اسلام تو جنگ میں بھی بچے،بوڑھے اور عورت پر ہاتھ اٹھانے سے منع کرتا ہے۔ جب اسلام نے یہ حکم دیا تو اس وقت کی تمام جنگیں کافروں سے تھیں لیکن کفر و اسلام کی ان جنگوں میں بھی یہ حکم نافذالعمل رہا اور عورتوں بچوں اور بوڑھوں بلکہ جنگ میں حصہ نہ لینے والے جوانوں کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ لیکن خود کو مسلمان کہنے، شریعت کا مطالبہ کرنے والوں،پاک فوج کو کافروں کی فوج کہنے والوں اور آئین پاکستان کو غیر شرعی کہنے والوں نے اسلام کے اس اصول کی دھجیاں اڑا دیں ہیں ان کی زد پر بازاروں میں کام کرتے ہوئے خوانچہ فروش، سڑکوں پر کام کرتے مزدور، پولیو کے قطرے پلا تی عورتیں حتیٰ کہ سکولوں میں پڑھتے ہوئے معصوم بچے بھی ہیں اور جب کسی قوم کے بچے بھی ماردیئے جائیں تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے۔ سانحہ پشاور نے قوم کا دل ہلا کر رکھ دیا آج بھی اس سانحے کا ذکر ہو تو دل رو پڑتا ہے اور لوگ آنسو آنسو روتے ہیں۔ ان بچوں نے قوم کو واقعی رُلایا بھی لیکن حقیقت میں انہیں متحد بھی کیا ہمارے آپس میں لڑتے بھڑتے سیاستدان بھی مل بیٹھے اور اس قومی سانحے کے ردعمل کے طورپر قومی ایکشن پلان تیار کیا تاکہ دہشت گردی کو ختم کیا جا سکے۔ اس سانحے کو دوماہ گزر چکے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ نہ تو آنسو خشک ہوئے ہیں نہ دہشت گردی رُکی ہے۔ اس ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتیں قائم کی گئیں اور اس کے لیے آئین میں ترمیم کی گئی۔ پھانسی کی سزا پر عائد پابندی ختم کی گئی لیکن ابھی تک صرف بائیس پھانسیاں دیں گئی ہیں جبکہ پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ سلسلہ رُکا ہوا ہے اور شاید یہی وجہ ہے دہشت گردوں کا خوف دور ہوتا ہوا محسوس ہورہا ہے اسی لیے تو شکارپور میں پھر خون کی ہولی کھیلی گئی اور پھر ایک بار پھر پشاور بھی نشانہ بنا اور حیات آباد میں بھی وہی کچھ ہوا جو شکارپور میں ہوا تھا ۔کئی جانیں ضائع ہوئیں اسے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کا ردعمل قرار دے دیا گیا بلاشبہ کہ ایسا ہے لیکن اس عذر کو کب تک پیش اور قبول کیا جائے گا۔ قومی ایکشن پلان بنا تو لیا گیا اب اس پر سختی سے عمل درآمد کی بھی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ حکومت اس معاملے میں غیر سنجیدہ ہے یا غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کررہی ہے وہ معاملات کو سنبھالنے کی کوشش ضرور کررہی ہے لیکن دو ماہ کے اندر اندر دو مزید بڑے بڑے دھماکے کس بات کا ثبوت ہے اس کی وضاحت ضروری ہے۔ دوسری طرف فوجی عدالتوں کو اب بھی تنقید کا نشانہ بنا لیا جاتا ہے ہمارا میڈیا جس نے معذرت کے ساتھ لیکن طالبان کے مقاصد کو بڑی تقویت دی تھی چاہے یہ براہ راست نہیں تھی اور ہو سکتا ہے کہ بدنیتی پر بھی مبنی نہ ہو لیکن طالبان کمانڈرز اور دیگر عہدے داران کو جس طرح کوریج دی گئی اور جس طرح ان کے مقصد کو واحد مقصد یعنی شریعت کو مسلسل خبر بنایا گیا اس نے کم فہم لوگوں کو باور کرادیا کہ وہ واقعی شریعت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ شریعت اور دین کے نام پر ہمارے لوگ کسی بھی مقصد کے لیے بے دریغ استعمال ہو سکتے ہیں۔ اب تک تو جو نقصان ہونا تھا ہو چکا اور اس نقصان کا مداوا ممکن نہیں لیکن مزید کسی نقصان کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے لہٰذا اب میڈیا کو اپنا کردار بہت سوچ سمجھ کر بہت ذمہ داری سے ادا کرنا ہے۔ دونوں طرف کے موقف کو پیش کرنے کی کوشش میں اور آزاد میڈیا کہلانے کے شوق میں اب فوجی عدالتوں کو موضوع بحث نہ بنایا جائے حکومت کو ہدف تنقید بنانا اور بات ہے اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو زیربحث لانا اور بات۔ ظاہر ہے کہ فوجی عدالتیں کوئی خوشگوار فیصلہ نہیں ہے لیکن ملکی حالات کے پیش نظر کچھ ناخوشگوار اقدامات بھی اٹھانا پڑتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف نہ تو ہماری عدالتوں نے قابل فخر کردار ادا کیا اور نہ ہی حکومت نے۔ اول تو عدالتوں نے نا کافی ثبوتوں کے نام پر ہاتھ ہلکا رکھا اور اگر عدالتوں نے کسی سزا کا فیصلہ سنایا بھی تو اس پر عمل درآمد کے بارے میں کسی قسم کی ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیا گیا۔ اب ایسے میں عوام کو فوجی عدالتوں کے قیام کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں لہٰذا میڈیا دونوں طرف کے موقف کو پیش کرنے کے شوق میں کسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کرے تاکہ پھر سے کسی ملک دشمن موقف کو فائدہ نہ پہنچ سکے۔ ظاہر ہے کہ ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے ہمیں حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے نہ صرف محتاط رہنا ہوگا بلکہ سب کچھ تیزی سے کرنا ہوگا تاکہ جتنی جلدی ہو سکے اس ناسور کو کاٹ کر پھینکا جا سکے اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب قوم کی رائے اس مسئلے کے بارے میں کسی قسم کی تقسیم کا شکار نہ ہو اور قوم کو ایک صفحہ پر لانے میں میڈیا بہترین کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگرچہ اس جنگ کے بارے میں اس کا رویہ کافی حد تک بدل چکا ہے اور اب طالبان کمانڈر کے کارنامے بیان کرنے میں کسی جوش و خروش کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا اور اس سٹریٹیجی کا اثر نظر بھی آرہا ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو مزید پزیرائی دینے کی ضرورت ہے تا کہ عوام میں اگر ان کے بارے میں ایک فیصد بھی ہمدردی یا تائید پائی جاتی ہے تو اسے ختم کیا جا سکے کیونکہ اب ہمارے پاس کسی غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔

1,028
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...