ساری مہذب دنیا اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ بھارت نے محض طاقت اور ظلم کے بل بوتے پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کو عملی طور پر اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ یہ عوام اپنے حق خودارادیت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں لیکن بھارتی حکومت نے ان پر ایک کٹھ پتلی انتظامیہ مسلط کرکے انہیں اپنا فیصلہ کرنے سے باز رکھا ہوا ہے۔ گذشتہ 67 برسوں کے دوران پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ہر پرامن راستہ اختیار کیا ہے یعنی ان کو سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد فراہم کی ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت اپنے ہی کئے ہوئے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور مہذب دنیا کے اجتماعی موقف کو نظرانداز کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے یعنی اقوام کی منظور کردہ قرارداد کے تحت حل کرنے سے راہ فرار اختیار کر رکھا ہے۔
بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ انتہاپسند ہندو ذہنیت کے پرجوش حامی ہیں اور اس رحجان کو پروان چڑھانے کے لئے منصوبے تیار کرتے رہتے ہیں۔ نریندرا مودی نے بھارتی وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے فوراً بعد مقبوضہ کشمیر میں ’’پنڈت بستیاں‘‘ آباد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ان ہندو افراد کو مقبوضہ کشمیر میں واپس لا کر آباد کرنا تھا جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے چار عسکری تصادم کے نتیجے میں کشمیر میں اپنے گھر بار، کاروبار اور املاک چھوڑ کر نقل مکانی کر گئے تھے۔ بھارتی وزیراعظم نے واضح ہدایت کی تھی کہ اس منصوبے پر تیزی سے عمل کیا جائے کیونکہ یہ اقدام مقبوضہ کشمیر میں ان کی حکومت کی مقبولیت کے حوالے سے بے حد اہم ہے۔ بھارتی وزیراعظم کی سیاسی وابستگی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ہے اور موصوف کی دلی خواہش اور سیاسی کوشش ہے کہ پنڈت بستیوں کا مذکورہ منصوبہ کسی تاخیر کے بغیر جاری رہے اور جلد از جلد پایہ تکمیل کو پہنچ جائے۔
سرکاری دستاویزات میں مذکورہ منصوبے کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں ان کے مطابق اس وقت بھارت کے طول و عرض میں تقریباً 60 تا 62 ہزار خاندان ایسے ہیں جو عرصہ قبل مقبوضہ کشمیر سے نقل مکانی کرکے چلے گئے تھے چنانچہ اب ان کو واپس لا کر مقبوضہ کشمیر میں آباد کرنے کے انتظامات مکمل کئے جا رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 10 ہزار خاندانوں کو آباد کیا جائے گا۔ ایک ٹاؤن میں 2500 خاندان ہوں گے چنانچہ مذکورہ تعداد کے لئے چار ٹاؤن تشکیل اور آباد کئے جائیں گے۔ محل وقوع کے اعتبار سے یہ منصوبہ تیار کیا گیا ہے کہ سری نگر اور اننت نگر میں ایسے دو دو ٹاؤن قائم کئے جائیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جن افراد کے مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے تھے ان کو 7.5 لاکھ روپے فی خاندان مالی امداد فراہم کی جائے گی اور اسی جن مکانات کو نقصان پہنچا ان کی مرمت کے لئے 2 لاکھ روپے فی خاندان دیئے جائیں گے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگر کوئی پنڈت خاندان نیا مکان خریدنا چاہے تو اس کو 7.5 لاکھ روپے فراہم کئے جائیں گے۔
نئی دہلی کی ان مذموم اور منظم کوششوں کے باوجود زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں۔ حال ہی میں فرانس کے ایک ٹی وی چینل ’’فرانس۔ 24‘‘ نے حالات حاضرہ کے پروگرام ’’فوکس‘‘ میں 12 منٹ دورانیہ پر مشتمل ایک رپورٹ ٹیلی کاسٹ کی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ظلم و ستم اور عوام کی طرف سے اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بھارتی افواج کی طرف سے بے گناہ اور بے قصور عوام کے خلاف جو ظالمانہ عسکری کارروائیاں کی جا رہی ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے اب کشمیریوں کی نوجوان نسل ایک نئے جذبے اور حوصلہ کے ساتھ میدان عمل میں اتر آئی ہے۔ یہ نوجوان بعض اوقات مسلح ہوتے ہیں اور ان کا ایک دوسرے کے ساتھ نہایت قریبی اور گہرا رابطہ ہوتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مذکورہ نوجوانوں کے علاوہ عام شہریوں کی ایک واضح اکثریت بھی پاکستان کی حامی مشاہدہ کی جاتی ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے شہروں میں تو پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لہرانے کے واقعات عام مشاہدہ کیے جا رہے ہیں لیکن دوسری طرف یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دور دراز کے علاقوں اور خاص طور پر سرحدی دیہات میں جب بھارتی قابض افواج نقل و حرکت کرتی ہیں تو ان کو مقامی دیہاتی عوام کی طرف سے نفرت پر مبنی نہایت حوصلہ شکن سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ دیہاتی ان فوجیوں کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کرتے بلکہ ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ بھارتی فوجیوں کو یہ احساس دلائیں کہ ان فوجیوں کی موجودگی ان دیہاتیوں کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ ٹی وی رپورٹ میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں جو نوجوان بھارتی افواج کے سامنے مزاحمت کر رہے ہیں ان کے انداز، طریقہ کار اور جذبات ان نوجوانوں سے یکسر مختلف ہیں جو آج سے 25 برس قبل یعنی 1990ء کے زمانے میں برسرپیکار تھے۔

617
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...