کچھ ادارے یا کچھ لوگ کسی ملک کی پہچان ہوتے ہیں اور ان پر ممالک فخر کرتے ہیں۔پاکستان ایک زرخیز ملک ہے جو انسانی اور قدرتی وسائل سے بھرپور ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہی اس کو خدا نے بہترین دماغوں سے بھی نوازا ہواہے۔اور ایسے ہی کچھ دماغ جب آپس میں ملے اور ملک کی بہتری کے لیے کوشاں ہوئے تو پاک فوج کا ادارہ آئی ایس آئی وجود میں آیا اور بلاشبہ پاکستان کی پہچان بنا۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ آئی ایس آئی نے پاکستان کے لیے عظیم ترین اور بہترین خدمات سرانجام دیں اور ہر محاذ پر ملک کا دفاع کیا اکیلے اس نے سی آئی اے،را اور موساد کی تمام چالوں کا مقابلہ کیا اور فتح مند ہوا۔اور یہی وجہ ہے کہ اب یہ ادارہ تمام پاکستان مخالف قوتوں کی آنکھ کا کانٹا بنا ہوا ہے۔بات دراصل یہ ہے کہ یہ قوتیں جو اسلام اور پاکستان کی مخالف ہیں آئی ایس آئی سے خوفزدہ ہیں اور امریکہ سے لیکر اسرائیل تک اور بھارت سے لیکربھارت تک نواز کرزئی تک سب اسکی صلاحیتوں سے آشنا ہیں۔امریکہ بھارت کے ساتھ جوہری معاہدہ کرتا ہے تو اسے پاکستان کے لیے خطرہ قرار نہیں دیتا بھارت اور اسرائیل کے ایٹم بم بھی دنیا کے امن لیے بہت ضروری ہیں اور ان کے انٹیلیجنس ادارے اور جاسوسی نظام بھی لیکن پاکستان کو اپنے دفاع کے حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔بات تو دراصل یہ ہے کہ یہ تمام ممالک اور ادارے پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان دہشت گردی کے تنور میں جل رہا ہے اور یہ تنور بھی انہی طاقتوں کا دھکایا ہوا ہے۔اندرونی طور پر ہمیں مسلسل مسائل میں مبتلائ رکھ کرہمارے معاشرتی اور سیاسی نظام کو کمزور کیا جا رہا ہے اور بیرونی طور پر ہمارے اداروں کے خلاف مسلسل منفی پروپیگنڈا جاری رکھ کر ہمیں دنیا میں بدنام کیا جا رہا ہے تاکہ دنیا کو ہمارے خلاف کیا جا سکے اور یوں ہمارے جوہری اثاثوں تک پہنچ بھی آسان ہوجائے گی اور خاکم بدہن ہماری شہ رگ آسانی سے کاٹی جا سکے گی اور انتہائی خطے میں واقع پاکستان محض ایک طفیلی ملک بن کر رہ جائے گا اور یہاں سے اپنے اہداف تک رسائی بھی امریکہ کے لے آسان ہوجائے گی۔امریکہ، اسرائیل، بھارت اور ان کے اداروں سی آئی،را، موساد اور یہاں تک کہ خاد کے تمام کارناموں کی خبر یہی آئی ایس ٓئی رکھتی ہے ۔ زندہ اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ اپنے سے کئی گنا زیادہ بجٹ رکھنے والے سی آئی اے کے آگے یہی آئی ایس آئی ڈھال کے طرح تنا ہوا ہے اس کا ہر وار روک کر کھڑا ہے دراصل امریکہ اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گذر رہا ہے اور جھوٹے نگوں کی اس ریزہ کاری کے پیچھے حقیقت یہ ہے کہ امریکھ اس وقت 9.4 کھرب ڈالر کا قرضدار ہے۔صدر بش اپنی ناکامیوں چاہے یہ جنگی ہوں ،معاشی ہوں یا معاشرتی سے اپنے عوام کی توجہ کسی اور طرف مبذول کرنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی وہ اس خطے میں اپنی موجودگی کا جواز بھی قائم رکھنا چاہتا ہے۔چونکہ ان دشمن طاقتوںکو اس بات کا علم ہے کہ ایٹمی طاقت اور آئی ایس آئی ان کا راستہ روکے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے آئے دن ان کے خلاف بیانات داغ دیئے جاتے ہیں۔کبھی ایٹم بم کو خطرہ لاحق کر دیا جاتاہے اور طالبان کے ہاتھ لگنے کا شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے کبھی ایف سی اور فوج میں طالبان دوستی کے جراثیم نظر آجاتے ہیں اور اب آئی ایس آئی میں طالبان کے ہمدرد عناصر کا انکشاف ہوگیا ہے معلوم نہیں کیا ہمیں فوج ،آئی ایس آئی،ایف سی اور ایسے ہی حساس اداروں میں امریکی بھرتی کرلینے چاہیں جن پر امریکہ آنکھیں بند کر کے اعتماد کر سکے پھر وہ سمجھے گا کہ اب سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے پھر شاید do more کا مطالبہ تھم جائے ورنہ ھل من مزید کا یہ مطالبہ جاری رہے گا نہ ہی دہشت گردی رکے گی اور نہ ہی خودکش دھماکے انسانی جانوں کی بھینٹ لینا بند کریں گے لیکن مقام شکر اور فخر یہ ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود نہ تو قوم کا حوصلہ پست ہوا نہ فوج کا اور نہ ہی آئی ایس آئی نے اپنے کام سے غفلت برتی ہے۔پاکستان سے وفاداری اِن لوگوں اور اداروں کا فرض بھی ہے اس ملک سے محبت کا تقاضہ بھی یہی اور اس ہوا میں سانس لینے کا قرض بھی جو یہ سب ادا کر رہے ہیں۔اس قوم کا قصور یہ ہے کہ یہ مسلمان ہے ایٹمی قوت ہے اپنی زمین سے وفادار ہے اور اپنے دشمنوں کے آگے ڈٹ سکتی ہے یہی سب کچھ فوج اور آئی ایس آئی کرتی ہے جس کے لیے اسے قصوروار قرار دیا جاتا ہے۔لیکن اگر یہی سب کچھ امریکہ اور اسکے حواری کردیں تو اسے حب الوطنی قرار دیا جاتا ہے۔اب یہ قوتیں اگر یہ تسلیم کر لیں کہ نہ تو اسامہ ادھر ہے نہ ایمن الظواہری۔نہ ہی پاکستان افغانستان کے حالات کے لیے ذمہ دار ہے وہاں ناکامی خود امریکہ کی نااہلی ہے۔ایساف اور نیٹو پاکستان پر شک کرنے کی بجائے اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لیں کیونکہ افغانستان کے لیے وہ خود ذمہ دار ہے پاکستان اس صورت حال کے لیے جوابدہ نہیں ہے اور نہ ہے افغانستان میں اُسے یہ ذمہ داری پاکستان نے تفویض کی ہے بلکہ پاکستان تو ان اثرات سے بری طرح متاثر ہے اس لیے پاک فوج کو حالات کا ذمہ دار ٹھرانے کی بجائے امریکہ ا گر اپنی پالیسی بدل دے یا یہاں سے نکل جائے تو یہ اس کی سلامتی کے حق میں زیادہ بہتر ہوگا ورنہ آئی ایس آئی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے اپنی صلاحیتیں آزمانا ہی پڑیں گی میرے خیال میں امریکہ اور تمام دنیا پاکستان کی صلاحیتوں سے آشنا ہے کہ سپر پاور روس کا اس نے جس دلیری سے مقابلہ کیا اور اس کا جغرافیہ بدلا وہ اس کی ہمت کا ثبوت بھی ہے اور تاریخ بھی۔اور اسے اگر اس تاریخ کو دہرانا پڑے تو شاید دنیا میں کسی بھی سپر پاور کا وجود ہی نہ رہے۔

2,134
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...