میرے سوہنے شہر قصور میں سامنے آنیوالے شرمناک سکینڈل نے قصور کے مکینوں کا سر شرم سے جھکا دیا ہے ۔ ہم قصوری بڑے فخر سے اپنے آپ کو بلھے شاہ کی نگری کا شہری کہہ کر دوسروں سے اپنا تعارف کروایا کرتے تھے ۔ ہمارے شہر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال انتہائی تسلی بخش اور مثالی تھی۔ لیکن اس واقعے نے پوری دنیا میں قصور کے اس روائیتی پرامن تشخص کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ یہ ایسا دھبہ ہے جسے دھلنے میں ایک لمباعرصہ لگے گا ۔ حسین خانوالہ گاؤں علاقے کا سب سے ترقی یافتہ ،پڑھا لکھا اور پر امن گاؤں شمار ہوتا تھا ۔ مگر چند عاقبت نا اندیش نوجوانوں کے گھناؤنے فعل نے پورے گاؤں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ۔ اس بات کا کسی کو علم نہ تھا کہ یہ گاؤں ایک آتش فشاں کے دھانے پہ کھڑا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے پاکستان میں اس طرح کے جرائم میں مشہور شہروں کی جو فہرست جاری کی گئی ہے اس میں آٹھویں نمبر پہ قصور کا نام بھی شامل ہوگیا ہے۔ تفتیشی ادارے اور مقتدر حلقے اب اس کیس کی تفتیش پہ خصوصی توجہ دے رہے ہیں ۔روز بروز نئے نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔امید ہے کہ متاثرین کو انصاف ملے گا اور ملزمان کو سزا دے کے نشان عبرت بنایا جائے گا۔ قارئین محترم ۔یہاں میں ان چند امور کی نشاندہی کرنا چاہوں گا جو ایسے واقعات کی بنیاد بنتے ہیں۔
1۔کیبل کلچر 
آج کل تقریبا ہر گھر میں کیبل ٹی وی کا راج ہے۔ کیبل ٹی وی پہ چار ،پانچ چینلز موویز کے لیے مختص ہوتے ہیں جن پہ انگلش ،انڈین ،پاکستانی فحش فلمیں اور پنچابی مجرے چلائے جاتے ہیں۔ ان سب چینلزپہ دکھائی جانیوالی فحش فلموں، ڈراموں،گانوں وغیرہ نے عوام خصوصا نوجوان طبقہ کے معصوم ذہن کو آلودہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ یہ سب چیزیں ذہنی پراگندگی اور جنسی ہیجان میں اضافے کا باعث بنتی ہیں ۔ ایک اسلامی معاشرے میں ان چیزوں کی ذرہ برابر بھی گنجائش موجود نہیں۔یقیناًکیبل کے ذریعے اچھے چینلز اور اسلامی نشریات بھی دکھائی جاتی ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔کیبل کے ذریعے ہمارے بچے اور نوجوان وہ نشریات دیکھتے ہیں جو والدین انہیں ہرگزدکھانا نہیں چاہتے۔یہ ذہنی پراگندگی ہی آگے چل کے اس قسم کے جرائم کی بنیاد بنتی ہے۔پیمرا اور حکومت کو ایسے چینلز اور ان کی نشریات پہ پابندی لگانا چاہیے۔
2 ۔موبائل و انٹرنیٹ
یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہم نے مثبت مقاصد کے تحت بنائی وایجاد کی جانیوالی ہرجدید چیز کے منفی استعمال کو وطیرہ بنا لیا ہے۔ موبائل فون و انٹرنیٹ نے ہماری زندگیوں میں بیشمار آسانیاں پیدا کی ہیں ۔جہاں موبائل فون نے فاصلوں کو سمیٹ کے رکھ دیا وہیں انٹرنیٹ نے علم و دانش کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ مگر ان چیزوں کے منفی استعمال نے ہمارے معاشرے کی اخلاقی قدروں کو برباد کردیا ہے۔پاکستان کے طول و عرض میں موبائل فون اور سی ڈی شاپس پہ غیر اخلاقی مواد فروخت کیا جاتا ہے۔ ” پچاس روپے میں میموری کارڈ فل کروائیں ” کے بورڈ جگہ جگہ نظر آتے ہیں ۔ چند روپوں کے عوض بلو پرنٹ ویڈیوز، فحش گانوں اوردیگر غیر اخلاقی مواد سے کارڈ فل کردیا جاتا ہے۔ایک بچہ یا نوجوان کارڈ فل کرواتا ہے تو اپنے پانچ ،چھ دوستوں کے ساتھ بذریعہ بلو ٹوتھ شئیر کر دیتا ہے اور پھر یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔دیہات میں چونکہ انٹرنیٹ تک رسائی اب بھی محدود ہے تو یہاں نوجوانوں میں عریانی و فحاشی کو موبائل فونز کی مدد سے فروغ حاصل ہوا۔موبائل کمپنیوں کے نائٹ کال پیکجز اور مسیج پیکجز نے بھی اس تباہی میں پورا پورا حصہ ڈالا۔ شہروں میں انٹرنیٹ کے ذریعے عریانی و فحاشی کا سیلاب آیا۔ اب تھری جی اور فور جی کے اجراء کے باعث ہر نوجوان کو ہر جگہ فحش مواد تک لائیو رسائی حاصل ہے۔ درحقیقت موبائل فون اور انٹرنیٹ کمپنیوں کو اصل منافع نوجوان طبقے ہی سے حاصل ہوتا ہے اس لیے نوجوان طبقہ ان کا خاص ہدف ہے۔ یہ حکومتی ذمہ داری تھی کہ وہ ان جدید اشیاء کے منفی استعمال کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرتی جو کہ پوری نہیں کی گئی۔ کہتے ہیں کہ اگر انسان کے اپنے پاس عقل نہ ہو تو کسی سے ادھار مانگ لینی چاہیے۔دوست ملک چین نے اپنی عوام کی غیر اخلاقی مواد تک رسائی روکنے کے لیے خصوصی سپر کمپیوٹر تیا ر کیا جس کے ذریعے انٹرنیٹ سے غیر اخلاقی ویب سائٹس اور ویڈیوز کو فلٹر کرلیا جاتا ہے۔ ہمیں بھی دوسروں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ 
3۔ دین سے دوری 
دینی تعلیمات سے دوری کے باعث معاشرے کی اسلامی اقدار روبہ زوال ہیں۔قرآن کا ترجمعہ پڑھنا تو درکنار آج نوجوان نسل کی اکثریت ناظرہ قرآن تک نہیں پڑھتی ۔ ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور اس امتحان میں وہی کامیاب ہوگا جس نے اللہ و رسول ﷺ کی بتائی گئی تعلیمات کو اپنایا اور ان پہ عمل کیا۔ قرآن سنت سے محبت ہی ہمارے لیے ذریعہ نجات بنے گی۔ نوجوان نسل کو دین سے رغبت دلانے میں والدین ، علماء اور حکمرانوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
4۔والدین کی لاپرواہی 
بچوں کی تربیت اور کردار سازی والدین کا فرض ہے۔والدین کبھی نہیں چاہیں گے کہ وہ اپنے بچوں کے ہاتھو ں میں دہکتے کوئلے تھما دیں۔ لیکن بچوں کو قبل از وقت کیبل ٹی وی،موبائل و انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرکے درحقیقت والدین ایسا ہی کر رہے ہیں ۔بچوں کو ان سب چیزوں تک رسائی دینے سے قبل اُن میں ان ذرائع کے مثبت استعمال کا شعور اجاگر کرنااشد ضروری ہے ۔اس بات کو یقینی بنانے کے لیے والدین کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس کا طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے تاکہ بچے جانے انجانے میں ان ذرائع کا منفی استعمال نہ کر سکیں ۔ 
4۔پولیس و عدلیہ کی ناکامی۔ 
کسی بھی معاشرے میں اگر جرائم کی روک تھام اور سزاء و جزا کا نظام کمزور ہو تو ایسی بیشمار برائیاں جنم لیتی ہیں اور جرائم کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں پولیس مجرموں کو سزا دلوانے کی بجائی ان کی سر پرستی کرنے لگ جاتی ہے۔مظلوم کی بجائے ظالم کا ساتھ دیا جاتا ہے۔ اگر معاملہ عدلیہ تک بھی پہنچے تو سائلین کو سالہا سال دھکے کھانے کے باوجود بھی انصاف نہیں ملتا ۔یہاں انصاف بکتا ہے اور عدل پھانسی چڑھایا جاتا ہے۔پولیس اور عدالتی نظا م میں بہتری لائے بغیر جرائم کا خاتمہ ہرگز ممکن نہیں ۔متعلقہ اداروں اور ارباب اختیار کو اس سمت توجہ جہ دینی چاہیے۔
5۔معاشرتی بے حسی 
ایک زمانہ تھا جب ہمسائے کی عزت و آبرو اور جان و مال کے تحفظ کو مقدم جانا جاتا تھا مگر اب یہ اقدار واوصاف قصہ پارینہ بنتے چلے جارہے ہیں ۔گلی، محلہ میں ایک شخص کے ساتھ ظلم ہو تو لوگ مظلوم کاساتھ دینے کی بجائے ظالم و طاقتور کے ہمنوا بن جاتے ہیں۔ “ہمیں کیا ” جیسا بے حسی پہ مبنی جملہ زبان زد عام ہے۔عینی شاہدین اپنے سیاسی وسماجی مفادات کی خاطر مظلوم کے حق میں گواہی نہیں دیتے ۔گواہی ایک امانت ہے اور بروز قیامت ا س کا حساب لیا جائے گا ۔ اگر لوگ بے حسی اختیار کرنے کی بجائے مظلوم کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہوجائیں تو مٹھی بھر ظالم طبقے کو شکست دینا اور کیفر کردار تک پہنچانا چنداں مشکل نہ رہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر آج ہم نے مظلوم کا ساتھ نہ دیا تو وہ وقت دور نہیں کہ ہمیں بھی کسی ایسے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔پھر آسمان ہمیں انصاف کی بھیک مانگتا دیکھ کہ ہنس رہا ہوگا۔
اگر مندرجہ بالا عوامل پہ غور کیا جائے اور ان کے سدباب کے لیے لائحہ عمل اختیار کیا جائے تو جنسی درندگی ،گھر سے جوان لڑکیوں اور لڑکوں کا بھاگ جانا،پسند کی شادی نہ ہونے پہ خودکشی کر لینا،اغوا برائے تاوان،نوجوانوں کے تعلیمی نقصان اور دیگر اخلاقی اقدار کے انحطاط کو روکا جا سکتا ہے۔

601
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...