ہر سال کی طرح امسال بھی لاکھوں خوش نصیب فریضہ حج کی ادائیگی سرانجام دیں گے ۔ حج و عمرہ کے فرائض میں خانہ کعبہ کا طواف فرض ہے۔ طواف میں خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگائے جاتے ہیں ۔ہر چکر حجر اسود سے شروع ہوتا ہے اور اسی پہ ختم ہوتا ہے۔ حجر اسود خانہ کعبہ کے مشرقی کونے پہ چاندی کے فریم میں نصب ہے۔جسے چھو کر یا بوسہ دے کر طواف شروع کیا جاتا ہے۔حجر اسود اللہ تعالی نے جنت سے زمین پر اتارا۔ ابن عمررضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حجر اسود کو چھونا گناہوں کا کفارہ ہے،سنن ترمذی ۔ قارئین !ایام حج میں حجر اسود کے گرد حجاج و زائرین کا بے پناہ رش ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو دھکے دیکر حجر اسود کو بوسہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ نفسا نفسی کا عالم ہوتا ہے ۔ یہ بات ذہن نشین رکھیے کہ حجر اسود کو بوسہ دینا فرض نہیں ہے بلکہ دور سے اس کی جانب دونوں ہاتھوں کا اشارہ کرکے اللہ اکبر کہہ کے اپنے ہاتھوں کو چوم لیا جائے تو بھی استلام ہو جاتا ہے اور ثواب میں کوئی کمی نہیں آتی ۔ ابن عباس رضی للہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے اپنے اونٹ پرطواف کیا توآپ جب بھی حجر اسود کے پاس آتے تو اس کی جانب اشارہ کرتے اوراللہ اکبر کہتے،صحیح بخاری ۔ مشاہدہ میں آیا کہ لوگ اپنی خواتین کو ساتھ لیے حجر اسود کے گرد ہجوم میں گھس جاتے ہیں یا بعض خواتین انفرادی طور پہ ہجوم میں چلی جاتی ہیں ۔ خواتین کا نامحرم مردوں کے ہجوم میں شامل ہونا کسی صورت بھی مناسب نہیں ۔ دھکم پیل کے باعث خواتین ہجوم میں پس کے رہ جاتی ہیں ۔اور چیخ و پکار کرنے لگتیں ہیں ۔ جنہیں لوگ بڑی مشکل سے باہر نکالتے ہیں ۔بعض افراد گر جاتے ہیں اور لوگوں کے پاؤں تلے آکے کچلے جاتے ہیں ۔ گزشتہ سے پیوستہ سال ایک خاتون اسی باعث جاں بحق ہو گئیں ۔اس لیے حجاج کرام کی خدمت میں گزارش ہے کہ حجر اسود کا دور سے ہی استلام کیجئے اور خواتین کو ہجوم میں نہ لیجائیے۔ ایک اورمسئلہ” رمل “کا ہے۔ عمرہ و حج کے طواف میں پہلے تین چکروں میں مرد حضرات کو پہلوانوں کی طرح شان سے اکڑ کرچھوٹے چھوٹے قدم اٹھا نا ہوتے ہیں اسے رمل کہتے ہیں ۔ اگر رش زیادہ ہوتو رمل نہیں کرنا چاہیے بلکہ دوسروں کو ایذا پہنچائے بغیر آرام سے چلتے ہوئے چکر مکمل کیجئے۔ بہت سے مرد حضرات رمل کے چکر میں دوسروں کو دھکے دیتے ہوئے انتہائی تیز تیز چلتے ہیں اور بعض لوگ جاگنگ سٹائل میں بھاگتے نظر آتے ہیں ۔ جس سے دوسروں کو سخت تکلیف و اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں۔ حرمین شریفین اپنی بے پناہ وسعت اور کشادگی کے باوجود تنگ پڑ جاتے ہیں اور اس کی سب سے اہم اور بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ حجاج کرام مساجد کے اندرونی حصوں کی جانب بڑھنے کی بجائے راستوں میں ہی بیٹھ جاتے ہیں۔ چنانچہ باہر کے صحن ، اندرونی راستے اور سیڑھیاں پہلے بھر جاتے ہیں اور بعد میں آنے والوں کو اندر جانے کا راستہ ہی نہیں مل پاتا۔ نتیجتاً ان بے چاروں کو یا تو نماز ہی نہیں مل پاتی یا پھر سڑک یا فٹ پاتھ پر نماز پڑھنی پڑتی ہے جبکہ مسجد کے اندر بہت سے گوشے خالی پڑے ہوتے ہیں۔یاد رکھیے عام حالات میں بھی مسلمانوں کو ایذا پہنچانا حرام ہے چہ جائیکہ حرمین الشریفین جیسی بابرکت جگہوں پہ ہم دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بنیں ۔ اپنے نامہ اعمال میں نیکیوں میں اضافہ کرنے اور گناہوں کو مٹانے کی بجائیے مزید گناہوں کا بوجھ اٹھا لینا دانشمندی نہیں ۔ اس لیے حجاج کرام کو ہر ممکن حد تک احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
دور جدید کا ایک اور مسئلہ سیلفیز کا ہے ۔ آج کل موبائل کیمروں کا چلن عام ہے ۔کچھ عرصہ پہلے حرمین الشریفین میں کیمرہ یا کیمرہ فون لیجانے پہ پابندی عائد تھی ۔ اگرچہ پروفیشنل کیمرہ لیجانے پہ اب بھی پابندی ہے مگر عوام کی سہولت کی خاطر موبائل فون لیجانے کی اجاز ت دے دی گئی تاکہ وہ آپس میں رابطہ میں رہ سکیں۔ البتہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب عازمین کی ایک بہت بڑی تعداد پکنک کے لیے آئے افراد کی مانند فوٹو شوٹ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ کوئی مصنوعی طور پہ دعا مانگنے کا پوز بنائے تصویر اتروا رہا ہے تو کوئی دوران طواف حالت احرام میں سیلفی لے رہا ہے۔ یہ حجر اسود ہو یا ملتزم ،مقام ابراہیم ہو یا صفا مروہ کی پہاڑیاں ہر جگہ موبائل کیمروں کی ٹک ٹک اور فلیش دکھائی دیتے ہیں اور تو اور روضہ رسول ﷺ کی جالیوں کے عین سامنے سیلفی سٹک کی مدد سے بھی سیلفیز لی جاتی ہیں ۔ ماہرین نے اس عادت کو سیلفی بخار کا نام دیا ہے۔ حال ہی میں ایک سعوی مفتی صاحب نے حرمین میں تصاویر کھینچنے کو حرام قرار دیا ہے اور عوام کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اس فعل سے باز رہیں ۔ قطع نظر اس با ت کے کہ یہ فتوی صحیح ہے یا غلط ہمیں اس کی اصل وجہ دیکھنی چاہیے۔ سیلفیز لینے والے انسان کی توجہ عبادت سے ہٹ جاتی ہے اور خشوع خضوع متاثر ہوتا ہے۔ عبادت میں ریا کاری اور دکھاوے کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ ساتھی عازمین کو اس باعث تکلیف پہنچتی ہے اور ان کی توجہ بھی عباد ت سے ہٹ جاتی ہے ۔ اکثر لوگ ان سیلفیز کو بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کرتے ہیں جس سے ریاکاری اور دکھاوے کاتاثر ملتا ہے۔اگرچہ تحدیث نعمت کہ طور پہ چند تصاویر محفوظ کرنے اور عزیز و اقارب کو دکھانے یا سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کرنے میں کوئی قباحت نہیں ۔ مگر ہر ہر زاویے سے تصاویر اتروانا اور تشہیر کرنا کسی صورت مناسب نہیں ۔ عازمین کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اللہ پاک نے اربوں انسانوں میں سے ان کو چنا، اپنے اور اپنے حبیب ﷺ کے در کی حاضری نصیب فرمائی ۔ اس مقدس سفر کا ہر ہر لمحہ بیحد قیمتی ہے اور اس دوران خشو ع خضوع کے ساتھ جتنی عباد ت کی جائے کم ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حج کے غرض سے جب میقات پہنچے تو احرام باندھ کے دعا فرمائی کہ’’اے اللہ ،میں تجھ سے ایسے حج کا سوال کرتا ہوں جس میں ریاکاری اور دکھاوا نہ ہو ‘‘ ترمذی۔ سیلفی فیورمیں مبتلا افراد کا یہ عمل حضور ﷺ کی سنت سے انحراف کے مترادف ہے۔ پس حجاج کرام و عمرہ زائرین کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ حرمین شریفین اور دیگر مقدس مقامات کے تقدس کا خیال رکھیں۔ اللہ سے اپنے ناقص اعمال کی قبولیت کی التجا ء کریں اور اس ذات بابرکت سے عاجزی کے ساتھ بخشش و مغفرت کی دعا مانگیں اور اپنے قیمتی وقت کا بہترین استعمال ممکن بنائیں ۔ 

699
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...