انتہا پسند اورمعتصب مزاج بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جارحانہ اور عسکری عزائم حال ہی میں اس وقت طشت ازبام ہوگئے جب حال ہی میں نریندر مودی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کرتے ہوئے جدید لڑاکا طیارے، ٹینک اور بحری جنگی جہاز خریدنے کا اعلان کیا۔280 ارب ڈالر کے مجموعی بجٹ میں دفاع کیلئے 41 ارب ڈالر  مختص کر دیئے ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں دفاعی بجٹ میں 4 ارب ڈالر کا اضافہ کیا گیا ہے۔دنیا میں فوجی سازو سامان کا سب سے بڑا خریدار بھارت آئندہ مالی سال کے دوران 126 جنگی جہاز، 197 ہیلی کاپٹرز، 15 اپاچی اور 22 چنیوک ہیلی کاپٹرز اور دیگر بمبار خریدے گا جبکہ چنئی کے جوہری پلانٹ میں دوسرا پلانٹ لگانے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ بجٹ میں دولت ٹیکس ختم، کارپوریٹ سیکٹر پر محصولات میں کمی، سروسز ٹیکس میں اضافہ کیا گیا جس سے بھارت میں خدمات مہنگی ہو جائیں گی اور نئے بجٹ سے متوسط طبقے کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ اپوزیشن نے اس بجٹ کے حوالہ سے تنقید کرتے ہوئے اسے ’’کھویا ہوا موقع‘‘ قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایک اچھی معیشت ملی تھی اور پیٹرولیم کے دام نصف سے بھی کم ہونے کے سبب حکومت بڑے اقدام اٹھانے کے قابل تھی لیکن اس نے یہ موقع گنوادیاہے۔ 
ادھر بھارتی وزیر دفاع نے انکشاف کیا کہ بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیارے دراصل اڑتے ’’تابوت‘‘ ہیں۔گزشتہ چار برس میں طیارے گرنے سے نہ صرف فوج کو تقریباً 12 ارب روپے کا نقصان ہوا بلکہ میجر اور اعلیٰ فوجی عہدیداروں سمیت 42 جوان بھی ہلاک ہو گئے ۔ آئندہ چار سال میں فوج کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کے لیے ایک سو ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے کیونکہ فوج کو جدید لڑاکا طیارے اور اسلحہ دینے کی ضرورت ہے۔
یہ بات کسی تشریح کی محتاج نہیں ہے کہ نریندر مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے انتخابی منشور اور ایجنڈے کے عین مطابق پاکستان کو چین سے نہ بیٹھنے دینے کی پالیسی اختیار کی اور کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کرکے پاکستان بھارت کشیدگی کو انتہاء تک پہنچا دیا جس سے پاکستان کی سالمیت کے خلاف بھارتی عزائم کی قلعی بھی کھلی اور پھر پور دیدہ دلیری کے ساتھ اس نے مقبوضہ کشمیر کو مستقل طور پر ہڑپ کرنے کی پالیسی طے کی جس کے تحت بھارتی آئین کی دفعہ 370میں ترمیم کرکے وادی کشمیر کی متروکہ وقف املاک پر بھارتی پنڈتوں کے قبضہ کی گنجائش کو ممکن بنایااور کشمیری عوام کے مقابل ہندوؤں کو بھی وادی کشمیر میں جائیدادیں اور زمینیں خریدنے کا حق دے دیا گیا جس کا بنیادی مقصد کشمیر کی مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا تھا تاکہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا کیس کمزور کیا جا سکے۔اس کے علاوہ بھارت میں مسلمان اور عیسائی اقلیتوں کو جبراً ہندو بنانے کی مہم شروع ہوئی تاکہ بھارتی ر یاست پر مکمل ہندو ریاست کی چھاپ لگائی جاسکے۔ یہ بھارتی توسیع پسندانہ عزائم انتہا پسندانہ ہندو سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جس پر پوری دنیا کو بجا طور پر تشویش ہے۔ 
بھارت کا نیا عسکری بجٹ اس حقیقت کی گواہی تصور کیا جا رہا ہے کہ نئی دہلی نے اپنے چھوٹے ہمسایہ ممالک پر اپنی بالادستی قائم کرنے اور دیگر ممالک کو آنکھیں دکھانے کی پالیسی پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بھارت نے علاقہ میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے ایک طویل عرصہ سے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اس نے انتہائی چالاکی بلکہ مکاری کے ساتھ روز اول سے ہی خود کو امن کا دعویدار اور حامی کے روپ میں دنیا کے سامنے پیش کیا لیکن عملی طور پر اس کے کرتوت اس کے برعکس رہے گویا اس نے ’’بغل میں چھری اور منہ میں رام رام‘‘ کے محاورہ کو سچ کر دکھایا۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کی مسابقت دراصل دشمنی کا درجہ رکھتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بھارتی پالیسی ساز اس حقیقت کا ادراک اور شعور رکھنے کا مظاہرہ کرکے کہ پڑوسی ممالک تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔اس کے بجائے ہندو ذہنیت نے اپنی روایتی تنگدلی اورتنگ نظری کا مظاہرہ کیا۔ پہلے تو 50 کے عشرے میں وادی کشمیر پر طاقت کے بل بوتے پر ناجائزہ قبضہ جمایا گیا اور اس کے بعد پاکستان کے دریاؤں کا پانی روک لیا گیا۔ 60 کے عشرے کے وسط میں یعنی ستمبر 1965ء میں پاکستان پر اچانک حملہ کر دیا۔ اس جارحیت میں عبرتناک شکست سے دوچار ہونے کا بدلہ لینے کے لیے نئی دہلی نے سیاسی اور سفارتی سازشوں کے نتیجہ میں پاکستان کو دولخت کیا اور یوں سقوط مشرقی پاکستان کا المیہ رونما ہوا۔ اس کے بعد بھارتی قیادت نے پاکستان کو مشکلات سے دوچار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور اس کا منصوبہ یہی رہاکہ رہے سہے پاکستان کے بھی ٹکڑے کر دیئے جائیں لیکن یہ پاکستان کا ’’ایٹمی پروگرام‘‘ ہی تھا جس نے نئی دہلی کی ناک میں نکیل ڈال دی۔ 
9/11کے سانحہ کے بعد جب ساری دنیا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تو پاکستان اس کے سرخیل دستہ میں شامل ہوا۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے اس جنگ میں سب سے زیادہ جانی و مالی قربانیاں پیش کیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اس کے مقابلہ میں بھارت نے پہلے تو سوویت یونین کی گود میں بیٹھ کر ’’غیر جانبداری ‘‘ کا ڈھونگ رچایا اور اس کے بعد امریکہ کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانا شروع کر دیں۔ اس سلسلہ میں نئی دہلی نے واشنگٹن کو یہ چکمہ دیا کہ وہ چین کے مقابلہ میں امریکہ کا قابل اعتماد حلیف ثابت ہوگا اور دوسرا یہ کہ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت یعنی پاکستان کو ہرا عتبار سے کمزور کرتے ہوئے غیر اسلامی قوتوں کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جائے گا۔ اسی ایجنڈے کے تحت بھارت نے افغانستان میں ایسے تربیتی مراکز قائم کیے جہاں سے تربیت حاصل کرنے والے تخریب کار اور انتہا پسند پاکستان میں بے گناہ اور معصوم عوام کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں، فرقہ واردیت کو ہوا دی جاتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف سب سے نتیجہ خیز کردار ادا کرنے والے ملک یعنی پاکستان کو ہی ’’دہشت گردی کی نرسری‘‘ ثابت کرنے کا گمراہ کن پروپیگنڈ ہ کیا جاتا ہے۔
اسلام آباد کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ جنوبی ایشیاء کو امن اور سلامتی کا گہوارہ بنایا جائے، اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ یہاں کے عوام اپنے اپنے ملکی وسائل سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رہیں۔ اس سلسلہ میں پاکستان نے ہر مرحلہ اور ہر موقع پر بھارت کے ساتھ برابری اور خودمختاری کی بنیاد پر دوستی کا ہاتھ آگے بڑھایا۔ گزشتہ سال مئی میں جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنا منصب سنبھالا تو وزیراعظم نواز شریف نے نئی دہلی جا کر موصوف کی تقریب حلف وفاداری میں شرکت کی اور یوں بھارت کی نئی حکومت اور عوام کو یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان ان کے ساتھ دوستی اور خیرسگالی کا خواہاں ہے۔ حقائق اس امر کے گواہ ہیں کہ اسلام آباد کی دوستی اور امن کی خواہش کو نئی دہلی نے ہمیشہ نظرانداز کیا۔ دراصل نئی دہلی پر جنوبی ایشیاء کا ’’تھانیدار‘‘ بننے کا بھوت سوار ہے اور سال رواں کے آغاز میں امریکی صدر باراک اوبامہ کے دورہ بھارت کے بعد تو بھارتی حکومت اور پالیسی ساز اس سلسلہ میں مہم جوئی اور جنون کی حد تک آگے نکل چکے ہیں۔ بھارت کا حالیہ عسکری بجٹ نئی دہلی کے ان حکمرانوں کی بالادستی کی خواہشوں کا آئینہ دار ہے جن کو اپنے عوام کی غربت ، افلاس اور محرومیوں کا تو احساس نہیں لیکن وہ اسلحہ کے ڈھیر جمع کرنے میں مصروف ہیں تاکہ ان پر کھڑے ہو کر عالمی برادری میں اپنا قد اونچاکر سکیں۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارت نے حال ہی میں اپنے فوجی اخراجات میں اضافہ کرکے حقیقی معنوں م یں امن پسند اور مہذب دنیا کے سامنے اپنے اصل چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

725
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...