ماہ رمضان اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ جاری و ساری ہے ہر رمضان کی طرح اب کی بار بھی حکومت کی طرف سے کئی وعدے کیے گئے جو وفا نہ ہو سکے کہیں رمضان سستا بازار ،کہیں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا وعدہ کہیں غریب لوگوں کے سستا دستر خوان یہ سب کیوں ناکام ہوتا ہے اس کی بڑی وجہ وہ دکھلاوا ہے جو ہماری ہر حکومت عوام کو صرف دیکھانا چاہتی ہے اس کے اثرات کیا ہیں اور اسکا فائدہ اور نقصان کیا ہے اس بارے میں نہ کھبی کسی نے سوچا ہے اور نہ کھبی کسی نے اس طرف توجہ دی ہے حالیہ رمضان میں زورہ داروں کو بہت سی مشکلات ہیں جن میں مہنگائی ،اور لوڈشیڈنگ سب سے بڑی مصیبتیں ہیں جو عوام کو جھیلنے پڑ رہی ہیں خاص طور پر گرمی اور لوڈشیڈنگ گرمی کی اس شدت سے روزہ دار نڈھال ہو رہے ہیں اور حکومتی نا اہلی کی وجہ سے باقی کثر بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے نکال دی ہے صرف کراچی میں اتنی اموات ہوئی کہ ہسپتال اور مردہ خانے لاشوں سے بھر گئے ایسے میں ہمارے عیاش حکمران خود تو دبئی اور یورپ کے سیر سپاٹے میں مصروف ہیں اور جو لوگ یہاں انتظامی طور پر بٹھائے گئے ہیں وہ بھی ان حالات سے نابلد ہیں حکومت کو چاہے تھا کہ وہ ایسے لوگوں کو یہ ذمہ داری دیتی جو کم از کم عوام کو ان کی بنیادی ضرورت بجلی دے سکیں جن کو بجلی کی فراہمی کی دی گئی ہے وہ یہ ذمہ داری اپنے سر لے ہی نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے کے اور دوسرا تیسرے کے سر ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہے اگر اتنی اموات پاکستان کے علاوہ کسی بھی دوسرے غریب ملک میں بھی ہوئی ہوتی تو اب تک وزیر بجلی اپنے ضمیر کی آواز پر استعفیٰ دے چکا ہوتا مگر ہم مردہ ضمیر والی قوم بن چکے ہیں جن کو یہ سب خون خرابہ نظر نہیں آتا ہمیں صرف اپنے اقتدار کی طلب ہے اور اس کے لئے ہم کسی بھی اصول اور قاعدے کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہمارے بجلی کے وزیر موصوف کے وہ وعدے کہاں گئے کہ ہم دنوں میں نہ سہی مہینوں میں لوڈ شیڈنگ ختم کریں گے کہاں گئے خادم اعلی کے وہ وعدے کہ اگر میں نے بجلی کی لوڈ شیدنگ اتنے دنوں میں ختم نہ کی تو میرا نام بدل دیا جائے یہ سب وہ سیاسی خوشنماء نعرے تھے جو ہر دور میں غریب کا منہ چڑانے کے لئے اور غریب کا ووٹ چرانے کے لئے استعمال ہوتے نظر آتے ہیں سوال یہ ہے کہ کراچی کی سینکڑوں اموات کا ذمہ دار کون ہے کیا اس کی ذمہ دار عوام ہیں جنھوں نے اپنے قیمتی ووٹوں سے ناہل حکمرانوں کو منتخب کر کے اپنے لئے موت خریدی یا ہمارے حکمران ہیں جن کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آ ج حالات یہ ہیں کہ ہر روز کئی لوگ جان کی بازی ہار رہے ہیں 
سال کے باقی مہینوں میں چلیں عوام بیچارے کسی نہ کسی طرح گزارا کر ہی لیتے ہیں مگر اس ماہ مقدس میں روزہ دار کسی کرب سے گزر رہے ہیں اس کا ادراک حکومت کو ہے اور نہ ہی اس کے لائق فائق وزیروں کو میرے خیال سے تو اس بڑی نا اہلی پر سپریم کورٹ کو سو موٹو ایکشن لینا چاہیے تھا لیکن شاید افتخار چوہدری کے بعد اب اس ملک میں انصاف ایک بار پھر صرف امیروں اور حکمرانوں کے لئے مخصوص ہو گیا ہے :قدر ت اللہ شہاب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جب بھی کسی فرد کو اقتدار ملتا ہے تو خوشامدی لوگ اور مطلب پرست لوگ اس کے ارد گرد ایسے جمع ہو جاتے جیسے گڑ پر مکھیاں بن بلائی مہمان بن کر آتی ہیں ایسے میں حکومت کرنے والے کی آنکھوں پر اقتدار کی ایسی دبیز طے جمی ہوتی ہے کہ وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں دیکھ پاتے اور انجام وہی ہوتا ہے جو ماضی میں ایسے حکمرانوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے جو عوامی خدمت کے بجائے اپنے اقتدار کی فکر میں رہتے ہیں: آج بھی اقتدار کے ایوانوں میں صورت حال اس سے ملتی جلتی ہے جہاں کسی کی ذاتی پسند نا پسند پر فیصلے کیے اور پالیسیاں بنائی اور توڑی جارہی ہیں خوشامدی ٹولہ اپنی سرگرمیاں بڑی تندہی سے جاری رکھے ہوئے ہے بڑے بڑے صنعتکار اپنی صنعتوں کی وسعتوں کے لئے کسی کا خیال نہیں کرتے کیونکہ ان کے لئے ان کا کاروبار سب سے اہم ہے اور اس کاروبار کو چار چاند تب ہی لگائے جا سکتے ہیں جب اقتدار کے ایوان آپ کی مٹھی میں ہوں 
دوسری طرف مسلمان تاجر سال بھر کی کثر اس ماہ مقدس میں پوری کرنے کی کوشش میں ہیں سوچنا یہ ہے کہ بحثیت مسلمان ہم کس طرف جا رہے ہیں ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا گیا ہے ۔یہاں بھی حکومتی نااہلی ہے جو ان ذخیرہ اندوزوں پر ہاتھ ڈالنے سے گھبراتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کالی بھیڑوں میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو حکومت کے حامی(خوشامدی ) ہیں ایسے میں وہ ان پر ہاتھ ڈال کر اپنے ووٹ اور سپورٹ کو کیوں خراب کرئے گی ضلعی انتظامیہ سے لیکر چھوٹے قصبوں تک میں یہ گندا کھیل کھلے عام کھیلا جا رہا ہے جس سے ماہ رمضان میں مہنگائی کا ایک ایسا خود ساختہ طوفان آ گیا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومت رمضان سے قبل ان تمام حقائق پر کام کرتی اور پالیسی بناتی کہ کیسے اس ماہ مقدس میں عوام کو ہر سطح پر ریلیف دیا جا سکتا ہے لیکن یہاں شاید اس کا رواج نہیں ہے یہاں پالیساں تب بنتی ہیں جب وقت گزر چکا ہوتا ہے تب ان کے بننے یا نہ بننے کا کوئی فائدہ عوام کو نہیں ہوتامسائل تب ختم ہو سکتے ہیں جب ہر بندہ اپنی زمہ داری کو ذمہ داری سمجھے دوسری صورت میں یہ کھیل یوں ہی چلتا رہے گا ۔ 

681
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...