ملک میں آنے والے آفات ،حادثات ،سیلاب ،پیماریاں ،زلزلوں ،وغیرہ میں جہاں حکومت کام کرتی ہے وہاں ساتھ ہی ایک سویلین ادارے کی حیثیت سے این جی اوز بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں این جی او اس موقع پر حکومت وقت کے ساتھ ملکر ناصرف یہ مسائل حل کرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ اپنے پلیٹ فارم سے ہر ممکن مدد فراہم کر کے حکومت کے لئے آسانیاں پیدا کرتی ہیں این جی او ز کو ملک میں جازت دینا اور ان کے کام پر نظر رکھنا حکومتی اداروں کا کام ہے مگر افسوس کے ساتھ کے شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اس بابت کوئی قانون نہیں اگر ہے تو اتناکمزور کے اس کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا جس کا جی چاہا جیسا چاہا اپنی این جی او بنائی اور فنڈز لیکر جو مرضی کرتا رہا کوئی پوچھنے والا نہیں ماضی میں آنے والے 8اکتوبر کے زلزلے کے بعد ملک میں این جی اوز کا ایک ایسا وسیع نیٹ ورک قائم ہوا جو بعد ازاں ہمارے لئے باعث رحمت بھی بنا اور باعث زحمت بھی باعث رحمت اس طرح کے ملک میں زلزلہ زدگان کی دوبارہ آبادکاری ،ملک سے موزی مرض پولیو ، کے خاتمے، اور معیار تعلیم کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ زراعت ، معیشت ،کی ترقی کے لئے ان کا کر دار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اگر اس موقع پر این جی اوز نہ ہوتیں تو شاید پاکستان اس لعنت سے چھٹکارا حاصل نہ کر سکتا اس کے ساتھ ساتھ ملک سے دیگر برائیوں کوختم کرنے اور ان کے سد بابب کے لئے این جی اوز نے ہر ممکن مدد کی مگر باعث زحمت اس طرح بنی کے مبینہ طور پر پولیومہم کے دوران اور بعد ازاں اسامہ بن لادن کی تلاش کے لئے پولیو مہم سے مدد لی گئی اس سے پاکستان میں غیر ملکی این جی اوز کا کردار مشکوک ہونے لگا بعد ازاں پاکستان نے بہت بڑی اور بااثر غیر ملکی این جی او پر پابندی لگا دی جس تیزی سے اس غیر ملکی این جی او کے بعض دفاتر بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا اس سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ جاری نوٹیفکیشن منسوخ کیا گیا اس کے بعد جو معذرت خواہانہ لہجہ اختیار کیا گیا اور وضاحتیں پیش کی گئیں وہ بے حد مضحکہ خیز تھیں جن سے لگتا تھا کہ ہماری حکومت انڈر پریشر ہے اب صورت حال یہ ہے کہ یہ غیر ملکی این جی اوز اس حد تک با اثر ہو چکی ہیں کہ حکومت بھی ان سے ڈرتی ہے ملک بھر میں غیر قانونی این جی اوز کی بھر مار ہو چکی ہے لیکن ہمارے ادارے ابھی تک خواب غفلت میں ہیں شاید وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ کوئی باہر سے آکر ان کے حالات ٹھیک کر دے گا صرف خیبر پختونخواہ میں رجسٹرڈ این جی اوز کی تعداد دس ہزار ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ غیر رجسٹرڈ این جی اوز کی تعداد کیا ہے یہی حال پورے ملک کا ہے اگر حکومتی ادارے غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ این جی اوز سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان ڈمی این جی اوز کی فنڈنگ کو روک دیا جائے تو یہ اپنی موت آپ مر جائیں گے تمام این جی اوز کا آڈٹ ہونا چاہئے اور مشکوک سرگرمیوں والی این جی اوزکا فرانزک آڈٹ ہونا چاہئے اس بارے میں کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لایا جائے این جی اوز کے بارے میں میڈیا میں جو بھی تحفظات ہو رہے ہیں درحقیقت وہ ملک کے عام شہری کے تحفظات ہیں جبکہ این جی اوز کے بارے میں حکومت کی کارکردگی بے حد مایوس کن ہے قومی ایکشن پلان کی اہمیت اور افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن اس پر عملدرآمد کی رفتار انتہائی سست ہے جس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ سرد خانے کی نظر ہو چکا ہے این جی اوز کا معاملہ متعدد بارسننے میں آیا ہے کہ ان کی سکروٹنی ہو رہی ہے مگر ابھی تک نتیجہ سامنے نہیں آ سکا ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی ایکشن پلان پر تیزی سے عمل کیا جائے اور اس سلسلے میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کو اپنی ذمہ داریاں صحیح طورپر سرانجام دینی چاہئیں این جی اوز کے معاملے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نظرآنے والی کارکردگی پیش کرنی چاہیے غیر رجسٹرڈ این جی اوز کو فوری طورپر کام کرنے سے روک دینا چاہئے اور جو این جی اوز رجسٹرڈ نہیں ہیں ان کے حسابات کی چیکنگ ہونی چاہئے قوم کے سامنے یہ حقیقت واضح ہونی چاہئے کہ کس غیر سرکاری تنظیم کو ملک اور بیرون ملک سے کتنی امدا د ملتی ہے اور اس کے نتیجے میں وہ عوامی فلاح و بہبود کے کون سے منصوبے مکمل کر رہی ہے کیونکہ ان این جی اوز کے معاملے میں سارے کوائف اور اعداد و شمار قوم کے سامنے آنے سے ان ڈمی این جی اوز کی حقیقت بھی آشکار ہوجائے گی جو فنڈز کے ذریعے سیمینار تو کراتی ہیں لیکن منصوبوں کے نام پر رقوم ہڑپ کر جاتی ہیں اسی طرح قوم کو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ کون سی تنظیمیں پاکستا ن کے مفاد کے منافی کام کررہی ہیں جتنا جلد ممکن ہو سکے این جی اوز کی تعداد ان کے فنڈز اور ان کی سماجی سرگرمیوں کے حوالے سے بہتر حکمت عملی ترتیب دی جانی چاہیے تاکہ ملک میں امن وامان کی دشمن ان ڈمی این جی اوز کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

817
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...