میاں صاحب کو اقتدار سنبھالے ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے۔ اپنے جماعتی منشور کے مطابق ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کے لیے انہوں نے متعدد ممالک کے دورے کیے جن میں امریکہ،برطانیہ،چین اور سعودی عرب قابل ذکر ہیں ۔لیکن ان سب اقدامات کے باوجوداس عرصہ میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہونے کی بجائے 26فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو حکومتی کارکردگی پہ ایک سوالیہ نشان ہے ۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ بجلی اور گیس کی عدم فراہمی سے صنعتوں کا پہیہ جام ہو چکا ہے۔صرف جنوبی پنجاب میں 25ہزار افراد بیروزگار ہو گئے ہیں جبکہ پاکستان بھر میں انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں افراد اس کے علاوہ ہیں ۔حکومت غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مراعات کا اعلان تو کرتی ہے لیکن عملی طور پہ اس زمن میں کوئی قدم نہیں اٹھا تی۔اس کی ایک واضح مثال پورٹ قاسم، کراچی میں قائم پاکستان کی سب سے بڑی سٹیل مل”طوارقی سٹیل مل”کو گیس سپلائی کی بندش ہے۔ سعودی عرب کے الطوارقی گروپ اور جنوبی کوریا کی “پاسکو سٹیل مل ” نے مشترکہ طور پہ کراچی میں پورٹ قاسم پہ 220 ایکڑ رقبہ پہ محیط طوارقی سٹیل مل قائم کی ہے ۔2004 میں اس وقت کی حکومت کے ساتھ ایم او یو پہ دستخط کیے گئے جس کے تحت عالمی منڈی سے مقابلہ کرنے کے لیے طوارقی سٹیل مل کو پہلے پانچ سال تک 123 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے ارزاں نرخوں پہ گیس فراہم کی جانی تھی۔ مل کی پیداواری صلاحیت بارہ لاکھ اسی ہزار ٹن ہے جو کہ پاکستان سٹیل مل سے 1.8 لاکھ ٹن زائد ہے ۔طوارقی سٹیل مل نے اپنے قیام کے پہلے چار ماہ میں ہی 12.8 لاکھ ٹن کا مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا ۔ لیکن اس کے بعد گزشتہ ایک سال سے یہ سٹیل مل حکومت کی جانب سے گیس کی عدم فراہمی کے باعث بند پڑی ہے۔ موجودہ حکومت کا موقف ہے کہ وہ سستے داموں گیس فراہم نہیں کر سکتی جس پہ طوارقی گروپ نے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے حکومت کوطوارقی سٹیل مل کے 15 فیصد شئر ز بالکل مفت دینے کی پیشکش کر دی ابتداء میں تو حکومت نے اس پیشکش کو قبول کر لیا لیکن پھرنامعلوم وجوہات کی بنا پہ انکار کر دیا ۔ طوارقی گروپ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ہلا ل الطوارقی مسئلہ کے حل کے لیے پاکستان تشریف لائے اور سعودی سفیر کے ذریعے وزیراعظم سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی لیکن یہ کوشش بے سود ثابت ہوئی اور ملاقات نہ ہو سکی۔ مسلسل حکومتی عدم تعاون کے باعث طوارقی گروپ نے دلبرداشتہ ہو کے اپنے پلانٹ کو اکھاڑ کے سعودی عرب منتقل کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔1100سے زائد ملازمین میں سے 365کو فارغ کیا جاچکا ہے جبکہ بقیہ ملازمین کو فارغ کرنے کے لیے یکم فروری کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے ۔ اس سارے معاملے میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری سے ہاتھ دھونا پڑیں گے ۔ذرائع کے مطابق الطوارقی گروپ اس تنازعہ کو اقوام متحدہ کی عالمی عدالت انصاف میں بھی لیجانے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے سعودی عرب جیسے دوست ملک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بگڑنے کا بھی اندیشہ ہے۔اس سے قبل پاکستانی حکومت ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدے کی بھی خلاف ورزی کر چکی ہے ۔ایران نے 7.5 ارب ڈالر کی خطیر رقم سے پاکستانی سرحد تک گیس پائپ لائن کی تعمیر مکمل کر لی ہے لیکن پاکستان نے ابھی تک اپنے حصہ کی پائپ لائن نہیں بچھا ئی۔ یہ منصوبہ دسمبر 2014 تک مکمل کیا جانا تھا جس کے بعد اگر پاکستان گیس نہ خریدتا تو اسے تیس ملین ڈالر ماہانہ جرمانہ شروع ہوجاناتھا۔ اب یہ منصوبہ تو مکمل نہیں ہو پایا لیکن ایران نے کمال مہربانی کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پہ پاکستان کو جرمانہ معاف کردیا ہے۔ ایرانی حکومت اب بھی چاہتی ہے کہ یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچے لیکن حکومت پاکستان لیت و لعل سے کام لے رہی ہے ۔پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت نے کبھی گیس کے نرخوں کو بنیاد بنا کے تو کبھی عالمی پابندیوں کو بہانہ بنا کے اس منصوبہ کو کٹھائی میں ڈالے رکھا اور موجودہ حکومت بھی اس بارے سنجیدگی کا مظاہر نہیں کر رہی ۔ اگر ایران جیسے برادر ملک کے ساتھ گیس پائپ لائن کا یہ منصوبہ مکمل ہوچکا ہوتا تو آج پاکستان میں گیس وافر مقدار میں دستیاب ہوتی اور پاکستان کی صنعتوں کا پہیہ چلتارہتا ۔ مہنگائی اور بیروزگاری کا خاتمہ ہوتا اور پاکستان کو کشکول لے کے آئی ایم ایف جیسے اداروں کے پاس نہ جانا پڑتا ۔ اگر حکومت پاکستان کی وعدہ خلافیاں اسی طرح جاری رہیں تو وہ وقت دور نہیں جب غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا نام سن کے ہی کانوں کو ہاتھ لگانا شروع کردیں گے ۔

789
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...