پاکستان ہماری آرزوں اور امید کا مرکز محبتوں کا امین پنجابی پٹھان سندھی اور بلوچی کا پاکستان مجبوروں اور بے گھروں کا گھر پاکستان جب بوسنیا کے یتیم بچے پاکستان لائے گئے تھے تو میری والدہ نے کہا خدا پاکستان کی حفاظت کرے تاکہ یہ دنیا کے ہر بے بس مسلمان کو پناہ دیتا رہے۔ پاکستان پر اچھے برے دور آتے رہے ہر نئے آنے والے حکمران نے کہا کہ پچھلے حکمرانوں نے ملک کو نازک موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا ہے یا ملک اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ یہ بات پچھلے باسٹھ سال میں لاتعداد بار کہی گئی لیکن خدا کا شکر ہے کہ مشکل اور ابتلائ کا دور گزرتا رہا اور ایسا محسوس ہوتا رہا کہ جیسے ساری باتیں صرف ایک ڈراوا ہی تھیں اگرچہ مجھے اپنے رب سے پوری امید ہے کہ اب بھی یہ وقت گزر جائے گا اور پاکستان محفوظ و مامون رہے گا یہ انشائ اللہ قائم رہے گا۔ میں نا امید نہیں ہوں اور نہ ہی میرے اللہ کو ناامیدی پسند ہے لیکن یہ ایک سچائی ہے کہ واقعی پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ کئی حادثے کئی سانحے روزانہ جنم لیتے ہیں اور بہت سے خاندان اجڑ جاتے ہیں ملک کی بدنامی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے آخر یہ سب کیا ہے۔ کیا اس ملک سے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھنے والے اٹھ گئے کیا مسلمان اپنے دین و ایمان میں پختہ نہ رہے کچھ تو ہوا ہے جس کی وجہ سے ملک میں انتشار ہے ہم نے دین کو مذاق بنالیا ہے ہر ایک اسکی اپنی تشریح کر رہا ہے ہر شخص دو چار خطبے سن کر یا زیادہ سے زیادہ ایک دو کتابیں پڑھ کر خود کو مفتی اور عالم سمجھ رہا ہے ۔ جبکہ خود اسکا کردار اس محدود علم کا بھی عکاس نہیں ہوتا جو اس نے حاصل کیا ہوتا ہے۔
دوسری طرف ایک اور ماجرا ہے یعنی لبرل انتہا پسندی جدت پسندی نے بے حیائی اور مادر پدر آزادی کی صورت اختیار کر لی ہے۔ یہ دوسرا گروہ مذہب پر عمل کو قدامت پرستی خیال کر رہا ہے جبکہ مذہب اسلام تو ہر زمانے میں جدید ہے خواتین کے لباس نوجوان لڑکوں کے انداز انکی زلفیں اوپر سے SMS پر غیر اخلاقی لطائف غرض آوے کا آوا ہی بگڑتا جا رہاہے۔ ہماری ثقافت ہمارے لئے باعث شرم ٹھہری اور اغیار کی تہذیب کو ہم لائے ہیں گھرمیں۔
اپنی تہذیب کے ہم قاتل ہیں تو پھر گلہ کیسا لیکن بات یہ ہے کہ اب بھی اس ملک میں اکثریت میانہ رو ہے۔ جدیدیت میں بے قابو مناظر حقیقی زندگی میں کم ہی کم نظر آئیں گے لیکن ایک اسلامی معاشرے میں یہ تعداد و تناسب بھی بہت زیادہ ہے ہم نے پاکستان بقول قائد اعظم اسلامی اصولوں پر عمل کرنے کے لئے حاصل کیا تھا اور ہم نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا تھا کہ ہم پاکستان کو ایک اسلامی مملکت بنائیں گے لیکن جانے کیوں ہم آج ایسا کہتے ہوئے گھبراتے اور شرماتے ہیں اور تو اور پنٹ شرٹ پہننا ہی باعث عزت ہے اور شلوار قمیض پہننے والا گنوار سمجھا جاتا ہے۔ خواتین اور نوجوان لڑکیاں عشوہ و عمزہ انداز و ادا کیا کیا کچھ سر عام لے کر پھرتی ہیں۔ اب تک صرف مخصوص خواتین ہی جینز پہن لیتی تھیں یہاں تک ٹی وی پر بھی یہ لباس کم کم ہی نظر آتا تھا لیکن اب تو بازار خواتین کی جینز سے بھرے نظر آتے ہیں اب ذرا تعلیمی اداروں کی طرف آئیے استاد معاشرے کے لئے رول ماڈل ہوتا ہے لیکن ان کا لباس بھی دکھی کر دینے کی حد تک بیہودہ ہوتا ہے جو ان کا جسم ڈھانپنے سے قاصر ہوتا ہے۔ ظاہر ہے پھر طالبعلم تو قصور وار گردانا بھی نہیں جاسکتا۔ جو سکول اور کالج کو کیٹ واک کا سٹیج تصور کرتا ہے مختلف Days کے نام پر ایک الگ مصیبت کھڑی ہے خاص کر ویلنٹائن ڈے کو نوجوان نسل کو اخلاق کی حدود سے نیچے لانے کے لئے منایا جاتا ہے۔ اب جس معاشرے میں یہ سب کچھ ہو رہا ہو تو اس کے لئے کس کو قصور وار گردانا جائے خدا ہمارے ملک پر رحم کرے ان لوگوں کے لئے جو ہر وقت اس ملک کے لئے دعا گو رہتے ہیں اور جو یقینا اکثریت میں ہیں لیکن طاقت ان کے ہاتھ میں نہیں ہے دوسری طرف سیاست کے نام پر ایک الگ بازار گرم ہے ہر کوئی اپنی دکان چمکارہا ہے ملکی مفادات کہیں بہت پیچھے چھوڑ دئیے جاتے ہیں اور اقتدار اور طاقت کی جنگ ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتی اور کھینچا تانی میں ملک کا جو حال ہورہا ہے وہ سبھی کے سامنے ہے۔ اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی انہی حالات کا ری ایکشن ہے ورنہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ پہلے بھی اسلامی اصول معاشرت پر کار بند تھے اور اب بھی ہیں اگرچہ نام نہاد روشن خیال اور لبرل اسلام کو بھی مسلط کیا گیا اسلام نہ سخت گیر ہے اور نہ اسے لبرل یا روشن خیال بنانے کی کوشش کی ضوابط اتنے مکمل اور جامع ہیں کہ اسمیں کسی اصلاح کی نہ ضرورت ہے نہ گنجائش اور نہ ہی یہ جائز ہے۔ جو لوگ اسے اجتہاد کے ساتھ ملاتے ہیں سرا سر غلط کرتے ہیں۔اگر یہ مان لیا جائے ﴿جو کہ بہت حد تک درست ہے﴾ کہ مذہبی انتہا پسندی نام نہاد لبرل ازم کے نام پر بے حیائی کا ری ایکشن ہے تو کیا ایک برائی ختم کرنے کے لئے دوسری برائی کا ارتکاب ضروری ہے اسلام دنیا کو چھوڑ دینے کا ہر گز حامی نہیں وہ تمام دنیا سے تعلقات رکھتا ہے اور دین میں کوئی زبردستی بھی نہیں ورنہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شاہان وقت کو تبلیغی خطوط نہ لکھتے بلکہ ان پر حملہ کر دیتے اور انہیں بزور شمشیر مسلمان کرتے لیکن جب کسی نے اشتعال انگیزی نہ کی تو اس پر کوئی زبردستی نہ کی گئی۔ مقوقس نے اسلام قبول نہ کیا لیکن تحفے تحائف بھجوائے تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبول کیا۔ اسلئے جو اسلام کو رہبانیت بنانے پر تلے ہوئے ہیں وہ بھی مہربانی کر کے اسلام کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اسلام تو دوسرے مسلمان بلکہ انسان کی جان کو حرام قرار دیتا ہے پھر کیسے مسلمان ، مسلمان کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔
اپنے اعمال پر نظر ڈالئے اور پھر ملکی حالات پر تو کیا ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہم پر ہمارے اعمال مسلط کر رہا ہے۔ بل بورڈز پر، میڈیا پر، اپنے گرد و نواح پر نظر ڈالیں تو کیا آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ آپ اللہ کے سچے دین کے پیرو کار ہیں۔ آپ خود کو عالم اور مفتی کہنے والوں کے اعمال پر اور کرتوت پر نظر ڈالیں تو کیا آپ ایسا محسوس نہیں کرتے کہ علم کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ میں نے جب قلم اٹھایا تو ارادہ تھاآج میں خدا تعالیٰ سے شکوہ کروں گی کہ آخر کیوں ہم پر یہ حالات مسلط کئے جارہے ہیں لیکن جوں جوں میں لکھتی گئی تو اپنے اعمال سامنے آتے گئے اور بجائے شکوے کے ندامت سے میرا سر جھکتا گیا اور یہ سچ میرے سامنے آتا گیا کہ خدا ان قوموں کی حالت ہر گز نہیں بدلتا جو اپنی حالت خود نہ بدلیں۔

2,163
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...