مکہ میں کفار نے بہت ستایا تو پیارے نبیﷺ نے مدینہ ہجرت کی اور یوں اور انبیاء کی طرح ہجرت سنت محمدیﷺ بھی ٹھہری۔ آج کی دنیا میں بھی قوموں کی ہجرت کوئی غیر معمولی سرگرمی نہیں ہے۔ انسان نے جتنی بھی ترقی کرلی ہے لیکن اس نے نئی زمینوں کو فتح کرنے کی ہوس نہیں چھوڑی اور یوں کبھی حملہ آور اقوام کے مظالم سے بچنے کے لیے مفتوح اقوام کی بہت بڑی تعداد مجبوراً دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت کرتی ہے اور کبھی اپنے ہی ملک میں نامساعد حالات کے ہاتھوں بھی ہجرت کرلی جاتی ہے۔ روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو افغان عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نے اپنے ملک سے ہجرت کی۔ کچھ تو دنیا کے دوسرے ممالک میں گئے ،کچھ ایران گئے لیکن سب سے بڑی تعداد پاکستان پہنچی جو تقریباً تیس لاکھ تھی۔ اسے تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت گردانا گیا۔ پاکستان اور پاکستانی عوام نے مصیبت کے مارے اپنے ان مسلمان بھائیوں کو دل و جان سے خوش آمدید کہا اور اپنے محدود وسائل میں انہیں شامل کیا۔ نوشہرہ میں اضاخیل اور پشاور میں کچہ گڑھی ناصر باغ مہاجر کیمپ دنیا کے سب سے بڑے مہاجر کیمپ بن گئے۔ یہ مہاجرین صرف کیمپوں تک محدود نہیں تھے بلکہ شہروں کے اندر بھی ہر جگہ نظر آتے رہے دکانوں بازاروں حتیٰ کہ ٹرانسپورٹ میں بھی ہر جگہ یہ افغان نظر آنے لگے اس میں کوئی شک نہیں کہ بیرونی امداد کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہر قسم کی محنت مزدوری اور مشقت بھی کی لیکن ان مہاجرین کے ساتھ کچھ ایسی خرابیاں میں معاشرے میں در آئیں جن سے ہم آج تک چھٹکارا حاصل نہیں کر پائے مثلاً منشیات اور کلاشنکوف کلچر لیکن ان مہاجروں کو پھر بھی خندہ پیشانی سے پاکستان میں رہنے دیا گیا۔ روس تو افغانستان سے چلا گیا لیکن یہ مہاجرین افغانستان واپس نہیں گئے اور ان کی اولادیں بھی یہاں پیدا ہوئیں پلی بڑھیں لیکن انہوں نے اپنے ملک سے بھی رابطہ نہیں توڑا اور بڑی آزادی سے جب چا ہا افغانستان گئے اور جب چا ہا پاکستان آئے۔ امریکہ نے 9/11 کے بعد افغانستان پر بموں کی بارش کی تو اگر کچھ افغان واپس اپنے ملک جابھی چکے تھے وہ پھر واپس پاکستان چلے آئے لیکن اس بار وہی مجاہدین جو طالبان میں تبدیل ہو چکے تھے نے پاکستان کو بھی اپنا نشانہ بنایا اور خودکش حملوں سے پورا پاکستان لرز اٹھا اور ان حملوں میں بہت مرتبہ شواہد افغان مہاجرین کی طرف جاتے رہے اور تانے بانے انہی سے ملتے رہے انہی مہاجرین میں ازبک اور دوسری قومیتوں کے لوگ بھی شامل ہوتے رہے اوردوسرے ملکوں کی مداخلت بھی جاری رہی۔ پاکستان دھماکوں سے گونجتا رہا کبھی کبھی تو ایسا لگتا تھا کہ افغانستان پاکستان سے زیادہ محفوظ اور بہتر ہے لیکن پھر بھی یہ مہاجرین پاکستان میں رہنے کو ترجیح دیتے رہے کیونکہ بہتر تعلیم بہتر علاج، بہتر رسل و رسائل اور بہتر تجارت کے موقع انہیں میسر رہے اور ساتھ ہی مہاجرین کے لیے آنے والی امداد بھی حاصل رہی۔ دوسری طرف افغان حکومت بھارت کے ساتھ دوستی بڑھاتی رہی بھارت کے غیر ضروری حد تک تعداد میں قونصل خانے، تعمیراتی کمپنیوں کے نام پر افغانستان میں موجودگی اور تجارت کے نام پر بڑھتے تعلقات یہ سب کچھ پاکستان کے لیے تشویش کا باعث بھی رہا ہے اور تکلیف کا بھی۔ پاکستان سے بھاگ کر جانے والے طالبان لیڈروں کو افغانستان میں پناہ ملتی رہی اور وہ وہاں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کرتے رہے جسے جیسے تیسے برداشت کیا جاتا رہا لیکن پشاور سکول سانحے سے ملک کا منظر نامہ تقریباً تبدیل ہو گیا اور قومی ایکشن پلان بنا اور دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات ا ٹھائے گئے تو ظاہر ہے کہ پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ افغان مہاجرین کے خلاف بھی ایکشن شروع ہوا اور جو مہاجرین غیر قانونی طور پر ملک کے اندر تھے ان کو بھی قانون کے شکنجے میں لایا گیا۔ بہت سے مہاجرین نے پاکستان کا قومی شناختی کارڈ غیر قانونی طور پر بنوایا تھا اور کچھ بغیر کسی کارڈ کے ہی رہ رہے تھے نہ تو ان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہے نہ ہی پی او آر یعنی پروف فار رجسٹریشن کہ وہ پاکستان میں بطور مہاجر رہ رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک کے سرکاری کاغذات میں کسی شخص کے وجود کا اگر کوئی ثبوت ہی نہ ہو تو کسی جرم میں ملوث ہونے کی صورت میں اُسے کیسے پکڑا جائے۔ سانحہ پشاور کے بعد حکومت پاکستان نے ان مہاجرین کو 31 دسمبر 2015 تک پی اوآر کارڈز جاری کئے ہیں اور اب تک بارہ لاکھ کارڈ دیے جاچکے ہیں جبکہ107571 کارڈز مزید دیئے جائیں گے یہ کارڈ 2010 میں آخری بار جاری ہوئے تھے ۔عالمی برادری اور یو این ایچ سی آر نے ہمیشہ ان مہاجرین کی دیکھ بھال کرنے پر پاکستان کو سراہاہے۔ اگرچہ پاکستانی قوم نے اس لمبی مہمان نوازی کا کوئی صلہ افغان حکومت سے نہیں پایا بلکہ ہمیشہ نقصان ہی اٹھایا ہے اور بڑے افسوس کی بات ہے کہ افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد بھی بجائے مشکور ہونے کے پاکستان کے خلاف بولتے ہوئے اور بھارت کی مدح سرائی کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔ ابھی حال ہی میں پژواک افغان نیوز کے ایک مضمون کے مطابق افغانستان میں نوجوانوں کی ایک تنظیم نے جو کہتی ہے کہ وہ اصلاحات اور تبدیلی کے لیے کام کررہی ہے کے صدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مذکورہ بالا تمام اقدامات کرنے پر حکومت پاکستان پر شدید تنقید کی اور الزام لگایا کہ افغان مہاجرین کو ڈرایا جارہا ہے تنظیم کے صدر سید میثم احسان نے اقوام متحدہ سے پاکستان کے اوپر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا اور یہ سنگین الزام بھی لگایا کہ حکومت پاکستان افغان مہاجرین کو افغانستان میں شدت پسندانہ سرگرمیوں میں حصہ لینے پر مجبور کررہی ہے۔میثم احسان کوئی مشہور و معروف لیڈر نہیں ہے لیکن لہجہ اس کا جانا پہچا نا ہے ایسا لہجہ بھارت سمیت دوسرے پاکستان دشمن استعمال کرتے ہیں۔ تقریباً چالیس سال تک ان مہاجرین کی دیکھ بھال کرنے کے بعدجب وہ ایسا الزام لگائے گا تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ کس کی زبان بول رہا ہے اس نے یہ بھی کہا کہ تین ہزار افغان مہاجرین کو پاکستان سے نکالا گیا ہے یہ اقرار بھی کیا گیا ہے کہ یہ مہاجرین جو وقتاً فوقتاً واپس بھیجے گئے ہیں بغیر کسی دستاویزات کے تھے تو کیا دنیا کا کوئی ملک بغیر دستاویزات کے کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو اپنے ہاں رہنے کی اجازت دیتا ہے اور کیا یوں ہر روز سرحد کے آرپار آمد و رفت جاری رہتی ہے کہ ہفتہ وار تعطیل افغانستان اور باقی ہفتہ پاکستان میں گزارا جائے۔ نام کو یہ خوشحال لوگ مہاجر ہیں لیکن وہ پشاور یا اسلام آباد میں بیٹھ کر بیرون ملک اپنی تجارت کرتے ہیں تجارت پر بھی اعتراض نہیں لیکن اتنے بڑے بزنس کا مالک تارک وطن تو ہو سکتا ہے لیکن مہاجر کو ملنے والی مراعات وہ کیسے لیتا ہے۔ جہاں تک مہاجرین کو ہراساں کرنے کی با ت ہے تو ان لوگوں کے بچے اس وقت بھی اچھے پاکستانی سکولوں میں پڑھ رہے ہیں اب بھی بڑی بڑی دکانوں کے مالک ہیں، اور اب بھی یہ ریڑھی چھابڑی پر موجود ہیں۔ اب تو میثم احسان جیسے نوجوانوں کو خود اپنی حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے شہریوں کو واپس لاکر اپنے ملک میں بسائیں اور اپنے شہر آباد کریں۔ پاکستان اس وقت خود حالت جنگ میں ہے اور اس جنگ میں سب ہی جانتے ہیں کہ ایک بہت بڑا حصہ افغان مہاجرین کا ہے بلکہ جتنے یہ اس میں ملوث ہیں تو یہ اس جنگ کے فریق محسوس ہوتے ہیں کون جانے مرنے والے پاکستانی دہشت گردوں نے بھی شربت گُلہ کی طرح پاکستانی شناختی کارڈ بنا رکھے ہوں۔ بہرحال معاملہ جو بھی ہے اب خود افغان حکومت اور اقوام متحدہ کو اس معاملے پر سوچنا چاہیے اورمیثم احسان جیسے افغانوں کو پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی سے ہر صورت روکنا چاہیے جو پاکستان اور افغانستان کے بہتر ہو تے تعلقات میں خود یا کسی کے کہنے پر دوبارہ خرابی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ خطے کا امن ان دونوں برادر ملکوں کے بہتر تعلقات پر منحصر ہے۔

1,214
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...