قارئین ضرور جانتے ہیں ہوں گے کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کی آبادی1.2 بلین سے زیادہ افراد پر مشتمل ہے اور آبادی کے اعتبار سے یہ دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور یہاں پر چار مذاہب (ہندو مت، بدھ مت، جین ا زم اور سکھ ازم) نے جنم لیا۔ 29 ریاستوں پر مشتمل اس ملک کی 14 سال پہلے ہونے والی رائے شماری کے مطابق وہاں پر 8 سو ملین سے زائد ہندو ہیں جو کل آبادی کا 80.5 فیصد ہیں۔ اس کے بعد مسلمان 13.4 فیصد، مسیحی 2.3 فیصد اور سکھ 1.9 فیصد ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی کے اعتبار سے بھارت دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے اور یہاں پر مسلمانوں کی آبادی دنیا بھر میں کسی بھی غیر اسلامی ملک میں موجود آبادی سے سب سے زیادہ ہے۔ 14 اگست 1947ء کو جب پاکستان قائم ہوا اور برطانوی راج کا ہندوستان، جغرافیائی اور نظریاتی اعتبار سے تقسیم ہو کر بھارت بن گیا تو اس کے آئین میں درج کیا گیا کہ یہ ملک سیکولر ملک ہوگا اوریہاں پر آباد اقلیتوں کو تعلیم ، ملازمت اور نمائندگی کے شعبوں میں برابر کے حق حاصل ہوں گے۔
آج کم و بیش67 برسوں کے بعد یہ صورتحال ایک سنگین اور تشویشناک حقیقت بن کر ساری دنیا کے سامنے آشکار ہو چکی ہے کہ بھارت میں اقلیتوں پر زندگی حرام کر دی گئی اور یوں قدیم ہندو تہذیب اپنے داخلی دائرے میں ظلم، ناانصافی اور انسان کی تذلیل پر کھڑی ہوئی ہے۔ شودر اور دلت مسلمان نہیں، وہ پیدائشی ہندوہیں اور ان کی تعداد 50 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ لیکن شودروں اور دلتوں کو اعلیٰ ذات کے ہندو ’’انسان‘‘ ہی نہیں سمجھتے۔ ’’مہابھارت‘‘ ہندوؤں کی مذہبی کتاب ہے اور اس میں صاف لکھا ہے کہ ایک برہمن کے گھر شودر اور شودر کے گھر برہمن پیدا ہو سکتا ہے لیکن شائد آج کی بھارتی انتہا پسند ہندو قیادت اس سے یکسر بے خبر ہے۔ ڈاکٹر امبید کر نے جو بھارت کے آئین کو ڈرافٹ کرنے والے ہیں ہندو ہونے کے باوجود کہا کہ میں ہندو کی حیثیت سے پیدا تو ہوگیا اس لیے کہ پیدائش پر میرا بس نہیں تھا، مگر میں ہندو کی حیثیت سے ہرگز نہیں مرنا چاہوں گا چنانچہ وہ اپنی زندگی کے آخری دور میں بدھ مت کے پیروکار ہوگئے تھے۔ ڈاکٹر امبیدکر کے اس طرز فکر کی وجہ یہ تھی کہ وہ انتہائی قابل ہونے کے باوجود ’’ہر جن‘‘ تھے اور انہوں نے اس حیثیت میں جو ذلت سہی تھی وہ اسے اعلیٰ ترین مقامات پر پہنچنے کے باوجود بھی فراموش نہ کر سکے۔
بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے گئے ظالمانہ، امتیازی اور شرمناک سلوک کے حوالے سے یوں تو بے شمار واقعات بیان کیے جاتے ہیں لیکن قارئین کی معلومات اور حوالہ جات کے لئے یہاں پر ان میں سے 3 واقعات کاذکر کیا جاتا ہے۔ پہلا واقعہ 1984ء میں پیش آیا جب اس وقت کی بھارتی وزیراعظم مسزاندراگاندھی کے احکامات کے تحت امرتسر میں واقع سکھوں کے مذہبی مقدس مرکز ’’گولڈن ٹمپل‘‘ پر بھارتی فوج نے یلغار کر دی۔ اس کا عذر یہ تراشا گیا کہ اس عمارت میں وہ علیحدگی پسند سکھ نوجوانوں نے پناہ لے رکھی ہے جو خالصتان کی آزاد حکومت اورریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرا واقعہ 1992-93ء میں اس وقت پیش آیا جب مسلمانوں کی صدیوں پرانی تاریخی بابری مسجد کو انتہا پسند ہندوعناصر نے حملہ کرکے شہید کر دیا۔ اس سلسلہ میں جواز یہ پیش کیا گیا کہ جس مقام پر بابری مسجد تعمیر ہوئی، یہ مقام دراصل ہندوؤں کا مذہبی مرکز تھا جو ان کے دیوتاؤں کی نسبت سے ہندوؤں کے لئے قابل احترام ہے۔ تیسرا و اقعہ 2002ء کا ہے جب بھارت کی ریاست گجرات میں5ہزار مسلح اور مشتعل انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کی آبادی پر حملہ کرکے صرف 10 گھنٹے میں ان کے گھروں کو نذر آتش کر دیا، خواتین کو بے آبرو کیا، ضعیف لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انتہائی بے دردی کے ساتھ 97 مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ اس افواہ کو اس قتل عام کا سبب بتایا گیا کہ مسلمانوں نے اس گودھرا ٹرین کو نذر آتش کیا ہے جس میں ہندویاتری مارے گئے۔ سانحہ گجرات کے بارے میں اس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ گودھرا کے واقعہ کا ایک ’’قدرتی ردعمل‘‘ ہے۔یہی نریندر مودی آج کل بھارت کے وزیراعظم ہیں لیکن وہ مسلمانوں کے خلاف اپنے بغض، نفرت اور حسد کا جذبہ چھپانے میں ناکام رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسے کئی کلپس موجود ہیں جن میں موصوف کی پاکستان اورمسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی نمایاں دکھائی دے گی۔
پاک و ہند میں مسیحی برادری جو ایک بڑی اقلیت کا مقام رکھتی ہے۔بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کے رحم و کرم پر ہے۔ ایک طویل عرصہ سے مسیحی عبادت گاہوں کو نذر آتش کرنا، مسیحیوں کو زبردستی ہندو دھرم میں داخل کرنا، ہندو نہ بننے والے مسیحیوں کو دھمکیاں دینا، مسیحی کتب کو سرعام بے آبرو کرنا یا آگ لگا دینا، مسیحی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو بلوؤں کے دوران گرا دینا اور ان میں توڑ پھوڑ کرنا، تارک الدنیا مسیحی خواتین کو بے آبرو کرنا اور مسیحی راہبوں کو قتل کر دینا اور خوف و ہراس سے بھرا ہوا تحریری مواد مسیحی آبادیوں میں تقسیم کرنا، سیکولر بھارت میں عام سی بات ہے۔
1964ء سے 1996ء تک 38بڑے بڑے مسیحی کش واقعات اخبارات تک پہنچے۔1997ء میں 24واقعات وقوع پذیر ہوئے جن میں مسیحیوں کو قتل اور ان کی املاک کو آگ لگا دی گئی۔ 1998ء میں 90ایسے پرتشدد واقعات کی اطلاع کی گئی۔1998ء کے بعد سے مسیحیوں کے خلاف ایک پرتشدد لہر سی اٹھی ہے جو آج تک رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔جون 2000 میں چار گرجا گھروں پر بم مارے گئے، آندھرا پردیش میں چرچ کا قبرستان اکھاڑ پھینکا گیا، یہی سلوک مہاراشٹر کے ایک مسیحی قبرستان کے ساتھ بھی کیا گیا۔ ستمبر 2008ء میں ’’کیرالہ‘‘ کے دو گرجا گھروں کو تباہ برباد کر دیا گیا۔ ’’ویشوا ہندو پرشاد‘‘، ’’بجرنگ دل‘‘ اور ’’راشٹریا سام سیوک سنگ‘‘ سمیت بی جے پی جیسی ہندو انتہا پسند جماعتیں مسیحیوں کے خلاف ان پر تشدد واقعات میں بری طرح ملوث ہیں۔ ان سب تنظیموں نے اپنے انتہائی پرتشدد نوجوانوں کو ’’سنگ پریوار‘‘ کے نام سے جمع کر رکھا ہے۔
2دسمبر 2014ء کومشرقی دہلی کے سب سے بڑے گرجا گھر ’’سینٹ سبیستان چرچ‘‘ میں آگ لگا کر اس کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیالیکن حسب روایت کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ اس واردات میں چرچ میں موجود مقدس کتب، مجسموں اور دیگر تاریخی مقدس نوادرات کو بھی جلانے کی مذموم کوشش کی گئی۔15 جنوری 2015ء کو رات چار بجے کے لگ بھگ دو افراد مغربی دہلی کے ایک چرچ میں داخل ہوئے انہوں نے توڑ پھوڑ کی اور پاک بی بی مریم کا مجسمہ بھی گرادیا۔ ان افراد کی وہاں لگے ہوئے کیمرے کی فوٹیج سے شناخت ہوگئی اور یہ بات پولیس کے علم میں لائی گئی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ دہلی کے لاٹ پادری انیل جے ٹی کاؤٹو اورفادر بلراج نے اس واقعہ کو کسی بڑی سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔
5 فروری 2015ء کومسیحی برادری نے دہلی میں احتجاج کیا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے ان کی عبادت گاہوں کو انتہا پسند ہندوؤں کے مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ ہزار ہا مسیحی برادری کے مردون نے وسطی دہلی کے مرکزی ’’قلب مقدس‘‘ نامی گرجا سے ایک پرامن احتجاج جلوس نکالا جس نے سیکولر بھارت کے وزیرداخلہ کی اقامت گاہ تک جا کر اپنا احتجاج ریکارڈکرانا تھا لیکن تھوڑی ہی دیر بعد دہلی کی پولیس نے ان پرامن اور مظلوم مظاہرین پر دھاوا بول دیا۔ انہیں مارا پیٹا، زود و کوب کیا، خواتین کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں کی اور بے شمار مظاہرین کو گرفتار کرکے پس دیوار زنداں دھکیل دیا۔ 
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مسلمان یا سکھ اپنے مذہب یا معاشرت کے باعث کبھی کبھی منہ توڑ جواب دے دیتے ہیں لیکن مسیحی لوگ اپنی طبعی شرافت اور عدم تشدد کے رویہ کے باعث ظلم کی اس چکی میں پس رہے ہیں۔مسیحی برادری کے خلاف انتہا پسند ہندوؤں نے جو شرمناک رویہ اختیار کر رکھا ہے اس کا تازہ ترین مظاہرہ گزشتہ دنوں نئی دہلی میں ہوا جہاں پر مذکورہ انتہا پسندوں نے ایک مسیحی سکول  ہولی چائلڈ پر حملہ کر دیا جبکہ اس سے پہلے 5 گرجا گھرنذرآتش کیے جا چکے تھے۔ اس امر پر افسوس کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے کہ پولیس نے ان واقعات کو یکسر نظرانداز کر دیا اور اس بارے کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ 
گزشتہ سال اپریل میں ’’ٹام لینٹس ہیومن رائٹس کمیشن‘‘ کی طرف سے ہیومن رائٹس واچ کے جان سینٹن نے ایک رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی کہ 2013ء میں اس سے گزشتہ سال (یعنی2012ء ) کے مقابلہ میں ہندو، مسلم کشیدگی میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ خود مرکزی حکومت کی وزارت داخلہ نے 823 ایسے واقعات کا اندراج کیا جن میں گروہی تشدد اورزیادتی کی گئی۔ ان واقعات میں 133 افراد ہلاک اور 2ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ سب سے زیادہ پرتشدد واقعہ ستمبر 2013ء میں اترپردیش کے ضلع مظفرنگر میں پیش آیا جب ہندوانتہا پسندوں نے اشتعال انگیز تقاریر اور اعلانات کرکے مسلمانوں کے خلاف تعصب اور نفرت کے جذبات کو ابھارا۔ اس افسوسناک واقعہ میں 60 افراد مارے گئے، 6 خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی اور 150 دیہات کے مسلمانوں کو جبری طور پر ان کے گھروں سے باہر نکال دیا گیا۔ ریاست کی حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ ایسے بے گھر افراد کی تعداد 5ہزار ہے لیکن غیر جانبدار مبصرین اصرار کرتے ہیں کہ یہ تعداد 5 گنا سے بھی زیادہ یعنی 27 ہزار ہے۔
11 دسمبر 2014ء کو امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی معمول کی بریفنگ میں یہ مسئلہ اٹھایا گیا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا جا رہا ہے۔ امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ہم اس امر سے آگاہ ہیں کہ بھارت میں لوگوں کو اجتماعی طور پر اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ہم اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ تمام ممالک میں مذہب کی آزادی کو فروغ حاصل ہو اور ہم تمام ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ آزادی مذہب کا احترام کریں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سیاسی اور شہری حقوق بارے عالمی کنونشن 1966ء کے آرٹیکل 18 میں واضح طور پر درج ہے کہ کسی شخص کو جبری طور پر اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ 
معروف صحافی اور ادیب خوشونت سنگھ نے اپنی کتاب دی اینڈ آف انڈیا میں ہندوؤں کی انتہا پسندی کا انتہائی دیانتداری کے ساتھ اعتراف کرتے ہوئے تحریر کیا ہے: ’’اس ملک بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ پاکستان یا دنیا کا کوئی دوسرا ملک اس (بھارت) کو تباہ نہیں کرے گا بلکہ یہ اپنے آپ ہی خودکشی کا ارتکاب کرے گا‘‘ ۔

1,168
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...