گردش ماہ و سال نے اس حقیقت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے کہ دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ یہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ انہوں نے اسلام ایسے مقدس، لافانی اور امن کے داعی مذہب کے نام پر قتل و غارت اور ظلم و ستم کا جو بازار گرم کیا، تاریخ اس کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ یہ عناصر خواہ ان کا تعلق القاعدہ، طالبان، داعش یا کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے ہو، بنیادی طور پر اپنے طرز فکر و عمل کی روشنی میں مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ ان کی سرگرمیوں کا سرسری جائزہ واضح کرتا ہے کہ انہوں نے مجموعی طور پر اسلام اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے لہذا وثوق سے کہا اور سمجھا جا سکتا ہے کہ مذکورہ عناصر اور گروہ خوارج ہیں اور اس حوالے سے ناقابل معافی ہیں کہ انہوں نے بیک وقت مسلمانوں اور اسلام کے لئے مشکلات پیدا کیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خوارج کا یہ گروہ خود کو مسلمان ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے لیکن اپنے عمل کے حوالے سے یہ موجودہ دور میں اسلام کے سب سے بڑے دشمن کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔
یہ بات بھی نہایت فکرانگیز ہے کہ یہ دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر جو اس زمانے کے خوارج بنے ہوئے ہیں، ان کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے دستور کو تبدیل کیا جائے کیونکہ یہ دستور ہر دستور کی طرح ایک سوشل کنٹریکٹ ہے جو اپنا مقصد پورا نہ کرنے کی صورت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ دعویٰ اور مطالبہ بنیادی طور پر حقائق کے منافی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر کو یہ اختیار کس نے دے دیا کہ وہ عوام کی نمائندگی کا فریضہ بھی انجام دینا شروع کر دیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ دہشت گرد اور انتہاپسند عناصر تو جمہوریت اور جمہوری مزاج کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے جبکہ آئین اور دستور کی باتوں کا تعلق سراسر جمہوریت اور جمہوری عمل سے ہے۔ خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دستور کو سوشل کنٹریکٹ قرار دیتے ہوئے، تبدیل کرنے کی باتیں دراصل رائے عامہ کو گمراہ اور بدظن کرنے کی کوششوں کے سوا کچھ نہیں۔ یہ خوارج اچھی طرح جانتے ہیں کہ عوام کے دل میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ ان خوارج کے ہاتھ معصوم اور بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ یہ وہ سفاک لوگ ہیں جو اپنے فکر و عمل کے اعتبار سے توخونخوار بھیڑیے کی مثال ہیں ۔ دہشت گردوں نے مساجد میں نمازیوں کو شہید کیا، بزرگوں اور روحانی شخصیات کے مزارات کو مسمار کیا، تعلیمی اداروں میں طلبہ کو شہید و زخمی کیا، علم و تہذیب کے ادارے برباد کیے اور انسانی آبادیوں میں قبرستان کی خاموشی کو پھیلا دیا۔
دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے خلاف پاک فوج نے جو اقدامات کئے وہ نہایت نتیجہ خیز ثابت ہو رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کو ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب میں 18 ماہ کے دوران غیر معمولی کامیابیاں حاصل ہوئیں ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں افغان بارڈر پر دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا، آخری مرحلے پر پاک افغان سرحد کا علاقہ کلیئر کرا لیا گیا جبکہ اس دوران دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ دہشت گردوں کے سلیپر سیلز ختم کر دیئے گئے ہیں، انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشنز دہشت گردوں کے خاتمے تک جاری رہیں گے۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں ابھی تک 3400 دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور دہشت گردوں کی 837 پناہ گاہیں تباہ کی گئیں ہیں۔ گذشتہ 18 ماہ کے دوران 13200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 183 انتہائی خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کیا جبکہ 21193 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اسی عرصہ کے دوران آپریشن ضرب عضب میں پاک افواج، فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا، بلوچستان، رینجرز سندھ کے 488 افسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 1914 افسران اور جوان زخمی ہوئے۔ ڈیڑھ سال کے عرصہ میں 11 فوجی عدالتوں میں 142 دہشت گردی کے مقدمات بھجوائے گئے جن میں سے 55 مقدمات پر فیصلہ سنایا گیا ،87 مقدمات پر عدالتی کارروائی جاری ہے جبکہ 31 انتہائی خطرناک دہشت گردوں کو سزائیں سنائی گئیں۔ اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، بارود بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے سلسلے میں پوری قوم نے پاک افواج کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس آپریشن کے نتیجہ میں ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔ واضح رہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردوں کے سفاکانہ اور بدترین دہشت گردی کے بعد آپریشن ضرب عضب میں تیزی لائی گئی جس کے بعد سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آئی ۔ اس حوالے سے ملک بھر میں اور خاص طور پر دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں مختلف فیسٹیول اور قومی تہوار منائے گئے۔
کون نہیں جانتا کہ کراچی وطن عزیز کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہاں پر ملک کے ہر علاقے کا شہری اور ہر زبان و نسل سے تعلق رکھنے والا پاکستانی موجود ہے۔ اسی سبب یہ حقیقت ایک محاورے کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے کہ تقریباً 2 کروڑ نفوس کی آبادی کا یہ شہر ’’منی پاکستان‘‘ ہے ۔ اس شہر نے ملک کی سیاسی، اقتصادی، سماجی اور تجار تی ترقی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ شہر ایک عرصے تک ان دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا جن کو اہل وطن بجا طور پر خوارج تصور کرتے ہیں۔ ان عناصر نے شہر قائد کو سٹریٹ کرائمز ، اغواء برائے تاوان، نجی املاک پر ناجائز قبضے، کرپشن، بلیک میلنگ اور ٹارگٹ کلنگ کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ جب یہ صورتحال انتہا کو پہنچ گئی تو حکومت نے عوام کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے رینجرز کو یہ فریضہ سونپا کہ وہ آگے بڑھ کر مذکورہ ملک و قوم دشمن عناصر کی سرکوبی کریں۔ ساری دنیا خوب مشاہدہ کر رہی ہے کہ رینجرز نے اپنا کام نہایت ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ گذشتہ دنوں کراچی میں رینجرز ہیڈکوارٹر میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں رینجرز کے سیکٹر کمانڈرز، پولیس کے اعلیٰ حکام اور کراچی آپریشن میں شامل دیگر حساس اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس کے دوران کراچی میں دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف جاری آپریشن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے کہا کہ کراچی میں جاری آپریشن ہر صورت جاری رہے گا۔سچی بات تو یہ ہے کہ اہل وطن اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک مسلح افواج سمیت دیگر ریاستی ادارے دہشت گرد اور انتہاپسند عناصر کے خاتمے کو یقینی نہیں بنا دیتے کیونکہ یہ خوارج ناقابل معافی ہیں۔

767
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...