11 ستمبر 2001ء کو امریکہ کے شہر نیویارک میں دہشت گردی کا ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے ساری دنیا کی سیاست، سماج اور معیشت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تبدیل کر کے رکھ دیا۔ قارئین خوب سمجھ گئے ہوں گے کہ میرا اشارہ 9/11 کے سانحہ کی طرف ہے جس کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کیا۔ دنیا بھر کے امن پسند اور مہذب ممالک نے اس مقصد کے لئے اپنی اپنی خدمات پیش کیں اور یوں طے پایا کہ طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنے، مذہب کے نام پر انتہا پسندی کے رحجانات کو فروغ دینے اور اپنے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے بے گناہ افراد کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس سلسلہ میں پاکستان نے بھی عالمی برادری کا ساتھ دیا اور یہ حقیقت اب کسی ثبوت یا دلیل کی محتاج نہیں رہی کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کا کردار اور خدمات دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ اور نتیجہ خیز ہیں۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ اب تک وطن عزیز کو مالی اعتبار سے ایک سو ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اورجانی اعتبار سے اس کے 50 ہزار سے زائد سول و فوجی افراد کام آ چکے ہیں۔ 
پاکستان کے عوام نے دہشت گردوں کو جس جرأت مندی اور دلیری کے ساتھ للکارا اور ان کے مقابلہ میں ناقابل تسخیر دیوار بن کر کھڑے ہوئے وہ معاصر تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ دوسری طرف دہشت گرد عناصر نے بھی پاکستان کی ہر حکومت اور عوام کو اس حوالہ سے اپنے ظلم و ستم اور بربریت کا نشانہ بنایا جس کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ گزشتہ 14 برسوں کے دوران یوں تو دہشت گردی کے کسی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن کو ہر اعتبار سے ناقابل فراموش قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ایسے و اقعات میں مناواں پولیس ٹریننگ اکیڈمی پر کیا گیا حملہ نہایت نمایاں ہے۔ یہ حملہ آج سے 6 سال قبل 30 مارچ کو کیا گیا تھا۔ قارئین کی معلومات کے لئے تحریر کیا جاتا ہے کہ مناواں ٹریننگ اکیڈمی لاہور کے نواحی علاقہ میں واقع ہے جہاں سے بھارت کی سرحد بڑی نزدیک ہے۔ اس اکیڈمی میں پولیس کے جوانوں کو پیشہ وارانہ تربیت دی جاتی ہے اور یہ بنیادی طور پر ایک اکادمی کا درجہ رکھتی ہے چنانچہ اس باعث ہی یہاں پر کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں رکھا جاتا۔ 
30 مارچ کو صبح ساڑھے 7 بجے کے وقت تقریباً 750 زیر تربیت جوان اکیڈمی کے پریڈ گراؤنڈ میں معمول کے مطابق جمع تھے۔ اچانک 12 مسلح افراد نے جن میں سے بعض پولیس یونیفارم میں ملبوس تھے، عمارت اور وہاں موجود افراد پر حملہ کر دیا۔ حملہ آور خودکار اسلحہ، گرنیڈ اور راکٹ سے مسلح تھے۔ حملہ آور دہشت گردانتہائی تربیت یافتہ تھے اور ان کو اپنے ہدف کے بارے میں مطلوبہ ضروری معلومات حاصل تھیں جس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کارروائی کا وقت ایسا منتخب کیا جب تمام جوان ایک ہی جگہ پر موجود تھے ۔ حملہ آور افراد نے عمارت میں مختلف اطراف میں نہایت تیزی کے ساتھ اپنی اپنی پوزیشن سنبھالی اور ان میں سے ایک عمارت کی چھت کے اوپر مورچہ زن ہوگیا۔ پریڈ گراؤنڈ میں موجود جوانوں اور ان کو تربیت دینے والے انسٹریکٹرز سمیت جملہ افراد کو حملہ آوروں نے اپنی تحویل میں لے کر گویا اغواء کر لیا اور عمارت کا معاصرہ کرلیا۔ ظاہر ہے کہ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک اور ناقابل قبول رہی چنانچہ حکومت کے متعلقہ ذمہ دار اداروں نے فوری طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ 
دہشت گردوں کی کارروائی کے صرف 90 منٹ کے بعد ہی پاکستان رینجرز اور پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کے جوان میدان عمل میں اتر آئے اور انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف ضروری کارروائی کرتے ہوئے سہ پہر ساڑھے 3 بجے عمارت اور اس میں موجود افراد کو آزاد کرالیا۔ اس کارروائی میں 8 پولیس اہلکار، 2 شہری، 8 گن مین ہلاک ہوئے جبکہ 95 افراد زخمی ہوگئے۔3 حملہ آوروں نے گرفتاری کے خوف سے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔ سکول کے قریب میدان سے ایک مشتبہ شخص کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ پولیس کی وردی میں ملبوس فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ایک اطلاع کے مطابق وہ فرار ہونے سے پہلے سکیورٹی فورسز کے ہیلی کاپٹر کو تباہ کرنا چاہتا تھا کیونکہ گرفتاری کے وقت اس کے قبضہ سے 2 گرنیڈ برآمد ہوئے۔ بعدازاں معلوم ہوا کہ اس کا نام ہجرت اللہ تھا اور وہ افغانستان کے علاقہ پکتیا کا رہائشی تھا۔ایک اور گن مین حضرت گل کو بھی گرفتار کیا گیا جس کا تعلق میران شاہ (بلوچستان) سے رہا۔ ہجرت اللہ سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں بہاولپور سے قاری اشتیاق نامی ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جس کے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ وہ مبینہ طور پر پنجاب طالبان کا کمانڈر تھا۔ ایسی ہی معلومات کے نتیجہ میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے دیگر 7 مبینہ دہشت گردگرفتار کیے گئے۔ 
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ واقعہ کے فوراً بعد تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے اور القاعدہ کے پرجوش حامی بیت اللہ محسود نے بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی، رائٹر کو وزیرستان کے قبائلی علاقہ سے فون کیا اور یہ اعتراف کیا کہ وہ اور اس کی تنظیم مناواں ٹریننگ سکول پر حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ موصوف نے یہ دھمکی بھی دی کہ ان کا آئندہ نشانہ واشنگٹن ہوگا۔ اسی شام ’’فدایان اسلام‘‘ نامی ایک گمنام تنظیم نے بھی اس واقعہ کی ذمہ داری کو قبول کرنے کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ اگر امریکہ نے ڈرون حملے بند نہ کیے اور افغان سرحدکے قریب سے پاک فوج کے دستہ نہ ہٹائے گئے تو وہ (فدایان اسلام) مناواں ٹریننگ سکول پر حملہ اور دہشت گردی ایسی مزید کارروائیاں کریں گے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ مناواں ٹریننگ سکول پر دہشت گردوں کے حملہ کا واقعہ ا س ا عتبار سے اب ایک حوالہ کی شکل اختیار کر گیا کہ اس واقعہ میں وطن عزیز کی سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دکھایاکہ وہ دہشت گردوں کے سامنے سرنگوں ہونے کے لئے قطعی طورپر تیار نہیں۔ یہ بات بھی ناقابل فراموش رہے گی کہ جب سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تو علاقہ میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا تاکہ عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے لیکن یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ علاقہ کے عوام نے ہر طرح کے خطرات کی پرواہ کیے بغیر سکیورٹی فورسزکے جوانوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ شہری اپنے مکانوں کی چھتوں پر چڑھ کر ’’اللہ اکبر‘‘ اور پاکستان زندہ باد کے پرجوش نعرے بلند کرتے رہے۔ ہجرت اللہ کی گرفتاری بھی ایک ذمہ داری شہری کی نشاندہی پر ہی عمل میں آئی تھی۔ عوام نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں مصروف سکیورٹی فورسز کے جوانوں کو اخلاقی سطح پر بھرپور حمایت اور حوصلہ افزائی فراہم کی جس سے مذکورہ جوانوں کو ایک نیا عزم اور ہمت میسر رہی۔
اگرچہ مناواں ٹریننگ سکول پر دہشت گردوں کے حملہ کے واقعہ کو آج 6 برس کا عرصہ بیت چکا لیکن اس کارروائی میں ہمارے جوانوں نے جرأت، شجاعت اور ایثار کی جو مثال قائم کی وہ اب ایک قابل تقلید روایت بن چکی ہے۔ 30 مارچ کا دن اہل وطن کے اس جذبہ اور عہد کا دن ہے کہ ہم پاکستان سے دہشت گردوں کا صفایا کرکے ہی دم لیں گے۔ دہشت گردوں اور ان کے حامیوں پر مملکت خداداد کی سر زمین تنگ کر دی جائے گی۔ 18 کروڑ عوام کسی قیمت پر اور کسی طو ر بھی دہشت گردوں کو یہ اجازت اور موقع نہیں دیں گے کہ وہ محض بندوق اور طاقت کے بل بوتے پر اپنی مرضی کا نظام ان پر مسلط کر دیں۔ پاک فوج نے گزشتہ سال جون میں آپریشن ضرب عضب شروع کرکے دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ پاکستان دہشت گردوں کے لئے جنت نہیں بلکہ جہنم بن چکا ہے۔ اسی طرح کراچی میں رینجرز نے حالیہ دنوں میں جو آپریشن کیے ہیں وہ بھی اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی حکومت اور عوام نے دہشت گردوں سے نجات کے لئے فیصلہ کن معرکہ میں فتح حاصل کرنے کا پختہ عزم کر لیا ہے اور وہ اپنے اس عزم کی تکمیل کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

773
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...