مسلمان سو رہا ہے اور ایک بار پھر اُس کی عزت سے کھیل لیا گیا اور توہین آمیز خاکے شائع کیے گئے اور ایسا اب کی بار فرانس کے اخبار چارلی ہیبڈو نے کیا ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا گیا ہو ایسے ہی خاکے پہلے ناروے میں بھی شائع ہو چکے ہیں اور نہ یہ ایک واحد انداز ہے جس سے مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی ہو۔ نعوذبااللہ’’ برن دی قرآن‘‘ جیسے باقاعدہ قسم کے پروگرام بھی بنائے اور چلائے گئے ظاہر ہے ایسے واقعات پر مسلمان کا اشتعال میں آجانا ایک نہایت ہی قدرتی امر ہے۔ ایک مسلمان اپنی جان سے بڑھ کر ،اپنی عزت سے کہیں زیادہ اپنے مال سے بہت آگے بڑھ کر حتیٰ کہ اپنے ماں باپ اور اپنی اولاد سے بھی زیادہ کہ جس سے بڑھ کر کچھ عزیز نہیں لیکن اپنے نبیﷺ کو اس سے بھی بڑھ کر عزیز رکھتے ہیں ۔یہ عشق یہ محبت ان کے ایمان کا حصہ ہے اور یہی وجہ ہوئی کہ مسلمانوں نے اس اخبار پر حملہ کیا ظاہر ہے دہشت گردی کا جواب تو دینا ہی پڑتا ہے جس چیز کو مسلمانوں نے دہشت گردی سمجھا اس پر ان کا ردعمل آیا اور جس کو فرانسیسی حکومت نے دہشت گردی سمجھا اس پر ان کا ردعمل آیا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ دہشت گردی کی ابتدا ء کس نے کی ظاہر ہے اس اخبار نے جس نے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی اور انہیں اُکسایا کہ وہ اپنا شدید ردعمل دکھائیں لہٰذا ایسا ہی ہوا اور کچھ حملہ آوروں نے اخبار کے دفتر پر حملہ کرکے کسی بے گناہ کو نقصان پہنچائے بغیر قصورواروں کو نشانہ بنایا۔ صرف بارہ افراد مرے لیکن یوں لگا جیسے پورے یورپ میں زلزلہ آگیا ہو بلکہ دنیا ہل گئی ہو۔ چالیس ممالک کے سربراہان ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اس واقعے کے خلاف اکٹھے ہو گئے کندھے سے کندھا ملاکر اس کی مذمت کرتے رہے اسے دہشت گردی قرار دیتے رہے لیکن اس کی وجوہات پر کوئی غور نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس پر بات کی گئی۔ مادر پدر آزاد اس معاشرے نے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا اسے اظہار رائے کی آزادی کے خلاف کہا اور انتہائی افسوس کا مقام یہ ہے کہ مسلمان حکمران سوتے رہے بلکہ کچھ نے تو جاکر یورپی حکمرانوں کے ساتھ مل کر مظاہرہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق جامعہ الازہر نے بھی اس حملے کی مذمت کی لیکن یورپ کے اپنے نبیﷺ کے بارے میں رویے کی مذمت کرنا بھول گیا۔ یورپ اور مغرب جس دیدہ دلیری سے مسلمانوں، اسلام اور حتیٰ کہ ہمارے پیارے نبیﷺ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا ہے وہ بذات خود اعلان جنگ کے برابر ہے اور یہ رویہ نہ تو نیا ہے اور نہ ہی محض اظہار رائے کی آزادی ،بلکہ یہ مسلمانوں کے خلاف ایک مکمل منصوبہ بندی ہے وہ خود کو تو اظہار رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے لیکن مسلمانوں کے لیے اس کے معیار بدل جاتے ہیں ورنہ ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ آزادی عمل کا حق بھی دے۔ لیکن یہاں کمزوری مسلمانوں کی اپنی بھی ہے یورپی صلیبی جنگوں سے لیکر آج تک مسلمانوں کے خلاف ہر منصوبے میں ایک دوسرے کے شریک کار بن جاتے ہیں، صلیب کے نام پر اکٹھے ہو جاتے ہیں اور پھر مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کا عمل اپنے اوپر جائز کر لیتے ہیں۔ یہی کچھ اس نے صلیبی جنگوں میں کیا اور یہی کچھ نیٹو کے نام پر بھی کیا عراق پر حملہ کیا تو آپس کے اختلافات بھلادیئے افغانستان پر بم برسائے تو پورا مغرب اس جرم میں شریک ہوا اور اب فرانس میں اپنے جرم کا دفاع کرنے کی ضرورت پیش آئی تو پھر یکجان۔ لیکن دوسری طرف ہم مسلمان آپس میں ہی دست و گریبان رہتے ہیں ہم مسلک و فرقہ کی تفریق سے فرصت پالیں تو اکٹھے ہوں اور مغرب کی گستاخی اور ڈھٹائی کا جواب دیں۔ اخبار چارلی ہیبڈو نے یہ منحوس اور توہین آمیز خاکے چھاپے اور اس پر حملہ ہوا تو خیر سگالی کے طور پر کئی دوسرے یورپی اخباروں نے انہیں دوبارہ شائع کیا اور خود اسی ملعون اخبار نے جس نے پہلے تیس ہزار پرچے نکالے ایک بار پھر انہی خاکوں کو لاکھوں کی تعداد میں شائع کیا تب یورپ کو کوئی قانون کوئی ضابطہ اخلاق یاد نہیں آیا۔ فرانس یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان آبادی والا ملک ہے مسلمان ممالک کو بات بات پر انسانی حقوق کی یاد دلانے والا یورپ اس وقت ایک ارب مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے اور پھر وہ یہ توقع کرتا ہے کہ مسلمان احتجاج بھی نہ کر یں وہ مسلمانوں کو کس طرح پابند کر سکتے ہیں کہ ان کے احتجاج کا انداز کیسا ہو یہ احتجاج اخبار پر حملہ یا دوبارہ حملہ یاباربار حملہ بھی ہو سکتا ہے اگر مغرب اپنی چند ہلاکتوں کا انتقام لینے کے لیے مسلمان ملکوں پر بموں کی بارش کرسکتا ہے تو مسلمانوں کو بھی یہ حق حاصل ہے اور جبکہ مغرب جانتا بھی ہے کہ مسلمان اپنی جان اپنے مال اپنی اولاد کی جان کی معافی دے سکتا ہے لیکن اپنے نبیﷺ کے بارے میں وہ کسی قسم کا نازیبا لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتا اور نہ اس کی معافی دیتا ہے تو اس کو نتائج کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ اور ان کی حکومتوں کو اس بارے میں اپنے میڈیا اور عوام کو پابند کرنا چاہیے ورنہ جسے وہ دشت گردی کہتا ہے اس دہشت گردی میں اضافہ ہی ہوگا کیوں کہ مسلمان واقعی اپنے رسولﷺ اور دین ومذہب کے بارے میں ہر غلط بات کرنے والے کے لیے شدت پسند ہیں۔ اگر اس نے اس حقیقت کا ادراک نہیں کیا تو اسے ایسے واقعات کے لیے مستقبل میں بھی تیار رہنا چاہیے۔ فرانسیسی صدر نے مذہبوں کے احترام کی بات تو کی لیکن نہ تو اخبار کو سزا دینے کی بات کی نہ کسی جرمانے کی۔ پوپ فرانسس نے بھی کچھ ایسا ہی بیان دیا لیکن کسی پابندی یا سزا کا مشورہ نہیں دیا ضرورت بیانات کی نہیں عملی اقدامات کی ہے جس کے لیے تمام مسلمان ملکوں کو متحد ہونا ہوگا لیکن افسوس تو یہی ہے جیسا کہ میں نے شروع میں کہا کہ مسلمان سورہا ہے اور اوآئی سی تو کسی بہت ہی گہری نیند میں ہے نام کو مسلمانوں کی یہ نمائندہ تنظیم ا س قدر غیر فعال ہے کہ ساری مسلمان آبادی بھی سڑکوں پر نکل آئے یہاں ہل جل نہیں ہوتی ۔پاکستانیوں سے بھی درخواست ہے کہ اپنی سڑکیں بند کرنے ، اپنے عوام کو مصیبت میں ڈالنے اور اپنی املاک کو نقصان پہنچانے کی بجائے ٹھوس قسم کا احتجاج کریں ہم جس فخر سے ان ممالک کی روایات اپنارہے ہیں انہیں چھوڑ دیں، ان کی مصنوعات استعمال نہ کریں فرانس کی خوشبو لگانے میں فخر محسوس نہ کریں اپنی مٹی کے پیالے کو ان کے سونے کے جاموں سے بہتر سمجھیں تاکہ انہیں احساس ہو کہ مسلمان اپنے نبیﷺ اور دین کی خاطر اپنا آرام قربان کرسکتے ہیں کاش کہ ہم ایسا کر سکیں اور حکومتی اور عوامی دونوں سطحوں پر انہیں مجبور کر سکیں کہ آئندہ وہ کوئی ایسی حرکت کرتے ہوئے ہزار بار سوچیں اور پھر رُک جائیں۔ اگر یورپ صحافتی دہشت گردی کو اظہار رائے کی آزادی کا نام دیتا ہے تو مسلمان حکومتوں کو انہیں یہ پیغام پہنچادینا چاہیے کہ پھر وہ مسلمان عوام کو آزادی عمل سے نہیں روک سکیں گے۔

1,002
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...