سمندروں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے نفع کا باعث بنایا ہے، یہ انسان کے لیے خوراک کا عظیم ذریعہ ہے ،اسے انسان نے زمانہء قدیم سے اپنے لیے راستے کے طور پر استعمال کیا اور طویل راستے مختصر کیے۔ جو ممالک سمندر کے کنارے واقع ہیں ان کی بندرگاہیں ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں پاکستان بھی ان خوش قسمت ممالک میں شامل ہے جسے اللہ نے اس نعمت سے نوازا ہواہے جو تجارتی مال کی ترسیل کے ساتھ ساتھ اپنے سمندر سے دوسرے فوائد بھی حاصل کررہاہے۔سندھ کے ساحلوں پر رہنے والی ایک بڑی آبادی مچھیروں پر مشتمل ہے ۔بڑے تاجروں کے علاوہ چھوٹے مچھیرے بھی ہیں جوصرف اتنی مقدار میں مچھلی پکڑ لیتے ہیں جس میں سے کچھ تو خود کھا لیتے ہیں اور کچھ بیچ کر اپنی دیگر ضروریات زندگی پوری کر لیتے ہیں۔ یہ مچھیرے سمندر میں ایک مقررہ حد یعنی پاکستانی سرحدوں کے اندر اندر سے اپنی ضروریات پوری کر لیتے ہیں لیکن چونکہ سمندر کے اندر کوئی ایسی ٹھوس نشانی نہیں ہوتی جس سے بین الاقوامی سرحد کی یقینی پابندی ہو سکے اور اسی لیے یہ مچھیرے بسا اوقات بھارت کی سمندری حدود میں داخل ہوجاتے ہیں یہی حال بھارتی مچھیروں کا ہے کہ وہ پاکستانی حدود میں آجاتے ہیں دونوں طرف کے مچھیرے گرفتار تو ہوجاتے ہیں لیکن پھر حکومتیں ان کا تبادلہ کر لیتی ہیں اور یہ اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں۔ کبھی کبھار انہیں کشتیوں میں کچھ سمگلر کشتیاں بھی شامل ہوجاتی ہیں جن کے ساتھ قانون کے مطابق معاملہ کر لیا جاتا ہے۔ لیکن بھارت کسی بھی ایسے موقعے کی تلاش میں رہتا ہے کہ پاکستان کو کسی نہ کسی بہانے بدنام کیا جائے خشکی کی سرحدوں پر تو وہ اکثر حملہ آور ہو تا رہتا ہے اور بے گناہ پاکستانی شہریوں کو بھی نہیں بخشتا اور پھر پاکستان پر پہل کا الزام لگا دیتا ہے۔ ہمارے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں اس کی مداخلت اور موجودگی بھی دہشت گردی میں اس کے ہاتھ کا پتہ دیتی ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ اپنے ہاں ہونے والے ہر واقعے کا ذمہ دار وہ پاکستان اور آئی ایس آئی کو ٹھہرا دیتا ہے اور اکثر ایسے پروگرام اپنے ہاں بھی سٹیج کرتارہتا ہے۔ ممبئی حملے اور سمجھوتہ ٹرین جیسے واقعات کے بعد اس نے بحیرہء عرب میں ایک کشتی کو دھماکے سے اڑادیا اور نئی کہانی پیش کی کہ یہ کشتی لشکر طیبہ کی تھی یاد رہے کہ بھارت کے مطابق لشکر طیبہ کو بھارت میں تخریب کاری کے لیے پاکستان کی حمایت حاصل ہے لہٰذا ایک طرح سے بھارت نے اسے پاکستان کی طرف سے ریاستی دہشت گردی قرار دیا ۔پاکستان کی وزارت خارجہ نے اسے سختی سے مسترد کیا اور اسے بھارت کی طرف سے ایک لغو پروپیگنڈا قرار دیا۔ پاکستان کی طرف سے رد عمل کو تو ظاہر ہے کہ آنا ہی تھا لیکن خوش قسمتی سے پاکستان کے موقف کی تائید خود بھارت کے اندر سے ہوگئی اور گانگریس نے اس واقعے پر شک کا اظہار کیا کہ بی جے پی حکومت کی کہانی میں صداقت نظر نہیں آرہی۔ بھارت نے اس کشتی کو گجرات کی پوربندر سے 356 کلومیٹر دور تباہ کیا۔ واقعے کے اڑتالیس گھنٹے بعد بھارتی موقف میں تبدیلی آئی اور اس نے اس کشتی کی ملکیت لشکر طیبہ سے لے کرکچھ چھوٹے سمگلرز کو دے دی اور کہا کہ ہو سکتا ہے کشتی پر کچھ چھوٹے سمگلرز سوار ہوں لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایسی کوئی کشتی تھی بھی یا نہیں کیونکہ بھارتی میڈیا نے اس واقعے کی جو فلم چلائی اس میں کشتی کو آگ لگی ہوئی دکھائی گئی اور کہا کہ کشتی چونکہ چھوٹی تھی اس لیے اس کے ٹکڑے ایسے بکھر گئے کہ نظر ہی نہ آ سکے اور خراب موسم کی وجہ سے بھی ان ٹکڑوں اور ملاحوں کے جسموں کو نہیں دیکھا جا سکا ۔جبکہ موسمیاتی پیشن گوئی کہتی ہے کہ اس دن بحیرہء عرب میں موسم صاف تھا اور ہوا بھی معمول کے مطابق تھی یہ پیش گوئی انٹرنیٹ پر اب بھی دیکھی جا سکتی ہے جو بھارت کے جھوٹ کا پول کھول دیتی ہے۔ بھارت ہر حساس موقعے پر کوئی نہ کوئی ایسا ناٹک ضرور رچاتا ہے اور اس نے اس بار بھی ایسا ہی کیا کہ امریکی صدر اوبامہ جو نہ صرف اس کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک حساس معاملہ تھا سے پہلے اس نے ایک ایسی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کو دہشت گرد بناکر پیش کرے اور خود بھارت امن پسند کہلائے حالانکہ اس کے وزیراعظم کو امریکہ نے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل رکھا تھا اور اس کے نظریات بھارت کے اندر ہر غیر ہندو کے بارے میں اب بھی وہی ہیں جو پہلے تھے اور پاکستان کے بارے میں اپنے جن خیالات کا اظہار وہ وزارت عظمیٰ سے پہلے کرتا تھا اس میں ابھی بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس کا یہ کردار پوری دنیا کے سامنے ہے ۔اس باراوبامہ کے دورے سے پہلے ہماری مشرقی سرحدوں پر جس اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا گیا وہ تو کیا ہی گیا لیکن سمندر میں کھیلے گئے کھیل کے بارے میں اسے خود اپنے ملک میں بھی شرمندگی اٹھانا پڑی کیونکہ وہ اس واقعے کی کوئی تفصیلات نہ تو اپنے میڈیا کو نہ ہی بین الاقوامی میڈیاکو فراہم کر سکا اس کا مقصد صرف پاکستان کو بدنام کرنا تھا ۔وزارت خارجہ نے اس واقعے کی پرزور تردیدکی لیکن اس پر حکومت پاکستان کو سفارتی سطح پر مزید بھی کام کرنا ہوگا تاکہ بھارت بار بار اس قسم کے واقعات کا اعادہ کرکے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا نہ کرے۔ اور دنیا کو یہ بھی بتایا جائے کہ اس طرح کے الزامات اور واقعات سے خطے میں امن وامان کی صورت حال مزید بگڑتی جائے گی جو کسی بھی طرح نہ تو خطے کے لیے بہتر ہے نہ عالمی امن کے لیے۔ بھارت سے تو پہلے بھی خیر سگالی کی کوئی امید نہیں تھی لیکن اب تو ایسا ہونا تقریباً ناممکن نظر آرہاہے اور اسی لیے دنیا کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان ناخوشگوار تعلقات نہ ہی خطے کے اور نہ ہی عالمی امن کے لیے کسی بھی صورت بہتر ہو سکتے ہیں۔ 

704
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...