بحثیت مسلمان اور بحثیت پاکستانی ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری اخلاقی ،معاشرتی و ثقافتی اقدار روبہ زوال ہیں ۔ہم جدیدیت و روشن خیالی کے نام پہ مغربی ثقافت کو خوش آمدید کہنے اور مشرقی و اسلامی ثقافت کو خیر آباد کہنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں ۔ ہماری اپنی روایات و اسلامی اقدار ہمیں دقیانوسی لگنے لگی ہیں۔ درحقیقت یہ سوچ کسی بھی قوم کے اخلاقی ،معاشرتی و اجتماعی زوال پہ دلالت کرتی ہے۔ ابھی قوم آرمی پبلک سکول پشاور میں ہونیوالی بربریت و ظلم پہ غم سے نڈھال تھی کہ نیو ائرنائٹ کے نام پہ سر عام عریانی و فحاشی محفلیں ببانگ دہل منعقد کی گئیں۔پورے ملک کے بڑے ہوٹلوں پہ شراب و کباب نایاب ہو گئے۔ چند دن بعد ہونیوالے سانحہ شکار پور نے ایک بار پھر پورے ملک کو سوگوار کردیا۔ شہدا کی مائوں ،بہنوں و بیٹیوں کی آہیں اور سسکیاں رکنے کا نم نہیں لے رہیں۔ سچ کہتے ہیں کہ “جس تن لاگے وہ تن جانے ” یعنی جس پہ قیامت گزری ہو وہی بہتر جانتا ہے۔ ایسےمیں اب ویلنٹائن ڈے کے نام سے بے حیائی کے مناظر ایک بار پھر دیکھنے میں آئیں گے۔پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے وہ چہرے جن کیں آنکھیں مذکورہ سانحات کے شہدا کی یاد میں سرخ ہو گئیں اور حلق آنسوؤں سے تر ہوگئے تھے وہی اب مسکراتے ،قہقے بکھیرتے محبت محبت کا پرچار کرتے نظر آئیں گے۔

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے کہ جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانا پسند کرتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب کے مستحق ہیں ۔ حیا کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے ۔ تنہائی میں ملنے والے دو نامحرموں کے درمیان تیسرا فرد شیطان ہوتا ہے۔ بطور مسلمان و بحیثیت پاکستانی ہماری نوجوان نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و سنت کے پیغام کو سمجھے اور روشن خیالی کے نام پہ ان مغربی رسومات کی نفی کرے۔ڈاکٹر علامہ محمد اقبال  نے فرمایا۔

              اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب پہ نہ کر

                                                                          خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ مملکت میں اسلامی اقدار کو فروغ دے اور بے حیائی ،عریانی و فحاشی کی بیخ کنی کرے. علاوہ ازیں والدین کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیمات پہ عمل پیرا ہونے کی تلقین کریں۔ اسی طرح ایک صحیح اسلامی معاشرہ تشکیل پائے گا ۔

1,010
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...