دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے پاکستان جو متحرک، سرگرم اور نتیجہ خیز کردار ادا کر رہا ہے وہ حالیہ دنوں میں نمایاں ہو کر ساری دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔ 16 دسمبر کو جب پشاور میں دہشت گردو ں نے سکول کے بچوں کے خون سے ہولی کھیلی تو اہل وطن کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا۔ حکومت نے رائے عامہ کے جذبات اور ردعمل کا احساس کرتے ہوئے بجا طور پر عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان فکری اور عملی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے حقیقت پسندانہ اور دوراندیشی پر مبنی اقدامات کیے۔ ایک طرف تو ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کی قیادت کو آل پارٹیز کانفرنس میں اکٹھا کرکے ان سے مشاورت کی گئی اور دوسری طرف عسکری قیادت سے کہا گیا کہ وہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے تذویراتی اور عسکری تناظر میں اپنا کردار ادا کرے۔ اسی فیصلے کے تحت پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا دورہ کیا اور افغان قیادت کو صورت حال کی سنگینی کا احساس دلایا۔ بعدازاں جب امریکی وزیرخارجہ جان کیری مختصر دورے پر اسلام آباد آئے تو ان کو بھی جی ایچ کیو میں مدعو کرکے ان اقدامات کے بارے میں اعتماد میں لیا گیا جو دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کے لئے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
جنرل راحیل شریف نے حال ہی میں برطانیہ کا 3 روزہ دورہ بھی کیا جس کے دوران انہوں نے نہ صرف برطانوی حکومت اور رائے عامہ کو دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے کی جانے والی پاکستانی کوششوں کے بارے میں حقائق سے آگاہ کیا بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ ان کے فکر انگیز خیالات اور معروضی تجزیہ جات کو عالمی میڈیا میں خاطر خواہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ لندن میں تھینک ٹینک آئی آئی ا یس ایس سے خطاب کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے نیشنل ایکشن پلان ایک جامع طویل المدت اسٹرٹیجی ہے، تمام دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے کوئی فیورٹ نہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن ضرب عضب میں بڑی پیشرفت ہو رہی ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے اور ہم خطہ کے استحکام کیلئے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کو خطہ کے پائیدار امن و استحکام کیلئے حل ہونا چاہیے۔ پاکستان امن چاہتا ہے مگر عزت و وقار کے ساتھ۔ دنیا کو ہمارے ماحول کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ شمالی وزیرستان ایجنسی سے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی واپسی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ دنیا کوئی آئی ڈی پیز کی باوقار دوبارہ آبادکاری میں مدد دینی چاہئے۔ برطانیہ کے ساتھ سکیورٹی اور سماجی شعبہ میں ہمارے تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 
جمعہ کے روز لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے جتنے اقدامات کیے اس کے نتیجے میں دنیا پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ نہیں کر سکتی بلکہ پاکستان کو عالمی برادری ڈومور کا مطالبہ کرنا چاہئے، دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے اور سیاسی پارٹیوں نے متحد ہو کر حکومت کو مینڈیٹ دیا ہے کہ وہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرے، بلوچستان کے عسکریت پسندوں کو مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے، ملک دشمن عناصر کو پاکستان کے حوالے کیا جانا چاہئے، بھارتی اشتعال انگیزی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام پر پوری قوم کا اتفاق ہے اور جب قومیں متحد ہو جاتی ہیں تو پھر ان کے سامنے کوئی ٹھہرتا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن اس حد تک کامیاب ہو رہا ہے کہ اب ہم عوام کو مکمل تحفظ دینے کے قابل ہو رہے ہیں جبکہ دہشت گرد پسپا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج جو آپریشن کر رہی ہے وہ پاکستان کی آئندہ نسلوں کومحفوظ بنانے کے لیے ہے۔ پاکستان کے بعض دشمن یہاں (برطانیہ میں)بھی بیٹھے ہوئے ہیں جو بلوچستان میں گڑ بڑ کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں یورپ میں بیٹھے ہوئے پاکستان کے دشمنوں کو پاکستان واپس بھیجا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت مغربی سرحدوں پر دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ ایسے میں بھارت کی جانب سے مشرقی سرحدوں پر گڑ بڑ کرنا انتہائی تشویشناک بات ہے۔ خاص طور پر بھارت نے رینجرز کے دو اہلکاروں کو مار کر شہید کرکے سارے سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے جنرل راحیل شریف کے دورہ برطانیہ کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی سول اور فوجی قیادت کے ساتھ سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ برطانیہ کے ساتھ عسکری تعاون پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ آئی ڈی پیز کی مرحلہ وار باعزت واپسی کا اعلان کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے شمالی وزیرستان میں باقاعدہ ایک انفراسٹرکچر بنایا جائے گا۔شمالی وزیرستان کے زیادہ تر علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔
جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مغرب میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی وجہ سے پاکستان کے عوام اور دنیا بھر کے مسلمانوں میں غصے ہے اور ان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔اس حوالے سے حکومت پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ صرف چند دہشت گردوں کی کارروائی کو اسلام کے ساتھ نہ جوڑا جائے اور نہ ہی مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا جائے۔ پاکستانی فوج نے طالبان کے خلاف کارروائی شروع کر رکھی ہے۔
دریں اثناء اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لئے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیر صدارت بین الوزارتی اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے ہیں جن کے تحت دس کروڑ غیر قانونی سموں کی 85 روز میں تصدیق کرانے کا حکم جاری کیا گیا ہے، مقررہ مدت کے بعد غیر قانونی سموں کی فروخت قابل دست اندازی جرم ہوگی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی کو بنیادی سطح پر ختم کرنے کے لئے تمام غیر قانونی دس کروڑ سموں کی 85 روز میں تصدیق کرائی جائے گی اور گرے ٹریفک کو روکنے کے لئے سخت اقدامات ہونگے، دہشت گردی میں ملوث افراد، تنظیموں اور این جی اوز کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد اور مالیاتی لین دین پر مکمل پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ بھی طے کیا گیا کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا کام تیزی سے مکمل کیا جائے گا تاکہ انہیں واپس بھیجنے کے لئے ان کے کیمپوں میں منتقل کیا جا سکے۔
اجلاس میں دہشت گردوں کے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے پیغامات جاری کرنے کی ممانعت کے لئے پی ٹی اے، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور انٹرنیشنل مانیٹرز کے تعاون سے تمام قابل اعتراض ویب سائٹس اور میسجنگ سروسز کو فوری طور پر بند اور بلاک کر دیا جائے گا، اس ضمن میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ضروری کارروائی کی ہدایات جاری کر دی گئیں، افغان باشندوں کے بینک اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کا بھی فیصلہ کیا گیا اور اس ضمن میں وزارت خزانہ، ایف آئی اے، انٹیلی ایجنسیوں کے تعاون سے افغان باشندوں کے مالیاتی لین دین کی جانچ پڑتال کا میکنزم طے کرے گی اور تمام مشتبہ اکاؤنٹس کی نیکٹا کے ذریعے سکیننگ کروائی جائے گی، دہشت گردوں کی سہولت کاری سے منسلک ہر قسم کی تجارتی سرگرمیاں اور بینک اکاؤنٹس فوری طور پر بند کر دیئے جائیں گے، اس ضمن میں تمام قانونی ضابطے جلد سے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وفاقی وزیرداخلہ کی زیر صدارت اجلاس میں کالعدم تنظیموں کی طرف سے دوسرے ناموں سے کام کرنے کے معاملے پر تفصیلی غور کرکے یہ فیصلہ کیا گیا کہ کالعدم اور دوسرے ناموں سے کام کرنے والی ممنوعہ تنظیموں کے نیٹ ورک اور خفیہ سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے لئے ڈیٹا بینک قائم کیا جائے گا اور ایسی تمام تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی شروع کی جائے۔ اسلام آباد اور قرب و جوار میں غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی نشاندہی کے لئے سی ڈی اے کو پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ایک ہفتے میں جامع پلان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی جس کے بعد اسلام آباد کے غیر قانونی افغان مہاجرین کو ان کے کیمپوں میں منتقل کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں حساس قومی تنصیبات کے قریب تمام غیر قانونی بستیاں اور عمارتیں گرا دی جائیں ۔ اجلاس میں بعض دینی مدارس کے انتہا پسندی میں ملوث ہونے اور دہشت گردوں کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے بھی غور و خوض کیا گیا۔ ان فیصلوں اور اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کے ریاستی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور یہ وہ طاقت ہے جو دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دے گی۔

880
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...