ابلاغیات کے شعبہ سے تعلق اور دلچسپی رکھنے والوں کے لئے جوزف گوئبیلز 1897 تا 1945 کا نام اجنبی نہیں۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والے اس ذہین ماہر ابلاغ عامہ نے ہٹلر کے وزیر برائے عوامی شعور اور پروپیگنڈہ کی حیثیت سے ایسی اثر انگیز اور نتیجہ خیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا کہ اس کے مخالفین بھی آج تک اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ پروپیگنڈہ کے اس ماہر اور رمز شناس کا یہ بیان اب دنیا میں محاورہ اور استعارہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے کہ جھوٹ بولو اور اتنا جھوٹ بولو کہ اس پر سچ کا گمان گزرے۔ گوئبیلز نے تو یہ بات زبانی اور نصابی سطح پر کی تھی لیکن بھارت کی سیاسی قیادت اور میڈیا نے مشترکہ طور پر اس بیان کو عملی طور پر سچ ثابت کر دکھایا ہے۔ یہ حقیقت اب کوئی راز نہیں رہی کہ نئی دہلی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے باب میں کذب گوئی، مبالغہ آرائی، غلط بیانی اور کہہ مکرنی کے ایسے مظاہرے کیے ہیں جن کو اخلاقی سطح پر نرم سے نرم الفاظ میں ’’دشمنی‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
نئی دہلی کے اس طرز فکر و عمل کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بھارت نے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ مملکت خداداد پاکستان کو ہر طرح کا نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ حالیہ د نوں میں اس کی مثالیں بلوچستان میں سیاسی و عسکری مداخلت، پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی، سرحدوں پر اشتعال انگیز فائرنگ، ا من کی کوششوں کی حوصلہ شکنی، آبی دہشت گردی اور مسئلہ کشمیر پر مذاکرات سے راہ فرار اختیار کرنا ہیں۔ سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ بھارتی حکومت اپنے سفید جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے جو دام فریب پھیلاتی ہے، اس میں بھارتی سفارت کار اور میڈیا یکساں طور پر سرگرم کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض بھارتی صحافیوں پر اس وقت ’’سرکاری ملازم‘‘ ہونے کا گمان گزرتا ہے جب وہ پاکستان کے بارے میں بولتے یا لکھتے ہیں۔
حال ہی میں بھارتی میڈیا نے اسلام آباد کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات جوڑنے کے لئے ایک گمراہ کن مہم دوبارہ شروع کر دی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک اخبار میں شائع ہونے والے اس من گھڑت خبر کو بنیاد بنا کر خوب اچھالا جا رہا ہے کہ 2010 کے موسم گرما میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف اور آئی ایس آئی نے ’’القاعدہ‘‘ کے ساتھ ایک امن سمجھوتہ کرنے کی ’’کوشش‘‘ کی تھی۔ خبر کے مطابق گزشتہ ماہ ایک امریکی سرکاری وکیل کی طرف سے عدالت میں داخل کردہ ایک دستاویز میں ایک واقعہ کا انکشاف کیا گیا ہے۔ القاعدہ کے ہلاک شدہ لیڈر اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں واقع سیف ہاؤس سے برآمد شدہ خطوط سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ پاکستان نے سعید المصری تک رسائی حاصل کی جو القاعدہ کی قیادت میں سنیارٹی کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب القاعدہ نے بھارت کے خلاف ا پنے آپریشن کا سلسلہ وسیع کر دیا تھا۔
بھارتی اور مغربی میڈیا کی طرف سے عام طور پر یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ پاک فوج بلوچستان میں لاپتہ افراد کی ہلاکت میں ملوث ہے۔ یہ الزام کسی ثبوت کے بغیر عاید کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ نئی دہلی کی طرف سے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور شرپسند عناصر کی پشت پناہی کے شواہداب مہذب دنیا کے سامنے آچکے ہیں۔ قارئین کی معلومات اوردلچسپی کے لئے نشاندہی کی جاتی ہے کہ علیحدگی پسندوں کے ایک سرغنہ براہمداغ بگٹی نے 2008میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ بلوچستان کا دفاع کرنے کے لئے بھارت، ایران اور افغانستان سے امداد قبول کریں گے۔ پاکستان کا عرصہ سے اصرار ہے کہ بھارت کی طرف سے بلوچ علیحدگی پسندوں، خاص طور پر بلوچستان لبریشن آرمی کو امداد فراہم کی جاتی ہے۔ بعض یورپی مبصرین جن میں رائیٹ نیویل کا نام نمایاں ہے، اس موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ اگست 2013ء میں امریکہ کے خصوصی نمائندے جیمز ڈوفیئر نے کہا تھا کہ افغانستان میں بھارت کے کردار بارے پاکستان کے خدشات بے بنیاد نہیں ہیں۔ امریکی ڈیفنس سیکرٹری اور سابق سینیٹر چک ہیگل نے تو یہاں تک کہا تھا کہ بھارت نے افغانستان کو اپنے ثانوی محاذ کے طور پر استعمال کیا اوراس محاذ پر بے دریغ سرمایہ خرچ کیا جس کا مقصد اس جانب پاکستان کے لئے مسائل میں اضافہ کرنا تھا۔ وکی لیکس کا ریکارڈ اس امر کی پرزور تصدیق کرتا ہے کہ برطانوی خفیہ اداروں کے حکام اس بارے اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ بلوچستان میں شرپسند اور باغی عناصر کو بھارت کی درپردہ حمایت اور امداد حاصل ہے۔ ان حکام نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ 2008 میں بمبئی حملوں کے بعد تو نئی دہلی نے جوابی کارروائی کے طور پر بلوچستان میں اپنی کارروائیاں تیز کر دیں تھیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک ممتاز تجزیہ کار سید ایف حسنات نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ سوویت یونین نے افغانستان میں جنگ 1979-89کے دوران بلوچستان لبریشن آرمی کے قیام میں مدد فراہم کی تھی البتہ ا س کے برعکس ڈیوڈ رائیٹ نیویل کا خیال رہا کہ مذکورہ آرمی 2000تک قائم نہیں ہوئی تھی۔ 2011کے آخر میں بلوچستان کا تنازعہ اس وقت سب کی توجہ کا مرکز بن گیا جب جنوبی ایشیاء بارے نئی امریکی پالیسی کے حوالے سے مکالمہ شروع ہوا اور بعض امریکی ارکان کانگریس نے اس بات پر اپنی ناراضگی اور عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان کی طرف سے افغان طالبان کو مسلسل امداد فراہم کی جا رہی ہے جس کے سبب وہ اب تک جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فروری 2011 میں سینیٹر فار ا نٹرنیشنل پالیسی سے وابستہ سلیگ ایس ہیرنس کا ایک مضمون شائع ہوا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بحیرہ عرب کے جنوبی ساحلی علاقوں میں موجودہ اسلام دشمن عناصر اور پاکستان سے آزادی حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرنے والے بلوچ باغیوں کی بھرپور مدد کی جائے۔ موصوف کا خیال تھا کہ یہی وہ طریقہ ہے جس سے پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور اتحاد کا راستہ روکا جا سکتا ہے اور جس کے تحت پاکستان نے چین کو گوادر کی اہم بندرگاہ تک رسائی فراہم کر دی ہے۔
ایک حالیہ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کے جوہری معاملات پر نظر رکھنے کے لیے بھارتی ریاست راجستھان کے علاقے کوٹہ بوندی میں بھارت و اسرائیل کے انٹیلی جنس اداروں کا مشترکہ مانیٹرنگ سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ اس مانیٹرنگ سینٹر میں اسرائیل سے خریدے گئے جدید ترین حساس آلات نصب کیے گئے ہیں اور یہاں اسرائیل اور بھارت پاکستان کے حساس نوعیت کے معاملات کی مانیٹرنگ کریں گے۔ بھارت اور اسرائیل کا جموں میں قائم کردہ اس قسم کے مانیٹرنگ سینٹر پہلے ہی کام کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل، پاکستان کے جوہری معاملات پر نظر رکھنے کے لیے بھارت کے انٹیلی جنس نظام کو ایک عرصہ سے استعمال کر رہا ہے اور حالیہ پیش رفت اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے۔ 
یہ حقائق اور شواہد اس بات کے گواہ ہیں کہ بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ نہ صرف جاری رکھا ہوا ہے بلکہ وہ اس باب میں نت نئے طریقے اور راستے بھی اختیار کر رہا ہے۔ نئی دہلی نے جوزف گوئبیلز کے قول کو سچ ثابت کرنے کے لئے جھوٹ در جھوٹ بولنے اور مکر و فریب سے کام لینے میں اب اتنی مہارت اور دسترس حاصل کر لی ہے کہ اگر کبھی نئی دہلی کی طرف سے ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا بھی آ جائے تو دوراندیش اور حقیقت پسند اہل وطن اس پر حیرت اور فکر مندی کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ بھارت کی پاکستان دشمنی کے شواہد اب طشت ازبام ہو چکے ہیں اور یہ بھارت کے پالیسی ساز اداروں اور شخصیات کے ساتھ ساتھ بھارتی قیادت کے لئے بھی ندامت اور رسوائی کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ 

749
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...