حکومت یا کوئی نجی ادارہ بھی کسی آسامی کا اعلان کر دے تو امیدواروں کی قطاروں کی قطاریں لگ جاتی ہیں مطلوبہ تعلیم میٹرک ہوتی ہے لیکن قطاروں میں بیشتر افراد کے ہاتھوں میں بی اے کی ڈگریاں ہوتی ہیں، پانچ سو امیدواروں میں سے چار سو نوے پچانوے نوجوان ناکام و نامراد کسی اور دروازے پر جا کھڑے ہو جاتے ہیں اور یوں یہ سلسلہ چلتارہتا ہے۔ کچھ خوش قسمت تو پانچ دس ٹھوکروں کے بعد کسی ٹھکانے لگ جاتے ہیں کچھ نا امید ہو کر ریڑھا چھا بڑی لگا لیتے ہیں ، کچھ کسی سمگلر کے جرائم میں شامل ہو جاتے ہیں اور کچھ نوکری کی تلاش میں کسی دہشت گرد تنظیم سے منسلک ہو جاتے ہیں اور یہ پانچ سو امید وار نوکری لگ جاتے ہیں اور ہماری حکومتیں بے روز گاری کم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں کون کس نوکری پر لگا اس کی پرواہ انہیں نہیں۔ انہیں تو وہ پاکستان نظر آتا ہے جو صدر ، وزیراعظم ، وزرائے اعلیٰ، وزیروں اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کے محلوں کے اندر ہوتا ہے یا قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی شاندارعمارتوں میں۔ جبکہ پاکستان وہ ہے جو اِن ساری عمارتوں کے باہر ہے جن کے رہنے والے لاکھوں کی گھڑیاں اور لباس زیب تن کرتے ہیں اور پرس کے اندر تو خیر کتنی رقم ہوگی خود پرس کی کی قیمت بھی صرف دس بیس لاکھ ہوتی ہے ۔ جہاں احساس کا یہ عالم ہو وہاں عوام کا دکھ کتنا ہوگا اور پھر یہی حکمران عوام کے خادم ہونے کا دعویٰ ببانگ دہل کرتے ہیں اور جب کوئی زندگی کے مصائب سے ہارا ہوا انسان خود کشی کر لیتا ہے تو اُس کے گھر والوں کو اس کی زندگی کی قیمت دو تین لاکھ روپے ادا کر کے عوامی حکمران بن جاتا ہے اور ایم ایس اور ایم اے کئے ہوئے نوجوان جو کسی دہشت گرد تنظیم سے وابستہ ہونے کی سوچ رہے ہیں اور کچھ ایسا کر چکے ہیں وہ کسی توجہ کے مستحق نہیں کیونکہ ابھی وہ زندہ ہیں اور دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ بن کر ان کے منصوبہ ساز یا آلہء کار بن سکتے ہیں یعنی بے روز گار تو نہیں رہیں گے ۔ تعلیم کو عام کیا جانا یقیناًضروری ہے لیکن تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ہم ملک میں دہشت گردی کا رونا تو روتے ہیں اور اس نے معیشت کو جو نقصان پہنچایا ہے اُس کا تذکرہ بھی کرتے ہیں لیکن اس کے عوامل میں سے بہت سے عوامل سے صرف نظر کر جاتے ہیں جن میں ایک بے روز گاری بھی ہے ۔ یہ دہشت گردی صرف طالبان کی صورت میں نہیں ہو رہی بلکہ بھتہ خوری، اغوابرائے تاوان، گاڑی چوری، ڈکیتیوں اور مختلف صورتوں میں معاشرے کو گھن کی طرح کھا رہی ہے ۔ حکومت چاہے مرکزی ہو یا صوبائی سب اپنی اپنی کامیابیوں کے گن گا رہی ہیں جب کہ عوام بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں۔ ایک گھر جس میں بھوک کا پیٹ بھرنے کے لیے صبح سے شام تک محنت ہو لیکن بھوک نہ مٹائی جا سکے اس گھر کے دو چار بچے اگر دہشت گردی کے بارے میں سوچنے لگیں تو کچھ انہونا بھی نہیں ہوتا اور اگر والدین ایک دو کو نان نفقے کے لالچ میں ایسے مدرسوں کے حوالے کر دیں جو دینی تعلیم سے زیادہ اپنے دوسرے مقاصد کے حصول میں مصروف ہوں تو پھر کچھ بعید نہیں کہ یہ بچے خود کش دھماکوں میں استعمال ہوں اور ہماری حکومتیں اسی دہشت گردی سے نجات حاصل کرنے کے لیے بڑی طاقتوں کے آگے امداد کے لیے ہاتھ پھیلائیں اور یہ طاقتیں امداد ہی کے نام پر ملک میں داخل ہوں لیکن کریں وہ جو وہ چاہیں ۔ اپنے این جی اوز کو اتنا پھیلادیں کہ وہ ہماری نبض پر اپنی گرفت مضبوط کر لیں یہی این جی اوز امداد کے نام پر ہمارے دیہات اور شہروں میں اس قدر پھیل چکے ہیں کہ ان کی حکومتوں کو اپنا ایجنڈا پورا کرنے کے لیے کسی اور ذریعے کی ضرورت بہت کم رہتی ہے۔ سی آئی اے ، را اور دوسری ایجنسیوں اور حکومتوں کے کارندے سب اپنا کام بڑے سکون اور اطمینان سے کر رہے ہیں اور ہماری حکومتیں خوش ہیں کہ ان کے حصے کا کام ہو رہا ہے یعنی امداد اور روز گار دونوں لوگوں کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ حکومتیں بیرونی امداد سے ملک چلانے کے لیے جواز بھی پا رہی ہیں اور اپنی شاہ خرچیاں بھی اس امداد سے پوری کر رہی ہیں اور اپنے مال جائیداد اور کارخانوں کی تعداد میں اضافہ بھی کر رہی ہیں ۔ اگر ہمارے سیاستدان اپنے جلسوں اور تقریبات پر کروڑوں لگا کر ایک وقت کا کھانا شرکاء کو کھلا کر جو خرچہ کر رہے ہیں اُسی سے اِن بے روز گاروں کے لیے روز گار کے زیادہ نہیں کچھ کچھ مواقع فراہم کرتے رہیں تو تھوڑا تھوڑا بہت ہو کر کچھ نہ کچھ ہو جائے گا اور ہم بیرونی امداد با الفاظ دیگر ’’بھیک ‘‘کی لعنت سے نجات پا سکیں گے۔ہمارے نوجوان اگر تعمیری سرگرمیوں میں مصروف ہو جائیں تو ہمیں خودکش دھما کوں کے بعد جائے وقوعہ سے نوجوان سر ملنا بھی بند ہو جائیں۔ دہشت گردی اور دوسرے مسائل کا مقابلہ ہم اب بھی کر رہے ہیں لیکن صرف اپنے فوجی جوانوں کے خون سے جو اِن دہشت گردوں کے مقابلے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے چاہے اپنی جان دے دیں یا ان کی لے لیں لیکن جب تک جڑیں نہ کاٹیں جائیں یہ جھاڑیاں یونہی اگتی رہیں گی اور ملک کو تباہ کرتی رہیں گی لہٰذا ضرورت جڑیں کاٹنے کی ہے۔ 
مسائل کے حل اور ان سے نجات کے راستے بہت ہیں لیکن اگر ہمارے حکمران اور اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے بڑے بڑے دماغ اور منصوبہ ساز اپنی عیاشیوں اور بد عنوانیوں سے باز آکر اِن کے حل کے لیے کوئی منصوبہ بندی کریں اور ا پنے ذاتی مفادات کو بھول کر قومی مفاد کے لیے کام کریں، کارخانے اپنے لیے لگائیں لیکن اپنے ملک میں اور دوسروں کو بھی یہی ترغیب دیں تو ہم بھی اقوام عالم میں کسی باعزت مقام کے مستحق ہو سکتے ہیں شرط صرف ایک ہے خلوص نیت اور خلوص عمل۔

918
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...