1947 میں‌آزادی کے چند دن بعدنوزائیدہ پاکستان کے باسیوں‌نے اپنے آزاد وطن میں پہلی عید الفطر منائی ۔ مگر ان کے چہروں‌سے جہاں‌عید کی خوشیاں ٹپک رہی تھیں ،وہاں غموں‌ کی پرچھائیاں‌بھی واضح تھیں‌ کیونکہ یہ ان کی پہلی عید تھی جب ان کےلاکھوں‌ پیارے ان کے درمیان نہ تھے۔ آزادی کےحصول میں لاکھوں‌مرد و زن ، بچے ،بوڑھے اور جوان شہید ہو گئے تھے۔ مادروطن کی بنیادوں‌میں ان کا لہو شامل ہو کے ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا تھا۔اب وہ اس دنیا میں‌کبھی واپس آنیوالے نہ تھے ۔ ایسےمیں‌ان کے لواحقین کے لیے عید کی خوشیاں منانا بڑا صبر آزما کام تھا۔لیکن تاریخ‌ ان مائوں‌، بہنوں‌، بیٹیوں اور بچوں کے مضبوط عزم کی شاہد ہے کہ انہوں نے اس کڑے وقت میں‌بھی اف تک نہ کی اور ہمت وحوصلہ و جوانمردی سے حالات کا سامنا کیا۔ آج 67 سال بعد بھی اس وطن کے ہزاروں باسیوں کی یہ پہلی عید ہے کہ جن کے پیارے اس سال دہشتگردی کا شکار بن گئے اور اب وہ آئندہ آنیوالے تمام عیدیں ان کے بغیر ہی گزاریں گے ۔ جی ہاں‌! یہ ان مائوں‌کی پہلی عید ہے جن کے ننھے پھول گزشتہ سال آرمی پبلک سکول پشاور میں ہونیوالی بربریت کا نشانہ بنے۔ یہ پاک فوج کے ان جوانوں‌کی پہلی عید ہے جن کے ساتھیوں نے ملک دشمن عناصر کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ یہ ان نئی نویلی دلہنوں‌کی پہلی عید ہے جن کے آنسوئوں‌کے سوتے اپنے پیا کی راہ تکتے خشک ہو رہے ہیں‌۔ یہ ان بہنوں‌کی پہلی عید ہے جن کے کان دروازےپہ اس مخصوص دستک کے منتظر ہیں جو بھائیوں‌کی جانب سے ہر سال عیدی کی شکل میں خوشیوں کا پیغام لاتی تھی۔ یہ ان شہید والدین کے بچوں‌کی پہلی عید ہے جب وہ ہرسال کی طرح‌اس بار اپنے اپنے والدین کے ساتھ سیرو تفریح‌کرنے نہیں‌جاپائیں‌گے ۔ یہ امریکی ڈرون حملوں میں‌ناحق مرنیوالے ہزاروں‌شہدا کے لواحقین کی پہلی عید ہے۔میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ کا قلم بھی تڑپ اٹھا فرمایا عیداں‌تے شبراتاں‌آئیاں‌، لوکی سارے گھراں‌نوں‌آئے ، اوہ نئی آئے محمد بخشا ، جیہڑے آپ ہتھیں‌دفنائے۔ محترم قارئین ! آج ہمیں‌خراج عیقدت پیش کرنا ہے ان والدین ، بہنوں‌،بھائیوں ، بچوں اور بزرگوں کو کہ جن کےراج دلارے آزادی کی جنگ میں‌شہید ہوئے اور ساتھ ہی ان ہم وطنوں کو کہ جن کےپیاروں نے اس عرض‌وطن کے دفاع میں‌ جام شہادت نوش کیا۔اس صبر آزما گھڑی میں پوری پاکستانی قوم شہدا کے لواحقین کے ساتھ ا ن کی ہر مشکل میں شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا عزم کرتی ہے۔ ہم ان کو یقین دلاتے ہیں‌کے ان کے بچوں‌، بھائیوں‌، اور بزرگوں‌کی قربانیاں‌رائیگاں نہیں‌جائیں‌گی ۔ انشااللہ آنیوالے کل کا سورج ایک بہتر مستقبل کی نوید لیے طلوع ہو گا۔ قارئین‌!عید کے اس پرمسرت موقع پہ شہدا کے لواحقین کی ہر طرح‌سے مالی ، اخلاقی مدد کو اپنا فرض‌عین جانیے ۔ یتیموں‌کے سر پہ دست شفقت رکھیے اور اپنی دعائوں‌میں شہدا اور ان کے لواحقین کو ضرور یاد رکھیے جنہوں‌نےہمای خاطر اپنی جانوں‌کا نذرانہ پیش کیا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

616
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...