آج 23 مارچ ہے ۔ مارچ کا مہینہ ہماری قومی زندگی میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ جن تین اہم ترین واقعات نے مارچ کو ہماری تاریخ میں یادگار اور سنگ میل کی حیثیت دی وہ قرارداد لاہور جسے بعدازاں قرارداد پاکستان کہا گیا، قراراداد مقاصد جو 12 مارچ 1949کو منظور ہوئی اور ہمارے 1956 اور 1973 کے دساتیرکا حصہ بنی اور تیسرا اہم ترین واقعہ یا کارنامہ 1956 کے آئین کی منظوری تھی جسے 23 مارچ 1956سے نافذ کیا گیا۔آج کے دن ماضی کے واقعات کو یاد کرنا اس حوالے سے اہم ہے کہ اہل وطن اپنی تاریخ سے باخبر اور آگاہ رہیں۔ 
22 مارچ کی رات 8 بجے مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں قائداعظم نے اراکین کو بتایا کہ قرارداد کا مسودہ ٹائپ کیا جا رہا ہے۔ اس دوران بابائے قوم اپنے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کرتے رہے جس کا موضوع دوقومی نظریہ رہا۔ جب ٹائپ شدہ مسودہ لایا گیا تو نواب لیاقت علی خان نے اس کو پڑھ کر سنایا اور پھر مولانا ظفر علی خان نے اس کا اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ مسودہ دیکھ کر ورکنگ کمیٹی کے ارکان نے طے کیا کہ اس پر غور و خوض کے لئے وقت چاہئے لہذا کمیٹی کا اجلاس دوسرے دن 11 بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ اگلے دن قرارداد کے اس مسودہ پر تقریباً 7 گھنٹے تک بحث مباحثہ ہوتا رہا جس کے نتیجہ میں کئی تبدیلیاں کی گئی اور آخر کار ایک مسودہ منظور کر لیا گیا۔ان تجاویز اور ترامیم کا ریکارڈ کراچی یونیورسٹی کے فریڈم موومنٹ آرکائیوز میں محفوظ ہے۔ تاریخی ریکارڈ سے یہ بات اجاگر ہوتی ہے کہ پیر علی محمد راشدی کے دعویٰ کے مطابق قرارداد پاکستان کا ابتدائی مسودہ قائداعظم نے تیار کرکے مجھے  یعنی پیر علی محمد راشدی کو د یا تھا تاکہ یہ مسودہ سر سکندر حیات کو پہنچا دیا جائے۔ یہ مسودہ مولانا غلام رسول، شیخ عالم اور میر مقبول کی موجودگی میں موصوف تک پہنچا دیا گیا لیکن بعدازاں انہوں نے یہ دعویٰ کر دیا کہ مذکورہ مسودہ انہوں نے تیار کیا تھا۔ 
23 مارچ 1940کو منٹو پارک میں پروگرام کے مطابق جلسہ منعقد ہواجس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ اجلاس کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس میں پہلی مرتبہ خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ اجلاس میں پنجاب، بنگال اور آسام کے وزرائے اعلیٰ، مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے مسلم ارکان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ ہندوستان بھر سے آئے ہوئے مندوبین کے لیے قریباً دو ہزار خیمے نصب کیے گئے تھے۔ اجلاس کی تیاری کے لیے ایک مجلس استقبالیہ نواب سر شاہ نواز خان ممدوٹ کی صدارت میں قائم کی گئی اور میاں بشیر احمد کو سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ اجلاس کی تیاری 12 دن میں مکمل ہوئی۔ پنڈال کے چاروں طرف آویزاں جھنڈیوں میں مسلم لیگ کا سبز پرچم نمایاں تھا۔ اسٹیج پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا یہ شعر تحریر تھا 
                            جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں 
                                            ادھر ڈوبے ادھر نکلے، ادھر ڈوبے ادھر نکلے 
قائداعظم محمد علی جناح 2 بج کر 25 منٹ پر پنڈال میں داخل ہوئے تو سیاہ اچکن، سفید پاجامہ زیب تن کر رکھا تھا۔ قائداعظم کی آمد پر ان کا استقبال بینڈ باجوں سے کیا گیا اور انہیں بڑی شان و شوکت کے ساتھ اسٹیج پر لے جایا گیا۔ قائداعظم کو دونوں اطراف سے خاکی وردی اور نیلی ٹوپیوں میں ملبوس ’’بمبئی پرووینشل مسلم گارڈز‘‘ نے اپنے حفاظتی حصار میں لے رکھا تھا۔ قائداعظم کے اسٹیج پر نمودار ہوتے ہی پنڈال ’’قائداعظم زندہ باد‘‘ کے پرجوش نعروں سے گونج اٹھا۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت خوانی سے ہوا جس کے بعد چند شعراء نے نظمیں پڑھیں۔ میاں بشیر احمد بار ایٹ لاء کی نظم ’’ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح‘‘ انور غازی آبادی نے پڑھی جس کو شرکاء نے سب سے زیادہ پسند کیا۔اس تاریخی جلسے سے جن شخصیات نے خطاب کیا۔ ان میں سید حسین شہید سہروردی، چوہدری خلیق الزماں، غلام حسین ہدایت، سید محمد سعداللہ، مولانا سید عبدالرؤف، نواب افتخار حسین خان ممدوٹ، ابراہیم اسماعیل چندریگر، خان عبدالقیوم خان، محمد اسماعیل، مولوی لطیف الرحمن، بیگم سید اعزاز رسول، سردار شوکت حیات خان، ملک فیروز خان نون، بیگم شہنواز، راجہ غضنفر علی خان اور مولانا ابوالہشام شامل تھے۔ 
ان شخصیات کی تقاریر کے بعد قائداعظم نے اجلاس میں اپنی لکھی ہوئی تقریر کے بجائے فی البدیہہ تقریر کی۔ قائداعظم نے اپنی تقریر کا آغاز اردو زبان میں کیا تاہم انہوں نے باقی تقریر انگریزی زبان میں کی۔ تقریر کا کل دورانیہ قریباً 2 گھنٹے تھااس اجلاس میں4 قراردادیں پیش کی گئیں۔ قراردادپاکستان پیش کرنے کا اعزاز شیر بنگال مولوی فضل الحق کو حاصل ہواجس کے بعد چوہدری خلیق الزماں اور مولانا ظفر علی خان، سردار اورنگزیب اور عبداللہ ہارون نے اس کی حمایت میں تقاریر کی۔ اس مرحلہ پر نماز کا وقت ہوگیا تو اجلاس 24 مارچ تک ملتوی کر دیا گیا۔ اس روز یعنی 24 مارچ کو بھی قرارداد کی حمایت میں بہت سی تقاریر ہوئیں۔ شرکاء نے نہایت جوش و خروش اور عزم کے ساتھ اس قرارداد کو منظور کر لیا۔ 
بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ جب مسلم لیگ نے لاہور میں مارچ کے مہینہ میں جلسہ منعقد کرکے اس میں ایک آزاد مملکت کے مطالبہ پر مبنی قرارداد منظور کرنے کا فیصلہ کیا تو برطانوی حکومت نے قائداعظم پر دباؤ ڈالا کہ وہ یہ جلسہ ملتوی کر دیں۔ اس مقصد کے لئے سر ظفر اللہ خان اور سر سکندر حیات کی خدمات حاصل کی گئیں لیکن قائداعظم محمد علی جناح اپنے موقف اور ارادے پر پہاڑ کی طرح ڈٹے رہے۔ تاریخی حقائق کے مطابق ایک آزاد مسلمان مملکت کے قیام کا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا ۔ اکتوبر 1938میں سندھ مسلم لیگ کی کانفرنس میں جس کی صدارت قائداعظم نے کی، ہندوستان کو دو وفاقی ریاستوں میں تقسیم کرنے کی قرارداد پیش کی گئی۔ مارچ 1939 میں نواب لیاقت علی خان نے میرٹھ میں مسلم لیگ کانفرنس کے موقع پر دوٹوک الفاظ میں کہا ’’اگر ہندو اور مسلمان امن اور آشتی کے ساتھ ایک جگہ نہیں رہ سکتے تو وہ ملک کو باہم تقسیم کر لیں، اس طرح دونوں کو اپنے اپنے طریقے پر اور کلچر کو فروغ دینے کا موقع ملے گا۔ مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے 22 فروری 1941کو یہ فیصلہ کیا تھا کہ لاہور میں منظور کی گئی قرارداد کو جسے قرارداد پاکستان کے نام سے پکارا جاتا ہے ہر سال 23 مارچ کو منایا جائے گا۔ اسی سال جب مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 12-15 اپریل 1941مدراس میں منعقد ہوا تو قرارداد لاہور کو ایک ریزولیشن کے ذریعے مسلم لیگ کے مقاصد کا حصہ بنا لیا گیا۔14 اپریل کو اپنے صدارتی خطبہ میں قائداعظم نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان حاصل کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے اور یہ کہ قرارداد پاکستان ایک سنگ میل ہے۔ پاکستان ہمارے لئے زندگی اورموت کا مسئلہ ہے۔ اسے برطانوی حکومت کو تسلیم کر لینا چاہئے۔ ہم کسی قیمت پر بھی فلسطین کی تاریخ کو دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
پاکستان کے قیام کے حوالے سے قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقاء کار کی بصیرت اور دوراندیشی پر بعد کے حالات نے مہر تصدیق ثبت کر دی۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں شاہی مسجد دہلی کے امام و خطیب سید احمد بخاری نے کہا کہ موجودہ بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار جاننے کے لیے یہ حقیقت کافی ہے کہ ہندو اکثریتی صوبوں میں مسلمان بچوں کو بندے ماترم جیسا ترانہ پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے اوران سے زبردستی مہاتما گاندھی کی تصویر کی پوجا کروائی جاتی ہے۔ پاکستان کے قیام کی حمایت کرنے کی جرم کی سزا اب تک بھارتی مسلمانوں کو دی جا رہی ہے حتیٰ کہ ان مسلمانوں کو وہاں پر اقلیت کی حیثیت سے بھی بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔
23 مارچ کے تاریخی دن ہمیں قوم کی حیثیت سے اپنا احتساب بھی کرنا چاہئے۔جب بنیادی طور پر قوم متحد ہوگی تو کسی دہشت گرد کو پنپنے کا موقع نہیں ملے گا۔ اس سلسلے میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا کردار سب سے اہم ہے۔ سیاست کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا۔ ایک ہی نعرہ بلند کرنا ہوگا اور ہر اچھی رائے کا احترام کرنا ہوگا جب تک سیاسی جماعتیں کسی ایک لائحہ عمل پر متحد و متفق نہیں ہوں گی، اس وقت تک امن و امان کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں عسکری قیادت کا کردار کلیدی ا ہمیت کا حامل ہے۔ عالمی سطح پر بھی پاک فوج کی جرأت و شجاعت اور دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی مؤثر کامیابی اور کارروائی کو بھرپور طور پر سراہا گیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب اور خیبرون اور پھر متاثرین کی پرامن آبادکاری کوبھی تحسین کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی اور امن و امان کی صورت حال پر تبادلہ خیال، جبکہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف قومی ایکشن پلان کے تحت جاری آپریشن اور اس کے اثرات پر بھی غوروخوض کیا گیا۔ عسکری و سول قیادت کے مابین ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی گنجائش نہیں ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ 23 مارچ کا دن اہل وطن کے لئے تجدید عہد کا دن ہے ، ایک ایسا عہد جو نظریاتی اعتبار سے ہمارے خون میں گردش کرتا رہتا ہے۔ 

896
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...