یوں تو بین الاقوامی طاقتیں اپنے مالیاتی، تذویراتی، عسکری اور سیاسی مفادات کے لئے ہر حربے کو جائز سمجھ کر ہی استعمال کرتی ہیں لیکن بعض اوقات ان کی طرف سے چالاکی اور عجلت پسندی کا ایسا مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ ان کے حقیقی عزائم کے ساتھ ساتھ ان کے مذموم اور گھٹیا طریقہ کار بھی بے نقاب ہو جاتے ہیں۔ گذشتہ دنوں اس حوالے سے ایک انتہائی دلچسپ لیکن قابل افسوس مثال یوں مشاہدہ کی گئی کہ کابل میں موجود امریکی فوج کے حوالے سے امریکی خفیہ اداروں کی طرف سے یہ اطلاع جاری کرتے ہوئے عام کر دی گئی کہ 2 دن کے اندر اندر کابل میں امریکی فوج پر دہشت گردوں کی طرف سے حملہ کئے جانے کے امکانات اور خدشات ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس حملے سے بچاؤ کی تدبیر اختیار کرنے کی بجائے اس کی تشہیر کی طرف زیادہ توجہ دی گئی تو بعض دوراندیش اور حقیقت پسند سیاسی و سفارتی حلقوں میں اس بارے تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کچھ تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ امریکی حکومت اور خاص طور پر اس کے خفیہ اداروں کا مخصوص طریقہ واردات ہے یعنی وہ ایسی اطلاعات خود ہی عام کرتے ہیں بلکہ ان اطلاعات کو افواہ کی صورت میں پھیلا دیتے ہیں کہ امریکی مفادات کو دہشت گردوں سے خطرہ ہے اور پھر اس اطلاع یا افواہ کے درست یا غلط ثابت ہونے کی پرواہ کئے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آگ کو مزید بھڑکاتے ہیں، گاہے اسی تناظر میں پاکستان ایسے ملک سے ’’ڈومور‘‘ کا تقاضا بھی کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر باراک اوبامہ نے ا پنے خطاب میں حالات حاضرہ کا امریکی نکتہ نظر سے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہو جاتا، ہم ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ اور تقاضا کرتے رہیں گے۔ اس سے خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں امریکہ اپنے جملہ مفادات کا تحفظ کرنے اور ان مفادات کو یقینی بنانے کے لئے کس حد تک جا سکتا ہے۔
معروضی تجزیہ اور زمینی حقائق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امریکی حکومت کی طرف سے جب دہشت گردی کے کسی متوقع حملے یا واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو دوراندیش اور واقفان حال کو اس بات کا یقین کی حد تک علم ہو جاتا ہے کہ اب امریکہ کی طرف سے کوئی غیر معمولی اقدام اٹھایا جائے گا یا ایسی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف بلکہ منفرد ہوگی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 3 اکتوبر 2015ء کو افغانستان کے شہر قندز کے ایک ہسپتال پر امریکی فوج کی طرف سے جو فضائی حملہ کیا گیا، وہ ایسی ہی پیشگی اطلاعات اور خود ساختہ خدشات کی بناء پر کیا گیا تھا۔ حملے کے وقت یہ بلند بانگ دعویٰ کیا گیا کہ ہسپتال مذکورہ میں دہشت گرد موجود تھے اور ایک مرحلے پر یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ قندز کا ہسپتال مبینہ طور پر دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا تھا لیکن حملے کے بعد ان میں سے کوئی ایک دعویٰ بھی درست ثابت نہ ہوسکا۔ اس پر امریکی حکومت نے کف افسوس ملتے ہوئے اگرچہ عالمی برادری کے سامنے معذرت کا اظہار کیا لیکن اس کے ساتھ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ یہ نشاندہی بھی کی کہ جن اطلاعات کی بنیاد اور جواز کے تحت ہسپتال پر فضائی حملہ کیا گیا تھا وہ اطلاعات پہلے تو درست تھیں لیکن بعد میں وہ اطلاعات غلط ثابت ہوئیں۔ خود امریکی انتظامی اخلاقیات کے تحت ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مذکورہ اطلاعات فراہم کرنے والے اہلکار اپنی ملازمت اور ذمہ داریوں سے فارغ ہو جاتے لیکن ہوا یہ کہ بے گناہ افراد کی ہلاکت بارے پراسرار اور شرمناک خاموشی اختیار کر لی گئی۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بے بنیاد، من گھڑت اور خود ساختہ اطلاعات کو ثبوت اور شواہد کی شکل دے کر ان کی بنیاد پر پروپیگنڈہ اور عسکری کارروائی کرنا بڑی حد تک اس ہندو اور بھارتی ذہنیت کا انداز ہے جس سے ’’بغل میں چھری اور منہ میں رام رام‘‘ کا محاورہ منسوب ہے۔ عالمی سفارتی حلقوں میں اس تاثر کو اب روایتی طور پر ایک حقیقت خیال کیا جاتا ہے کہ بھارتی حکومت کسی معاملے بارے سفارتی، سیاسی یا عسکری اقدام کرنے سے پہلے اس حوالے سے پروپیگنڈہ کرکے رائے عامہ کو ہموار کرتی ہے اور فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنے مذکورہ اقدام کا جواز فراہم کرنے کے لئے فضاء تیار کرتی ہے۔ اس عنوان سے تفصیل کا احاطہ تو یہاں نہیں کیا جا سکتا لیکن ماضی قریب کے بعض واقعات ایسے ہیں جو اس سلسلے میں نہایت قابل ذکر ہیں۔ مثال کے طور پر نئی دہلی کے بزرجمہروں نے ایک طویل عرصے تک یہ پروپیگنڈہ کئے رکھا کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی طرف سے مسلح مداخلت کی جاتی ہے۔ یہاں تک الزام تراشی کی گئی کہ مجاہدین کو پاکستان کی طرف سے تربیت، سرمایہ، اسلحہ، رہنمائی اور تحفظ فراہم کیا جاتا ہے لیکن اب یہ راز فاش ہوگیا ہے کہ دراصل یہ ساری کارروائی بنیادی طور پر بھارت کے خفیہ ادارے ’’را‘‘ اور مقبوضہ کشمیر کی طفیلی اور کٹھ پتلی ریاستی انتظامیہ کی ملی بھگت کا نتیجہ رہی۔ کئی بھارتی سول و عسکری اہلکار یہ حقیقت تسلیم کر چکے ہیں کہ انہوں نے خود مقبوضہ کشمیر کے رہائشی باشندوں کو قتل کرنے کے بعد اس کا الزام اسلام آباد پر عاید کر دیا۔
اسی طرح ایک سال قبل یعنی دسمبر 2014ء میں بھارتی حکام نے پاکستان کے خلاف یہ بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ پاک بحریہ نے ایک بھارتی ماہی گیر کشتی پر حملہ کیا اور جب اس کا پیچھا کیا گیا تو پاک بحریہ نے اپنی حملہ آور کشتی کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ بظاہر یہ واقعہ پاکستان کے خلاف ایک متاثر کن ہتھیار محسوس کیا گیا لیکن جلد ہی جب حقائق سامنے آئے تو معلوم ہوا کہ یہ سب من گھڑت اور یکسر جھوٹ پر مبنی افسانہ طرازی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ماہرین نے یہ حقیقت بیان کی کہ اول تو پاکستان کی سمندری حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والی ماہی گیروں کی کشتیوں کی پڑتال اور روک تھام کا فرض پاک بحریہ کے سپرد نہیں بلکہ اس کے لئے ایک الگ خود مختار ادارہ موجود ہے۔ پاک بحریہ کا کام عسکری شعبے سے وابستہ ہے۔ اسی طرح یہ بات ناقابل فہم ہے کہ ایک ماہی گیر کشتی کے خلاف کارروائی کے بعد پاکستان کی بحریہ اپنی ہی کشتی کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دے۔ یہ حقیقت تو بھارتی پروپیگنڈہ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی کہ بھارتی کشتی کے خلاف کارروائی کے وقت پاکستانی بحریہ کی مذکورہ کشتی موقع سے کئی کلومیٹر دور پاکستان کی بحری حدود میں موجود تھی۔
ان حالات اور واقعات کے تناظر میں حتمی طور پر یہ کہنا تو مشکل ہے کہ بھارت اور امریکہ کے حساس اداروں کے درمیان یہ قدر مشترک محض ایک اتفاق ہے یا کسی طے شدہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مفروضات اور خدشات کی بنیاد پر کئے گئے اقدامات، خاص طور پر عسکری کارروائیاں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتیں بلکہ ان کے منفی اور اثرات مرتب ہوتے ہیں جو بڑی حد تک قومی وقار کے حوالے سے باعث شرم ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے میں افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کو یقینی بنانے کے لئے اور ان کے تحفظ کے لئے اپنے یہاں موجود غیر ملکی افواج کی سرگرمیوں کے بارے میں ہمہ وقت چوکنا اور ہوشیار رہے۔ مثالی صورتحال تو یہ ہوگی کہ مذکورہ غیر ملکی افواج افغان حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی کارروائی نہ کریں لیکن اگر ایسا بوجوہ ممکن نہیں تو کم از کم ایسے انتظامات کئے جائیں کہ یہ افواج اپنی اپنی حدود کے اندر رہیں۔ اس سے ناصرف بے گناہ افراد کے جان و مال کی حفاظت کے امکانات روشن ہوں گے بلکہ خود مذکورہ غیر ملکی افواج کی حکومتوں کو بھی عالمی برادری میں سبکی اور شرمساری کا سامنا نہیں کرنا ہوگا۔

1,276
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...