اسلام امن اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔ یہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ بھی نرمی اور امن سے رہنے کا سبق دیتا ہے یہ کسی بے ضرر انسان کو چھیڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جو مذہب
تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹا نے
خود تفرقہ اُس دین میں اب آکے پڑا ہے
یوں تو کسی بھی وقت کوئی بھی ایسی نا خوشگوار خبر آجاتی ہے کہ کہیں مسلمانوں کے دو فرقوں کا ٹکراؤ ہوا ہے لیکن محرم الحرام کے پہلے عشرے میں ذہن مسلسل اس خوف میں مبتلاء رہتا ہے کہ معلوم نہیں حالات پُر سکون رہیں گے یا نہیں آخری دو دنوں میں خدانخواستہ دہشت گردی کا کوئی واقعہ تو نہیں ہوگا۔ دہشت گردی میں جہاں بیرونی ہاتھ ملوث ہے وہاں اس میں ہمارے شدت پسند رویوں کا بھی بڑا عمل دخل ہے ۔ فرقہ پرستی نے اسلام کو جس بری طرح نقصان پہنچایا ہے اُتنا کسی اور چیز نے نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ مسئلہ پہلے موجود نہیں تھا چھوٹے موٹے واقعات پہلے بھی ہو جاتے تھے لیکن جب سے دہشت گردی کی لہر چلی ہے تب سے معاشرے میں موجود اس تکلیف دہ خلیج کو بھی وسیع کر دیا گیا ہے،دشمن قوتوں نے اس سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور اپنے ایجنڈے کو بڑی آسانی سے آگے بڑھایا۔ میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ دشمن تو دشمن ہے وہ تو اپنا کام کرے گا لیکن کیا اپنے فرائض سے سبکدوشی کے لیے یہ تو جیہہ کافی ہے کہ اس سارے معاملے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ کیاہمیں اپنی ذمہ داریوں کا تعین نہیں کرنا چاہیے کہ اگر دشمن ہم پر اس سمت سے حملہ آور ہے تو ہم اس کا مقابلہ کیسے کریں گے یاپھر ہم حالات سے سمجھوتہ کر لیں کہ جیسا چل رہا ہے چلنے دیں۔
محر م الحرام ہر مسلمان کے لیے قابل احترام ہے چاہے وہ سنی ہوں یا شعیہ۔ پھر آخر ایسی کونسی وجوہات ہیں کہ مسلمان آپس میں الجھا دیے جاتے ہیں۔ ماہ محرم میں منا فرت پھیلانے کی دانستہ کو ششیں کی جاتی ہیں۔ کم علم لوگ سامنے آتے ہیں اور ایک دوسرے کے فقہے اور فرقوں کے بارے میں ایسی زبان اور الفاظ ادا کرتے ہیں کہ دوسری طرف کے جذبات بھڑک جاتے ہیں یہاں تک کہ اسلام کی محترم ہستیوں کے خلاف نازیبا کلمات اور الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ ظاہر ہے کہ دوسرے فرقے کے لوگوں کے لیے سننا نا ممکن ہو جاتا ہے ۔ قابل اعتراض تقاریر کی جاتیں ہیں بلکہ ایسی تقاریر کہ جو دوسرے فرقے پر براہ راست حملہ ہوتا ہے اور ایسی صورت حال جان بُوجھ کر پیدا کر دی جاتی ہے کہ جس کا اختتام کئی جانوں کے ضیاع پر ہو تا ہے ۔ اسلام کے نام یہ صورت حال پیدا کرتے ہوئے خود کو بہترین مسلمان کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام کا تو مطلب ہی سلامتی ہے، سلامتی سب کے لیے یہاں تک کہ اگر دشمن بھی نہ چھیڑے تو اُس کو نہ چھیڑو، ہاں اس کے خلاف اپنی صفیں درست اور اپنے گھوڑے تیار رکھنے کی نہ صرف ہدایت بلکہ حکم ہے تاکہ اگر وہ حملہ کرے تو اس کو سخت ترین جواب دیا جا سکے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ مسلمان دشمن کے خلاف تو کیا منصوبہ بندی اور کیا عمل کرے گا وہ تو اپنو ں ہی کا گلا کاٹنے میں مصروف ہے۔ یہاں سب سے بڑی ذمہ داری علماء پر عائد ہوتی ہے جو اختلافی مسائل کو تو ہوا دے دیتے ہیں لیکن جہاں اتفاق ہے وہاں یہ لوگ چپ ہو جاتے ہیں۔ ہمارا ملک عرصہ دراز سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور اگر ہم سب کم از کم اس نکتے پر متفق ہیں کہ دشمن ہمارے ملک میں کُھل کر کھیل رہا ہے تو اس کے خلاف ہم سب متحد کیوں نہیں ہو جاتے۔ اگر ہم ہر محاذ پر تفرقہ پھیلانے والوں کے خلاف متحد ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس مسئلے پر قابونہ پا سکیں۔ مذہبی ہم آہنگی اور اتفاق پیدا کرنے کے لیے سب سے بڑا کر دار علماء کو ادا کرنا ہوگا انہیں دونوں طرف جذبات کو نہ صرف ٹھنڈا رکھنا ہوگا بلکہ انہیں مثبت راہ پر ڈالنا ہوگا اور خود علماء بھی اپنے الفاظ کا استعمال اور خیالات کا اظہار انتہائی احتیاط اور اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھ کر کریں۔ انہیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کسی بھی صورت ہماری رائے زنی سے مبراء اور بالا ہیں لہٰذا ان کے بارے میں کسی بھی تنقید کا کسی کو کوئی حق نہیں علماء خود بھی اور عوام کو بھی سختی سے اس قسم کی کاروائیوں سے باز رکھیں۔ میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہوگا وہ مسلسل ایسے پروگرام اور نظریات پیش کرے جو مذہبی رواداری کو فروغ دے۔ عام آدمی کے ذہن پر میڈیا کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ عمومی خیالات بدلنے کے لیے ایک انتہائی طاقتور ذریعہ ہے اس کا مثبت استعمال اس سلسلے میں بے حد اہم ہے ۔ملک کا پڑھا لکھا طبقہ بھی آگے آئے اور اسلام کی اصل روح یعنی محبت اور امن کا پیغام عام کرے ۔ ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت کو سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کرنے چاہیے، مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھنی چاہیے اور امن قائم کرنے پر کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے ۔ اللہ ہمارے ملک کو حقیقی معنوں میں امن اور سلامتی کا گہوارہ بنا دے، آمین۔

726
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...