یہ واقعہ ایک اٹل حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ وطن عزیز رب العزت کی ایک بیش بہا نعمت اور بے مثال عطیہ ہے۔ اسلام کے نام پر حاصل کی گئی مملکت خداداد نے اپنے قیام کے 68 برسوں میں اس بات کا بے شمار مرتبہ ثبوت فراہم کیا ہے کہ اس کے عوام اپنی آزادی، خود مختاری اور نصب العین کی خاطر کسی قربانی سے گریز نہیں کرتے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ سیاسی، معاشی اور سماجی شعبوں میں اہل وطن کو گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔ یہ مسائل ایسے ہرگز نہیں، جن کو حل نہ کیا جاسکے یا جن کا حل میسر نہ ہو۔ یہ امر بھی خوش آئند اور حوصلہ افزاء ہے کہ ایسے محب وطن اور درد مند پاکستانی بھی قدم قدم پر موجود ہیں جو قوم کو درپیش مسائل کے حل کے بارے میں ذمہ داری اور دردمندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
جہلم میں مقیم عرفان الحق کا شمار بھی ایسے ہی محب وطن شہریوں میں کیا جا سکتا ہے۔وہ 14 اگست 1946ء کو نجیب آباد، ضلع بجنور، یو پی بھارت کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد ان کے والدین پاکستان چلے آئے اور جہلم میں سکونت اختیار کرلی۔ عرفان الحق صاحب نے ابتدائی تعلیم جہلم ہی سے حاصل کی اور بعدازاں بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے اس ملازمت کو 1992ء میں خیرباد کہا اور ذاتی کاروبار سے وابستہ ہوگئے۔ وہ 1994ء سے مخلوق خدا کی خدمت میں یوں مصروف ہیں کہ وہ مختلف بیماریوں اور عوارض کا علاج بذریعہ ذکر الٰہی، دعا اور غذا کرتے ہیں ۔وہ ایک بیدار مغز دانشور بھی ہیں جن کے فکر انگیز خیالات پر مشتمل ایک کتابچہ ’’مقصد وجود پاکستان‘‘ کے عنوان سے اشاعت پذیر ہو چکا ہے۔ اس کا مطالعہ بلاشبہ قاری کو بہت کچھ سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔
عرفان الحق صاحب کا کہنا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آپ کو نیک اور عادل حکمران میسر آ جائے۔آپ کے ادارے درست ہو جائیں تو ہمیں مومن بننا ہوگا۔مسلمان وہ ہے جو اللہ کو مانتا ہے اور مومن وہ ہے جو اللہ کی مانتا ہے۔ پروردگار عالم نے جب اپنے پیغمبر مبعوث کیے تو ان کی ٹیمیں نہیں بنائیں۔ ایک وقت میں ایک ہی پیغمبر آتا تھا اور لوگوں کے رویے، سوچ اور ایمان تک کو بدل ڈالتا تھا۔ آج بھی بالکل ایسا ہو سکتا ہے، مگر اس کے لئے ہمیں مسلمان سے مومن بننا پڑے گا۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر سال کم و بیش تیس لاکھ آدمی کعبۃ اللہ میں جمع ہوتے ہیں اور وہاں دعائیں مانگتے ہیں کہ اللہ دشمن کی توپوں میں کیڑے ڈال دے لیکن اللہ نے تو یہ دعا کبھی نہیں سنی کیونکہ یہ ایک جذباتی عمل ہے۔
میرے آقاؐ غزوۂ بدر کے لیے تشریف لے گئے، اپنے تین سو تیرہ ساتھیوں کے ساتھ تو بدر کے میدان میں کھڑے ہوکر رسول اللہؐ نے فرمایا: اے اللہ جو بندوبست میرے بس میں تھا، میں نے کر دیا اور اگر اب تو نے ان کو فتح سے ہمکنار نہ کیا تو تجھے سجدہ کرنے والا کوئی نہیں بچے گا۔ تو دعا کہاں کی رسول اللہؐ نے؟ بندوبست کے بعد، میدان جنگ میں۔ ہمارا بندوبست صفر، اور دعائیں کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں سرخرو کر دے کامیاب کر دے۔ ہم بھول گئے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے بغیر بندوبست کے کوئی دعا نہیں کی۔
مومن بننے کے لیے جو سب سے پہلی بات ہے وہ یہ کہ آپ کو تفرقے سے نکلنا پڑے گا، اختلافات چھوڑنے پڑیں گے اور ایک جان ہونا پڑے گا۔آپ یقین کر لیں کہ اگر ظاہر اسباب کی وجہ سے، حکمرانوں کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے، اہل کاروں کی نااہلیوں کی وجہ سے، کاروباری لوگوں کی بددیانتی کی وجہ سے حالات خراب ہیں تو ہمیں ہر حال میں رسول رحمتؐ کی طرف دیکھنا ہے کہ رحمت ہمارے ساتھ ہے،ہمیں ناامید نہیں ہونا۔معاشی مسائل کا حل یہ ہے کہ ہر شخص اپنے حصے کا کام بہترین طریقے سے کرے اور سادگی اختیار کرے یعنی جو طریقہ رسولؐ کا ہے۔ لباس میں، خوراک میں، رہائش میں، ٹرانسپورٹ میں سادگی اختیار کیجئے تاکہ آپ کو بھیک نہ مانگنی پڑے۔بے روزگاری اور غربت تو بہت زیادہ ہے اس تناسب سے تو ہمارے ہاں ہر آدمی بھکاری ہونا چاہیے مگر معاشرے نے ان کو سنبھال ر کھا ہے۔ یہ عظمت ہے معاشرے کی۔ اللہ کے حبیبؐ کا فرمان مبارک ہے کہ کفر کے قریب ترین دو چیزیں ہیں، ایک جہالت اور دوسری غربت۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اسلام دشمن قوتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ان کی تباہی پاکستانیوں کے ہاتھوں سے ہے۔ اس کی وجہ سے وہ سارے انتظامات کر رہے ہیں۔پاکستان کے وجود کے بارے میں جو بنیاد فراہم کی گئی وہ دو قومی نظریہ تھا۔ دو قومی نظریہ کی بنیاد بہت قدیم ہے ۔جب مکہ میں پہلا شخص مسلمان ہوا تو دو قومی نظریہ وجود میں آگیا تھا کیونکہ خدا پرست اور بت پرست اکٹھے نہیں رہ سکتے تھے اور اسی باعث رسول اللہؐ نے مکہ چھوڑکر مدینے کی جانب ہجرت کی تھی۔جب آپؐ مدینہ کی بستی میں پہنچے تو پہلے آپ سجدہ ریز ہوئے ۔ اس سجدہ شکر کے ساتھ ساتھ اگلے پروگرام کی بنیاد رکھی جا رہی تھی اور وہ یہ کہ اللہ کی توحید کو اور اللہ کی وحدانیت کو پوری دنیا میں پھیلانا ہے۔ آپ نے جس جگہ سجدہ فرمایا، اسی مقام پر آج مسجد قبا واقع ہے ۔
میرے آقاؐ نے ارشاد فرمایا کہ آخری زمانے میں غزوۂ ہند ہوگا ،اس کے شرکاء میرے اولین اصحاب کے برابر ہوں گے اور وہ لوگ جو جہاد میں شامل ہوں گے اور وہ فتح یاب ہو کر شام میں عیسیٰ علیہ السلام کی فوجوں سے جا ملیں گے۔جس دن میرے آقاؐ نے یہ فرمایا تھا ،پاکستان اسی دن معرض وجود میں آگیا تھا۔ غور و فکر کا مقام ہے کہ اس لڑائی کے لئے غزوہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب رسول اللہؐ خود تو اس جنگ میں نہیں آئیں گے تو پھر اس کو غزوہ کیوں کہا گیا ؟۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غزوہ نبی آخر الزماں کا مشن ہے۔ اسی دن کے لیے پاکستان بنایا گیا کہ اہل پاکستان نے غزوہ ہند لڑنا ہے۔ ’’وجود پاکستان‘‘ کی سب سے بڑی بنیاد غزوۂ ہند ہے جس کے لیے آپ کو تیاری کرنی ہے۔جو بھی پاکستان کی ترقی، فلاح اور استحکام میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے، وہ غززۂ ہند کے شرکاء میں سے ہے۔
ممتاز دانشور اور بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب (مرحوم) ایک زمانے میں ہالینڈ میں وطن عزیز کے سفیر رہے۔ اپنے قیام کے دوران ان کو وہاں پر ممتاز صوفی بزرگ اور ولی حضرت عبدالطیف شاہ المعروف حضرت بری امام کے ملفوظات حاصل ہوئے جن میں واضح طور پردرج ہے کہ میری (یعنی حضرت بری امام کی) قبر کے گرد ایک شہر تعمیر ہوگا جس کا نام اسلام پر رکھا جائے گا اور جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز ہوگا۔ یہ ملفوظات اب مطالعہ، ملاحظہ اور حوالہ کے لئے موجود ہیں۔اس عظیم بزرگ اور ولی کی ایک بات کا ایک حصہ تو سچ ثابت ہوگیا یعنی ان کی مزار کے گرد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تعمیر و ترقی کے مراحل طے کر رہا ہے۔
حالات کچھ بھی ہوں، کتنے ہی برے ہوں، حکمران کچھ بھی ہوں آپ کو پاکستان کی مخالفت نہیں کرنی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے حالات ٹھیک ہو جائیں، معاشی حالات ٹھیک ہو جائیں تو سادگی اختیار کریں۔ بچت کئے بغیر کوئی امیر نہیں ہو سکتا خواہ وہ جتنا مرضی کمالے۔ پھر ایک سب سے بڑی تصدیق جو عملی طور پر ہمیں میسر ہے، وہ یہ ہے کہ اگرچہ ہم سے سوئی نہیں بنتی مگرہم نے ایٹم بم بنا لیا ہے۔ یہ اللہ کے فضل کی علامت ہے۔گویا اس نے اپنا عندیہ دے دیا ہے کہ میں تمہیں مضبوط دیکھنا چاہتا ہوں۔ہم نے خود اپنے ذہن میں اس بات کو پختہ کرنا ہے کہ اللہ نے ہمیں یہ جو پاک سر زمین عطا کی ہے اور جوایمان دیا ہے،یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت اور فضل ہے۔پاکستان کے وجود کا مقصد شرک اور بت پرستی کا خاتمہ ہے اگریہ مقصد آپ کے پیش نظر رہے گا تو اللہ کے فضل سے آپ کو ہمیشہ عزت و توقیر ملے گی اور آپ رسول اللہؐ کے اولین اصحاب میں شامل ہوں گے۔

610
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...