مسلمان برصغیر میں دو سو سال سے غلامی کی زندگی گزار رہے تھے وقتاََ فوقتاََ مسلمان رہنما اٹھتے رہے اور قوم کو جگاتے رہے آزادی کی چنگاری بجھی نہیں تھی لیکن شعلہ بھی نہیں بن رہی تھی آزادی کی خواہش بھی موجود تھی اور اسے حاصل کرنے کی لگن بھی لیکن نہ تو منزل کا تعین کیا گیا اور نہ ہی راستہ واضح تھا ۔ ایسے میں مسلمان رہنما 22 مارچ 1940 کو منٹو پارک میں جمع ہوئے اور قوم کے لیے ایک منزل کا تعین کیا ۔ اجلاس تین دن جاری رہا اور جب چوبیس مارچ کو یہ اجلاس ختم ہوا تو مسلمان اپنے راستے اور منزل کا تعین کر چکے تھے۔ قائد اعظم نے اپنے صدارتی خطاب میں جس طرح مسلمانان ہند کے لیے آزادی کے حق کو بیان کیااُس نے منزل اور راستے دونوں کو واضح کر دیا۔قائد اعظم نے انگریز حکومت اورمکار ہندو ذہنیت دونوں کو باور کرایا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں جو ہندو ستان میں اب تک تواکٹھی رہ رہی ہیں لیکن انگریز اور ہندو کے اب تک کے رویے کو سامنے رکھتے ہوئے اب مسلمان مزید کسی بہتری کی توقع نہیں رکھتے اور نہ ہی انہیں اپنے لیے ایک الگ ریاست کے علاوہ کوئی حل قبول ہے۔قائداعظم نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہندوءں اور مسلمانوں کا مذہب، فلسفہ،معاشرتی رسوم اور ادب سب کچھ مختلف ہے نہ یہ آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں اور نہ مل کر کھاتے ہیں حقیقت میں یہ دو الگ الگ تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں جو نہ صرف ایک دوسرے سے مختلف ہیں بلکہ اکثر اوقات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ان کا نظریہء زندگی ایک دوسرے سے مختلف ہے، ان کے ہیرو مختلف ہیں اور اکثر اوقات ایک قوم کا ہیرو دوسرے کا دشمن ہوتا ہے۔ایسی دو قوموں کو ایک ملک میں اکٹھے کرنا جہاں ایک قوم عددی اکثریت اور دوسری اقلیت میں ہو تباہی کا باعث ہو گا۔قائداعظم نے مزید فرمایا مسلمان قوم کی کسی بھی تعریف کے مطابق ایک قوم ہیں لہٰذا ہماری خواہش ہے کہ مسلمانوں کو ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے دی جائے۔قائد اعظم نے ہندوستان میں دو قومی نظریے کی اتنی واضح انداز میں وضاحت کی کہ اس کے بعد مسلمانوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور اپنی منزل کی طرف سفر شروع کر دیا۔لاہور میں ہونے والے مسلم لیگ کے سالا نہ اجلاس میں ایک الگ ریاست حاصل کرنے کا جو عزم کیا گیا اسے مسلم لیگ نے قرار داد لاہور کا نام دیا لیکن ہندو اخبارات ملاپ،پرتاب، بندے ماترم اور ٹریببون و غیرہ نے اسے قرار داد پاکستان کا نام دیااور یوں مسلمانوں کی منزل مزید واضح کر دی اور آخر کارانہوں نے سات سال کی انتھک جد جہداور قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کر لیا۔ پاکستان کا بن جانا یقیناًشب قدر کا معجزہ تھا ورنہ دشمن نہ صرف کئی تھے بلکہ با اختیار بھی تھے اور مکار بھی لیکن عزم اور حوصلے نے انہیں شکست دی۔ اُن کا خیال تھا کہ یہ ملک خاکم بدہن جلد اپنا وجود کھو دے گا لیکن ایسا نہ ہوا اور پاکستان باوجود دشمنوں کی کوشش کے بفضل تعالیٰ قائم ہے اور رہے گا۔ لیکن آج ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں ملک میں جو بدامنی شدت پسندی اور دہشت گردی پھیلی ہوئی ہے وہ قوم کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنایقیناًبہت مشکل کام ہے لیکن ہمیں اپنی بقاء کی یہ جنگ جیتنی ہو گی اگر اُس وقت پاکستان کا حصول نا گزیر تھا تو آج اس کی بقاء ناگزیر ہے اگر کل اس کو حاصل کرنے کے لیے جنگ لڑنا پڑی تھی تو آج پھر سے اس کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا ۔ہمیں اپنی بقاء کی یہ جنگ ہر محاذ پر لڑنا ہو گی ۔ہمارے ملک کی رگوں میں جو برائیاں سرایت کر گئی ہیں انہیں ختم کرنا ہو گا۔اس وقت ہمارے معاشرے میں رشوت، بدعنوانی، سفارش،کام چوری ، بے حیائی اور بہت سی برائیاں اور کمزوریاں ہیں ہم کسی اور میدان میں سر فہرست ہوں نہ ہوں بدقسمتی سے ہر آنے والی رپورٹ ہماری شرمندگی کا باعث بنتی ہے کبھی ہم سب سے زیادہ راشی ملکوں کی صف میں کھڑے ہوتے ہیں تو کبھی سب سے زیادہ بدعنوان ممالک میں جبکہ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ہم سب سے زیادہ شرح خواندگی والے ممالک میں شامل ہوتے، ہماری یونیورسٹیاں دنیا کے بہترین اداروں میں شامل ہو تی ،ہم خلاء میں قدم رکھتے، ہم خوراک میں خود کفالت حاصل کرتے، ہم صنعتوں میں انقلاب برپا کرتے لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ ہم نے ایسا کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا۔بلکہ ہم نے اپنے دشمنوں کو ہمیشہ موقع فراہم کیا کہ وہ ہماری صفوں میں گھس کر ہم پر وار کریں اور اس میں زیادہ قصور ہمارا اپنا ہے اگر ہم نے خود اپنی صفوں میں اتفاق برقرار رکھا ہوتا تو ایسا کبھی ممکن نہ تھالیکن ہم صو بائیت سے لے کر فرقہ واریت تک ہر چیز میں بٹے ہوئے ہیں جس کا فائدہ ظاہر ہے کہ دشمن اٹھاتا ہے لیکن اگر ہم نے اپنی کمزوریوں اور برائیوں کو خود شکست دے دی اور سب سے پہلے اپنے اندر اتحاد و اتفاق پیدا کیا اور 23 مارچ 1940 کی طرح 23 مارچ 2015 کو بھی ایک اور قرارداد پاکستان پاس کی جو حصول پاکستان سے آگے بڑھ کر تعمیر و تکمیلِ پاکستان کی قرارداد ہو اور قوم اسی جذبے سے چلے تو اس منزل کا حصول بھی نا ممکن نہ رہے ہاں یہ مشکل ضرور ہے لیکن قیامِ پاکستان سے زیادہ مشکل نہیں بس ضرورت عزم کی ہے ایک ایسے عزم کی جس کا مقصد صرف اور صرف منزل ہو اور اس سے کم کسی چیز پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔

957
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...