سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ انتقال کر گئے اللہ ان کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے۔شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزالسعود شاہ عبدالعزیز کے چوتھے بیٹے تھے جو سعودی تخت پر بیٹھے۔ان سے پہلے شاہ فیصل،شاہ خالد اور شاہ فہد یہی فرائض سر انجام دے چکے ہیں جبکہ اب شہزادہ سلیمان بن عبدالعزیز نے سعودی شاہ کا تاج پہنا ہے۔شاہ عبداللہ نے اپنے ملک کی ترقی کے لیے جراتمندانہ اقدامات اٹھائے۔ انہوں تعلیم کے میدان میں انقلا بی انداز میں کام کیانہ صرف اندرون ملک تعلیم کے مواقع فراہم کیے بلکہ نوجوان طلبہ کو بیرون ملک تعلیم کے لیے وظائف جاری کیے اور ایسا نہ صرف طلباء کے لیے کیا گیا بلکہ طالبات کو بھی اس پروگرام کا حصہ بنایا گیا جو ایک خوش آئند بات ہے۔ خواتین کے حقوق اور ترقی کے لیے بھی اقدامات کیے اور انہیں روز گار اور ملازمتوں کی اجازت دی گئی۔صنعتی ترقی پر بھی توجہ دی اور یوں ایک فعال حکمران کا کردار ادا کیا جو یقیناًسعودی عرب کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا ۔سفارتی اور بین الاقوامی معاملات میں بھی سرگرم اور موئثر رہے اور مختلف بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کرتے رہے کچھ کانفرنسوں کا انعقاد بھی کیا جن میں بین المسالک اور بین الادیان ہم آہنگی پر زور دیا گیا۔
سعودی عرب کو عالمِ اسلام میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اس سرزمین کے لیے ہمیشہ خیر و برکت کا باعث ہیں اور تمام عالمِ اسلام اسی بنا پر سعودی عرب کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ سے بہت قریبی رہے ہیں اور حکومتی سطح پر باہمی تعاون کے کئی منصوبے چلتے رہتے ہیں۔اسلام آباد کی خوبصورت فیصل مسجد اس دوستی کی خوبصورت نشانی ہے۔پاک سعودی تعلقات حکومتوں کی تبدیلی کے کبھی بھی محتاج نہیں رہے اور اعتماد کا رشتہ ہمیشہ قائم رہا اور ضرورت کے وقت دونوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ اگر ایک طرف خلیجی جنگ میں سعودی حکومت نے مقاماتِ مقدسہ کی حفاظت کی ذمہ داری پاکستان کے حوالے کی تو دوسری طرف جب بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو سعودی عرب نے پاکستان کی مکمل حمایت کی اور جب پاکستان پر پابندیاں لگائیں گئیں تو سعودی عرب نے پاکستان کو نہ صرف یہ کہ تنہا نہیں چھوڑابلکہ اس کی ہر طرح مدد کی اور معاشی پابندیوں کے اس مرحلے پر پاکستان کو روزانہ پچاس ہزار بیرل تیل دینے کا وعدہ کیا گیا۔ سعودی حکومت نے پاکستان کو ہمیشہ اہم ترین غیر عرب اتحادی کی حیثیت دی اور اس کا ثبوت اُس نے ہر موقع پر دیا۔پاک بھارت جنگوں میں وہ پاکستان کا مضبوط ترین حامی رہا اور کشمیر کے بارے میں بھی پاکستان کے موقف کی ہمیشہ تائید کی اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ اس میں حکومتوں کی کبھی قید نہیں رہی ۔سعودی عرب کی طرف سے جن جذبات کا اظہار پاکستان کے لیے کیا گیا پاکستان نے اس کا جواب ہمیشہ اسی گرم جوشی سے دیا۔پاک فوج سعودی فوج کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے اور اس کے لیے سعودی حکومت نے پاک فوج کو ہی قابلِ اعتبار سمجھاہے۔ پاکستان کا سامانِ حرب بھی سعودی عرب کی فوج کا حصہ بنتا رہتا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں بھی تعاون جاری رہتا ہے۔ تکنیکی میدان میں بھی پاکستان سعودی عرب میں ہمیشہ فعال رہا ہے اور پاکستان کی طرف سے جانے والی افرادی قوت نے بھی سعودی عرب کی ترقی میں اہم قردار ادا کیا ہے اس وقت بھی نو لاکھ پاکستانی وہاں مختلف خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پاک سعودی تعلقات حکومتی سطح پر تو ہمیشہ بہترین رہے ہیں لیکن عوامی سطح پر اس میں کچھ شکایات موجود رہیں جن کا دور ہو جانا بہت ضروری ہے پاکستان اور سعودی عرب دو اہم ترین اسلامی ممالک ہیں اور بہت سے معاملات اور مواقع پر یہ ایک دوسرے کے ساتھی رہے ہیں۔ تاہم پاکستان میں طالبان کی مدد کے سلسلے میں پاکستانیوں کے دل میں شکوک وشبہات ضرور موجود ہیں اور تاثرپایا جاتا ہے کہ سعودی حکومت کی طرف سے ایک خاص مکتبہ ء فکر کو امداد فراہم کی جاتی ہے سعودی حکمرانوں کو اس تاثر کو زائل اور ختم کرنے کے لیے بھی کام کرناہوگااور مذہبی شدت پسندی کو ختم کرنے میں پاکستان کی مدد کرنا ہو گی تاکہ ہم دہشت گردی کو ختم کرنے میں کامیاب ہو سکیں ۔نئے سعودی حکمران شاہ سلیمان بن عبدالعزیز سے پاکستانی یہی توقع کرتے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ ان کے دورِ حکومت میں موجودہ تعلقات مزید بہتر ہونگے اور وہ خادمِ حرمین شریفین کی حیثیت سے عالمِ اسلام کے اتحاد کے لیے کام کریں گے اور عالمِ اسلام جن مسائل سے دو چار ہے اور نااتفاقی کے جس دور سے گزر رہا ہے آگے بڑھ کر اسے ختم کرنے کی عملی کوشش کریں گے۔ اسلام کے مرکز کے حکمران ہونے کی حیثیت سے عالمِ اسلام کی رہنمائی کریں گے اور خاص کر اسلامی سربراہی کانفرنس کو اتنا فعال اور موئثر ضرور کریں گے کہ یہ عالمی سطح پر عالمِ اسلام اور اسلام کا اُس طرح دفاع ضرور کر سکے جیسے اہل مغرب اپنا کرتے ہیں۔ اگر شاہ سلیمان نیک نیتی سے آگے بڑھیں گے تو یقیناًاللہ بھی ان کی مدد کرے گا اور عالمِ اسلام کی دعائیں ان کی راہیں آسان کرتی رہیں گی۔ 

737
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...