گئی تاہم اس بار ہلاکتوں کی تعداد کم رکھی گئی تاکہ زیادہ ہلاکتوں کے بعد ملک کے اندر سکیورٹی کے ناقص انتظامات کے خلاف بڑے احتجاجی مظاہروں سے بچا جا سکے۔ پٹھان کوٹ کے واقعہ کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز کی طرف سے مرنے والے دہشت گردوں کی نعشیں تبدیل کرنے کا بھی اندیشہ ہے۔ بھارتی خفیہ ادارے کسی مسلم تنظیم یا مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد کو قتل کرکے ان کی نعشیں بھی میڈیا پر پیش کر سکتے ہیں تاکہ ان حملوں کے الزامات پاکستان پر عائد کرنے کے لئے کچھ مواد فراہم کیا جا سکے۔ پٹھان کوٹ کے واقعہ کے بعد بھارتی حکومت سفارتی سطح پر بھی پاکستان مخالف پراپیگنڈہ کرنے کی کوشش کرے گی کہ بھارت تو ہمسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے لیکن ہمارے ملک میں ایک بار پھر حملے کروا کر امن کے عمل کو سبوتاژ کیا گیا ہے۔
یہ حقیقت کوئی راز نہیں ہے کہ بھارت کی سب سے اہم انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ ہے ۔1968ء میں ’’را‘‘ کے قیام کے بعد بھارت نے پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کرانے کے کئی منصوبے بنائے سری لنکا، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ اور میانمار میں بھارت نے ہزاروں خفیہ ایجنٹوں کو داخل کروایا۔ پاکستان میں بھی ’’را‘‘ کے کئی ایجنٹوں کو دہشت گردی کے لئے بھجوایا جاتا رہا ہے۔ ان ایجنٹوں کے ذریعے بھارتی خفیہ ادارے بم دھماکے اور دہشت گردی کرواتے رہتے ہیں۔ ’’را‘‘ گذشتہ دو دہائیوں سے بھارت کو خطے کی منی سپرپاور بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’’را‘‘ کے دس ہزار سے زائد ایجنٹ دنیا کے کئی ممالک میں بھارتی خفیہ منصوبوں کی تکمیل کے لئے متحرک ہیں۔ کئی ایجنٹ دوسرے ممالک میں مقامی افراد کو استعمال کرکے ان کے ذریعے بھی دہشت گردی اور بم دھماکے کرواتے ہیں۔ ’’را‘‘ کے ایجنٹ دوسرے ممالک میں گھس کر وی آئی پی شخصیات اور اہم ٹارگٹ کو ہلاک کرنے کی کارروائیوں میں بھی ملوث رہتے ہیں۔ پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، حیدرآباد سمیت کئی شہروں سے سینکڑوں کی تعداد میں ’’را‘‘ کے ایجنٹ اور ان کے سہولت کار گرفتار بھی کئے گئے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ بھارت نے افغانستان میں بھی اپنے قونصل خانے بنا کر اپنے ایجنٹوں کو پاکستان بھجوا کر کئی بار بڑے دہشت گردانہ حملے کروائے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پٹھان کوٹ کے حملوں کے پیچھے بھی ’’را‘‘ اور ایئرفورس انٹیلی جنس کا ہاتھ ہے یعنی حملہ آوروں کو ایئربیس میں داخل کروانے اور اسلحہ پہنچانے میں بھی بھارتی خفیہ اداروں کے اہل کاروں کا تعاون حاصل رہا۔
ساری مہذب دنیا میں اب یہ تاثر عام ہو چلا ہے بلکہ اس نے ایک اہم سوال کی حیثیت اختیار کر لی ہے کہ آخر بھارت اپنے ملک میں دہشت گردی کے بڑے واقعات کی ذمہ داری ہر بار پاکستان پر ہی کیوں عائد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارت کے شہر ممبئی میں 2008ء میں کئی مقامات پر ایک ہی روز حملے ہوئے ان میں ہوٹل تاج، ہوٹل اوبرائے، نرعن ہوٹل، لہولولڈ کنعے، کاما ہسپتال اور میٹروبس پر حملے اہم تھے۔ ان حملوں میں 170 سے زائد افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ ان حملوں کے بعد بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں نے ایک ڈراما کیا کہ 9 دہشت گردوں کو تو کراس فائرنگ میں ہلاک کر دیا گیا جبکہ ایک دہشت گرد اجمل قصاب کو جان بوجھ کر زندہ گرفتار کیا گیا۔ اجمل قصاب کو مہرہ بنا کر بھارتی حکمرانوں اور سکیورٹی اداروں نے لشکرطیبہ اور حافظ سعید پر ان دھماکوں کے الزامات عائد کئے تاہم کئی برس گزر جانے کے باوجود بھارتی حکمران کسی بھی عالمی فورم میں اپنے الزامات کو ثابت نہیں کر سکے۔ کچھ ایسے احوال ہی پٹھان کوٹ ایئربیس پر بھارتی ڈرامہ کے حوالے سے بھی مشاہدہ کئے جانے کے امکانات ہیں۔

693
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...