پاکستان دنیا کے ان ملکوں میں تو شامل ہو چکا ہے جن میں پانی کی کمی ہے لیکن اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو کمی اس شدت تک پہنچ سکتی ہے جب صورت حال خطرناک اور تشویش ناک ہو جائے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے پاس تیس دن سے زیادہ کا ذخیرہ شدہ پانی نہیں ہے اور ایسے میں اگر اس کی طرف آتے ہوئے دریاؤں کا پانی بھی روک دیا جائے توکیا یہ نہ سمجھا جائے کہ پانی کو اسکے خلاف بطورہتھیار استعمال کیا جارہاہے۔ یہی پانی کبھی ایسے بند کردیاجاتاہے کہ دریاسوکھ جاتے ہیں اورکبھی ایسے کھول دیا جاتا ہے کہ یہ اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے کیونکہ ہمارے زیادہ تر دریا ہمارے پڑوسی ملک سے ہوکر ہم تک پہنچتے ہیں، حالانکہ دنیا میں پاکستان واحد ملک نہیں جس کے دریا دوسرے ملک سے نکلتے ہوں لیکن شاید بھارت واحد ملک ہے یا کم ازکم ان چند ملکوں میں سے ہے جو مشترکہ دریاؤں کے پانی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے اور حصہ دار ملک کو صحرا میں بدلنا اپنا فرض۔ پاکستان بھارت کے ہاتھوں آبی دہشت گردی کا شکار واحد ملک نہیں اگر ایسا ہوتا تو شاید یہ کہا جاتا کہ پاکستان کی شکایت کسی روایتی دشمنی یا مبالغے پر مبنی ہے لیکن یہی شکایت بھارت کے دوسرے پڑوسیوں کو بھی ہے۔ یہاں صرف ایک دو مثالیں ہی بیان کروں گی۔ بھارت اور نیپال کے درمیان کوسی دریا کے پانی پر تنازعہ موجود ہے اس دریا پر بننے والے ڈیموں اور بیراجوں کے بارے میں نیپالی عوام اور ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت اس سے زیادہ فائدہ اٹھارہا ہے جبکہ نیپال کو انتہائی محدود پانی مہیا کیا جارہا ہے یہ منصوبے سرحد کے نزدیک بنائے گئے ہیں ۔کوسی، ساردا اور گندھک کے منصوبوں کے تمام اخراجات بھارت نے برداشت کیے اور اس کے بدلے میں بقول نیپالیوں کے اس پانی کو خریدلیا۔ بھارت کا رویہ یہی ہے کہ بڑا ملک ہونے کے ناطے وہ وسائل وذرائع کو اپنا حق سمجھتا ہے کبھی اسے قیمتاً خریدتا ہے اور کبھی زبردستی ہتھیا لیتا ہے۔ مہا کھلی دریا پر بھارت اور نیپال کے درمیان پنچشوارہ منصوبے کا معاہدہ 1996 میں ہوا اس منصو بے سے 6000 میگا واٹ بجلی تیار کی جا سکتی ہے یہ آب پاشی کا منصوبہ بھی ہے لیکن اس سے صرف چار فیصد پانی نیپال کو دینا قرار پایا۔ بھارت کے لیے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی اور اب وہ 96% پانی لے رہا ہے۔ یہی صورت حال بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بھی ہے اور بنگلہ دیشی عوام بھارت کا اصلی چہرہ دیکھ رہے ہیں جہاں وہ صرف اور صرف اپنا مفاد دیکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر ملک پہلے اپنا مفاد دیکھے گا یہ اس کا حق ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ دوسرے ملکوں کے عوام کو بھوک اور پیاس سے مار دیا جائے معاہدے باہمی مفادات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور پھر اسی طرح نبھائے جاتے ہیں لیکن بھارت نہ صرف بغیرمعاہدوں کے دوسرے ممالک کے ساتھ مشترکہ وسائل کو صرف اپنا حق سمجھ کر استعمال کرتا ہے بلکہ معاہدوں کی دھجیاں بھی اڑاتا ہے جیسا کہ اس نے سندھ طاس معاہدے کی موجودگی میں کیا لیکن سندھ طاس کی طرف بعد میں آتے ہیں پہلے بنگلہ دیش کے ساتھ اس کے پانی کے تنازعے پر نظر ڈالتے ہیں کہ کیسے اس نے دریائے گنگا کا رخ موڑا اور سرحد کے قریب فراکا ڈیم بنایا جس سے بنگلہ دیش تک پہنچنے والے پانی کا حجم اتنا کم ہوا کہ یہاں مچھلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی بقول بنگالی ماہرین کے ماحولیات پر منفی اثرات کی وجہ سے نہ صرف یہاں کی زرعی زمین میں نمکیات کا تناسب بڑھا جس سے زرعی پیداوار کم ہوئی بلکہ دنیا کے سب سے بڑے ساحلی جنگلات یعنی سندر بن میں درخت اور پودے بڑی تعداد میں سوکھ چکے ہیں۔ اوپر دی گئی مثالوں سے یہ بات بڑی حد تک وا ضح ہو جاتی ہے کہ بھارت خطے میں نہ صرف روایتی ہتھیاروں کی دوڑ اور استعمال کا ذمہ دار ہے بلکہ وہ غیر روایتی طریقوں سے بھی اپنے پڑوسیوں کے بہت سارے مصائب کاذمہ دار ہے جن میں بہت بڑا ہتھیار پانی ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کی اکثر جنگیں پانی پر لڑی جائیں گی لیکن بھارت تو ابھی سے ایسا کررہاہے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کررہاہے۔ پاکستان بنا تو اگلے ہی سال بھارت نے پاکستان کا پانی روک دیا جو بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کی مداخلت پر تو کھول دیا گیا لیکن پھر بھی اکثر وہ یہ حربہ استعمال کرتا رہا ہے۔ 1960 میں سندھ طاس معاہدہ ہوا تو دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کے حصے میں آیا بھارت کو دریائی بہاؤ میں خلل ڈالے بغیر ان کے پانی کے محدود استعمال کی اجازت ملی لیکن بھارت نے نہ صرف ان دریاؤں کا پانی روک کر ڈیم بنائے اور اب تک تیس سے زائد ڈیم بنا چکا ہے بلکہ ان دریاؤں کا رخ موڑنے کے لیے سرنگ بھی بنائی اور پانی کی چوری کا بھی مرتکب ہو اور پانی کی اس چوری کا مقصد اگر ایک طرف اپنی ضرورت پوری کرنی ہے تو دوسری طرف پاکستان کو بنجر بنانا بھی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو بھارت افغانستان کو دریائے کابل پر ڈیم بنانے کا مشورہ نہ دیتا اس نے نہ صرف یہ مشورہ دیا بلکہ یہ ڈیم بنانے کے لیے ہر قسم کے تعاون کا یقین بھی دلایا اور پاکستان جو ویسے ہی پانی کی کمی کا شکار ہے اور موسمیاتی لحاظ سے صحرائی اور نیم صحرائی خطہ ہونے کی وجہ سے یہاں بہت کم بارش ہوتی ہے اس پر اگر دونوں طرف سے پانی بند یا کم کر دیا جائے تو صورت انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے ۔تحقیق کہتی ہے کہ دریائے سندھ میں ہر سال خریف میں 30%اور دریائے جہلم میں 10% کم پانی آتا ہے اور ظاہر ہے جس ملک کی زراعت کا انحصار ہی دریاؤں اور ان سے نکلنے والی نہروں کے پانی پر ہو پانی روکنے کی صورت میں وہاں صورت حال کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی ستر فیصد آبادی زراعت سے کسی نہ کسی طریقے سے وابسۃ ہے اور زرعی پیدا وار اس کی جی ڈی پی کا تقر بیاََ 24% حصہ بنتا ہے اس سے پانی کی اہمیت کا اندازابخوبی لگایا جاسکتا ہے اور اس امکان کو ہر گزرد نہیں کیا جاسکتا کہ خدا ننحو ا ستہ پاکستان شدید ترین آبی قلت کا شکارہو جائے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کا لیے حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا ہو گا اور ایک طرف بھارت کے خلاف اپنا مقدمہ انتہائی شدت سے لڑنا ہوگا بلکہ بین الا قومی برادری کو بھی صورت حال کا احساس دلانا ہوگا۔ بنگلہ دیش اور نیپال جیسے متاثر ہ ملکوں کے ساتھ مل کر بھی کام کیا جاسکتا ہے اور دوسری طرف خود اپنے ملک میں بھی پانی کے ذخائربڑھانے ہونگے اورمزید ڈیم بنانے ہونگے تا کہ نا ہموار موسمی بارش کا پانی موثر طور پر ذخیر ہ کیا جاسکے اور پورے ملک کو تھر جیسی صورت حال سے بچایا جا سکے۔

860
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...