اللہ تعالیٰ نے اپنے دوست ابراہیم ؑ سے بیٹے کی قربانی مانگی باپ نے بیٹے سے اپنے خواب کا ذکر کیا اور سراپا فرماں بردار پسر ا سما عیل ؑ نے باپ کی ہمت بندھائی اور تاریخ انسانی کے اِس عظیم واقعے نے جنم لیا اور رب کریم نے اپنے دوست کی عظیم قربانی کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے اسے اپنے محبوبﷺ کی اُمت پر فرض قرار دیا یعنی دوست کی قربانی کو محبوب پر بھی لاگو کر دیا۔قربانی مسلمانوں پر فرض بھی کر دی اور اسے ان کے لیے عید یعنی خوشی کا موقع بھی بنا دیا اور سب سے بڑھ کر حج جیسی عبادت کا رکن بھی اور ساتھ ہی اسے مسلمانوں کے لیے تجارت کا ذریعہ بھی بنا دیا ۔ہر سال عیدپر لاکھوں کروڑوں جانور وں کی خرید و فروخت ہوتی ہے اس موقع کے لیے بڑے شوق سے سارا اسال جانور پالے جاتے ہیں انہیں خوب کھلایا پلایا جاتا ہے اور عید کے قریبی دنوں میں یہ ایک اور طرح کا منافع بخش کاروبار ہوتا ہے۔لیکن قربانی ہو جانے کے بعد بھی سنت ابراہیمی کا فرض ختم نہیں ہوتا بلکہ قربانی کے جانوروں کی کھالیں ایک بار پھر انتہائی منافع بخش کاروبار کا ذریعہ بن جاتی ہیں اکثر لوگ اسے خیرات و صدقے میں دے دیتے ہیں اور کچھ اس کو فروخت کر دیتے ہیں اس کے علاوہ سیاسی جماعتیں اور فلاحی ادارے لاکھوں کی تعداد میں یہ کھالیں جمع کر لیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ضرور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہوتی ہوں گی لیکن کتنی، یہ عوام نہیں جانتے شاید یہ ادارے اور جماعتیں اندرونی طور پر اس کا کچھ حساب کتاب رکھتی ہوں لیکن عوام کو اس کا کتنا فائدہ پہنچتا ہے اس کا کوئی حساب کتاب نہیں پیش کیا جاتا۔ ایک اندازے کے مطابق صرف کراچی میں تین ارب روپے کی کھالیں جمع ہوتی ہیں۔ کراچی میں تو اس سرگرمی سے جماعتوں اور اداروں کو اس سال روک دیا گیاہے لیکن اگر پورے ملک میں جمع شدہ کھالوں کا حساب لگایا جائے تو اس کی قیمت اس سے کہیں بڑھ کر ہو گی۔ ان کھالوں کو چمڑے کی مصنوعات میں استعمال کر کے بہت بڑا زرمبادلہ کمایا جاتا ہے ۔کھالوں کا یہ کاروبار عید قربان کی ایک ذیلی برکت ہے لیکن اس عید کا اصل مقصد صاحب نصاب شخص کا اپنی آمدن میں سے کچھ حصہ نکال کر اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنا ہے۔اس وقت وطن عزیز جن مسائل سے دو چار ہے اس میں دہشت گردی سر فہرست ہے یوں تو اس مسئلے سے پورا ملک متاثر ہے اور بہت بری طرح متاثر ہے لیکن ہمارے قبائلی علاقوں اور یہاں کے عوام نے ان شر پسندوں کے ہاتھوں جن مصائب کا سامنا کیا ہے وہ نا قابل بیان ہے۔ان شرپسندوں کی سرکوبی کے لیے تمام فوجی آپریشنوں اور اب ضرب عضب کی کامیابی کے لیے انہوں نے اپنا گھر بار چھوڑا اور اپنے ہی ملک میں کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ ان علاقوں میں بحالی کا کام شروع ہو چکا ہے ایسے میں اگر ان کھالوں کو اس بار حکومتی اداروں کے تحت منظم کے طور پر جمع کیا جائے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کو اگر ان آئی ڈی پیز کی بحالی کے لیے استعمال کیا جائے تو ہم اب تک کسی حساب کتاب کے بغیر غائب ہونے والی قیمتی کھالونں کو ایک ایسے مقصد کے لیے استعمال کر لیں تو نہ صرف بے خانماں لوگوں کو اپنی روز مرہ زندگی بحال کرنے میں مدد کریں گے بلکہ ان علاقوں میں ہونے والے ترقیاتی کاموں میں بھی ان کی آمدنی کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان بے گھر لوگوں کی دلجوئی حکومت پاکستان اور پاکستان کے ہر شہری کا فرض ہے اس لیے اگر وہ اس بار ان کھالوں کو ان کے نام کر دیں تو ہم اس کو قومی یکجہتی کا ذریعہ بھی بنا سکتے ہیں ۔اس کے لیے حکومت اگر یہ ذمہ داری شہری انتظامیہ کو دے یا فوج سے بھی مدد لے جو با قائدہ اندراج کر کے اس رقم کو ہر آئی ڈی پی تک پہنچائے اور اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ اس رقم سے صرف بحالی کا کام کیا جائے چاہے یہ ذاتی گھر کی بحالی ہو یا کار و بار اور یاسکولوں، ہسپتالوں ، سڑکوں ،پانی کی سپلائی جیسے منصوبوں پر ہی خرچ ہو تو ہم ان کھالوں کو زیادہ سے زیادہ قومی ترقی اور یکجہتی کے لیے استعمال کر کے قربانی کی اصل روح کو زندہ کر سکتے ہیں اور ملت مسلمہ کے اس نیکی کے فعل کو مزید نیکی کا باعث بنا سکتے ہیں۔ یہ یقیناًدنیاوی فائدے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کا باعث بھی ہو گاجو سنت ابراہیمی کی اصل روح ہے۔ 

601
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...