اکیسویں صدی میں بھی کچھ قومیں غلام ہیں غیر ان کے ملک، ان کی زمین، ان کی قسمت کے مالک بنے بیٹھے ہیں کشمیرانہی بدقسمت خطوں میں سے ہے جہاں کے لوگ سالہاسال سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اپنی جانیں دے رہے ہیں لیکن ہو یہ رہا ہے کہ اُن کے آقا تو بدل رہے ہیں آزادی کی منزل ابھی نہیں آئی۔ گلاب سنگھ سے انگریز،انگریز سے ڈوگرہ ،ڈوگرہ سے بھارت کی متعصب ہندو حکومت کی غلامی، جو بظاہر خود کو سیکولر قرار دیتی ہے لیکن دراصل وہ کسی غیر ہندو کوبھارت کی زمین پر رہنے کا حق بھی نہیں دیتی اور اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتاکہ حکومت کس جماعت کی ہے، کانگریس ہو بی جے پی یا کوئی اور اس کا صرف ایک منشور ہوتا ہے اور وہ ہے مسلمانوں کے خلاف کام کرنا اور بھارت کی زمین اس پر تنگ کرنا اور کشمیر کے مسلمان اس کے مظالم کا سب سے زیادہ شکار رہتے ہیں کیونکہ وہ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ،وہ آزادی جو ہر انسان کی طرح اس کا بنیادی حق ہے اور دنیا کا ہر قانون انسان کے اس حق کو تسلیم کرتا ہے اور ہر ملک اپنے آئین میں اسے لکھتا ہے ۔بھارت کے آئین میں بھی آزادی کے حق میں بات کی گئی ہو گی۔ وہ خود کو پوری دنیا کے سامنے سیکولر کہہ کرمتعارف کراتا ہے اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ بھی کہتا ہے لیکن اس کی یہ جمہوریت پسندی کشمیر تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ دیتی ہے۔وہ ایک ہی مذہب کی پیروی کرنے والے پاکستان کے مختلف صوبو ں کو تو علٰحدگی پسندی پر اُکساتا ہے اور بلوچستان میں علاقائی تعصب کے نام پر شرپسندوں کو مالی بلکہ عسکری معاونت بھی دیتا ہے لیکن وہ کشمیر جس کی ثقافت اور طور طریقے تو ایک طرف ، سب سے بڑھ کر اس کا مذہب بھارت کی اکثریت کے مذہب سے مختلف ہے اسے وہ آزادی کا حق نہیں دیتا ہے ۔بھارت کی دوسری ریاستوں میں بھی مسلمان بستے ہیں اور بہت بڑی تعداد میں بستے ہیں لیکن وہ بکھرے ہوئے اور چاورں طرف سے ہندو آبادی میں گھرے ہوئے ہیں لیکن کشمیر کے ساتھ معاملہ مختلف ہے یہ پاکستان سے جڑا ہوا خالصتا مسلم اکثریتی خطہ ہے جو اگر چہ ہندو ،سکھوں اور انگریزوں کی غلامی میں جکڑا رہا ہے ، ان کی نسلیں تو بدل جاتی ہیں پرانی سے نئی ہو جاتی ہیں لیکن ان کا آزادی حاصل کرنے کا جذبہ ماند نہیں پڑتا اور اسی ذوق وشوق سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں ۔پچھلے پچیس تیس سال میں تقریباََ ایک لاکھ کشمیری اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں ،عورتیں بیوہ ، بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ کشمیری ہر سال اپنے کئی دن منا تے ہیں اور اس جذبے کو زندہ کرتے ہیں جو ان کے آباو اجداد میں تھا۔ 
تیرہ جولائی 1931کو عبد القدیر نامی نوجوان جس نے ڈوگر راج کے خلاف جدوجہد کی تھی پر چلنے والے مقدمے کے دوران جب ایک نوجوان نے ظہر کی اذان دینی شروع کی تو اُسے گولی مار دی گئی اس اذان کو مکمل کرنے کے لئے نوجوان کوشش کرتے رہے ہر ایک گولی کھا کر شہید ہوتا رہا لیکن اذان دیتا رہا اور جب اذان مکمل ہوئی تو اکیس نوجوان جام شہادت نوش کر چکے تھے لیکن آفرین ہے کہ کوئی پیچھے نہ ہٹا ۔کشمیری ٓج بھی اس دن کو یوم شہدا کے طور پر مناتے ہیں اور شہادت سے پیچھے نہیں ہٹتے ۔ہندوستان کی تقسیم کا اعلان ہوا تو اُنیس جولائی کو پھر یہ کشمیری ڈٹ گئے اور پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا اور ٓج تک اس عہد پر قائم ہیں وہ ہر سال اس عہد کی تجدید کرتے ہیں اور بھارت سرکار ان کی ثابت قدمی کے آگے بے بس ہوجاتی ہے۔ پچھلے دو چار ماہ میں کئی بار کشمیریوں نے اپنے جلسے جلوسوں میں پاکستان کا پرچم لہرا کر اپنے اس عزم کا ثبوت دیا آسیہ اندرابی کے جلسے میں پاکستانی پرچم لہرانے کے بعد سے یہ عمل شبیر شاہ ، سید علی گیلانی ،مسرت عالم اور کئی دوسرے رہنماوں کے جلسوں میں دہرایا جاچکاہے۔ کشمیری 1947 کی طرح اب بھی پر عزم ہیں کہ وہ پاکستان کا حصہ ہیں اور اس میں شامل ہوکر رہیں گے۔ اقوام متحدہ اپنی قرار دادوں پراگر عمل نہ بھی کراسکے تو کشمیری ہمت ہارنے والے نہیں لیکن اس وقت ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ کشمیریوں کو ہر فورم پر سپورٹ کیا جائے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ بات چیت اور تجارت ضرور کرے دوستی کی کو شش بھی کرے لیکن اس سب کچھ سے یہ پہلے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی بات کرے اور اپنے موقف پر ثابت قدم رہے۔ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں ہماری شہ رگ ہے ہماری رگوں میں دریاوں کی صورت دوڑنے والا خون یہی سے ہوکر آتا ہے۔ بر صغیر کے نقشے پر نظر ڈالیں تو کشمیر پاکستان کا قدرتی حصہ ہے اور اپنے جسم کے حصے کی حفاظت ہمارا فرض ہے، اسی لئے ہمیں ہر محاذ پر اپنی یہ جنگ لڑنی ہوگی اور کشمیر یوں کی اخلاقی مدد جاری ر کھنی ہوگی ہمیں سفارتی محاز پر بھی سرگرمی دکھانی ہوگی اور کشمیر یوں کو یہ احساس دنیا ہوگا کہ پاکستان انکے ساتھ ہے اور خود کو ان کے بغیر نامکمل سمجھتا ہے ۔ کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی زیادیتوں کا احساس بھی دنیا کو دلانا ہوگا اور کشمیرکی جدوجہد آزادی کو کسی منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا ۔آزادی کشمیریوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی دوسری قوم کا لہٰذا بھارت اس پر اپنا قبضہ ختم کرے اور کشمیریوں کی خواہش کے مطابق انہیں پاکستان کے ساتھ شامل کردیا جائے جس کے لئے وہ 1947سے مصروف جدوجہد ہیں اپنی جانیں دے رہے ہیں لیکن اپنے حق سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ۔ 

667
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...